حکایت نمبر 158: دنیا مصائب کا گھر ہے

حضرت سیدناعبداللہ بن صالح عجلی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں:” بنی شیبان کے ایک شخص نے مجھے بتایاکہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایاـ:” تمام تعریفیں اللہ عزوجل کیلئے ہیں میں اسی کی حمد بیان کرتا ہوں اور اسی سے مددمانگتا ہوں ، اس پر ایمان لاتاہوں اور اسی پر بھروسہ کرتا ہوں ،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عزوجل کے سواکوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اسکا کوئی شریک نہیں ۔اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کے خاص بندے اور رسول ہیں۔ اللہ عزوجل نے انہیں ہدایتِ کامل اور دینِ حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، تا کہ اس کے ذریعے وہ تمہاری بیماریوں کو دور فرمائے اور تمہیں غفلت کی نیند سے بیدار کرے۔ یا د رکھو ! تم مرنے والے ہواور تمہیں موت کے بعد دو بارہ اٹھایا جائے گا ۔ تمہیں تمہارے اعمال سے آگاہ کیاجائے گا اور ان کا بدلہ دیا جائے گا۔ لہٰذا تمہیں دنیا کی زندگی کسی طرح دھوکے میں نہ ڈالے ۔
یہ دنیا مصیبتوں میں گھِرا ہوا گھر ہے ۔ اور ہر شخص جانتا ہے کہ اس نے فنا ہو جانا ہے ۔ یہ دھوکے کا گھر ہے ۔ اس میں جو کچھ ہے زوال پذیر ہے ۔ یہ کبھی ایک کے پاس ہے تو کبھی دوسرے کے پاس۔اس میں آنے والا کبھی بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں رہ سکتا اس میں رہنے والے خود کو خوشحال اور مسر ور سمجھتے ہیں مگر اس سوچ کی وجہ سے وہ مصیبت اورد ھوکہ میں پڑجاتے ہیں ۔ دنیوی خوشحالی دائمی نہیں ہوتی ۔ اس کے رہنے والوں میں سے ہر ایک کی موت کا وقت معین ہے ۔
اے اللہ عزوجل کے بندو ! یاد رکھو :اس نیرنگی دنیا میں تم جن گزرے ہوئے لوگو ں کی پیروی کر رہے ہو ان کی عمر یں تمہاری بنسبت بہت زیاہ تھیں ۔ ان کے گھر تمہارے گھروں سے زیادہ آباد تھے۔ وہ تم سے زیادہ طاقتور تھے ۔ دور دور تک ان کا رُعب و دبدبہ تھا ، مگر اب ان کی آواز یں بند ہوگئیں ،ان کے جسم بوسیدہ ہوگئے ،گھر ویران اور خالی ہوگئے ۔ ان کا نام ونشان تک مٹ گیا ۔ ان کے وہ بلند و بالا محلات جن کی بنیادیں بہت مضبوط تھیں،اب پتھروں ،سِلوں اور ریت میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
اب جو لوگ یہاںآکر بسے ہیں وہ سابقہ لوگوں کوجانتے تک نہیں،اسی طرح سابقہ لوگوں کے لئے یہ نئے مکین اجنبی ہیں۔ وہ اپنے قرب وجوار اور گھر کے قریب رہنے والوں کے ساتھ ایسا تعلق نہیں رکھتے جو پڑوسیوں کا پڑوسیوں اور بھائیوں کا بھائیو ں کے ساتھ ہونا چا ہے ۔ اب ان کے درمیان تعلق ہو بھی کیسے؟ جبکہ بوسیدگی نے انہیں خوراک بنا کر ہلاک کر دیا ہے ۔ اور ان پر چٹانوں اور مٹی نے سایہ کیا ہوا ہے ؟ زندگی کے بعد موت نے انہیں آلیا،اپنے تئیں عمدہ اور خوشحا ل زندگی گزار نے کے بعد اب وہ فنا کے گھاٹ اتر گئے ۔ ان کی وجہ سے ان کے دوست واحباب مصیبت میں مبتلاہوگئے ، انہوں نے مٹی کو اپنا مسکن بنالیا اور دنیا سے کوچ کر گئے ۔ وہاں قبروں میں ان کے لئے یہ دنیوی نعمتیں ہوں گا ۔ ہائے افسوس ! ہائے افسوس ! پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قران پاک کی یہ آیت تلاوت فرمائی:

کَلَّا ؕ اِنَّہَا کَلِمَۃٌ ہُوَقَآئِلُہَا ؕ وَ مِنْ وَّ رَآئِہِمۡ بَرْزَخٌ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوۡنَ ﴿100﴾

ترجمہ کنزالایمان:ہشت یہ تو ایک بات ہے جووہ اپنے منھ سے کہتا ہے اور اُن کے آگے ایک آڑہے اس دن تک جس میں اٹھائے جائیں گے ۔(پ18، المؤمنون :100)

گویا تم بھی انہی کی طرح ہوگئے جس طر ح وہ قبر میں تنہا اور بوسیدہ ہوگئے ۔ اور تمیں بھی اس خواب گاہ (یعنی قبر ) میں رکھا جائے گا۔ تو اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب اعمال انتہاکو پہنچ چکے ہونگے ، قبروں کو الٹ پلٹ کردیا جا ئیگا، جو کچھ سینوں میں چھپا تھا وہ سامنے آ جائے گا۔پھر تمہیں حساب کتاب کے لئے مالک حقیقی عزوجل کے سامنے کھڑے کیا جائے گا، جوکہ بہت جلال والا ہے ۔ سابقہ گناہوں کے خوف کے باعث تمہارے دل تھر تھر کانپ رہے ہوں گے۔ پھر تمہارے عیوب اور راز ظاہر ہوجائیں گے۔ وہاں ہر ایک اپنے کئے کی جزا پائے گا ۔”

(اللہ عزوجل ہمیں اور تمہیں اپنی کتاب(یعنی قرآن پاک) پر عمل کرنے والا ،اور اولیاء کرام کی اتباع کرنے والا بنائے ۔ یہاں تک ہم اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائیں۔ یقینا ہماراپروردگار عزوجل تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے ۔)(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)