حدیث نمبر :356

روایت ہے حضرت مروان اصفر سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمرکو دیکھا کہ انہوں نے اپنی سواری قبلہ رخ بٹھالی پھر بیٹھ کر اس کی جانب پیشاب کرنے لگے ۲؎ میں نے کہا اے ابوعبدالرحمان کیا اس کی ممانعت نہیں ہے۳؎ فرمایا کہ اس سے جنگل میں منع کیا گیا ہے مگر جب تمہارے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز آڑکرے تو کوئی مضائقہ نہیں۴؎ (ابوداؤد)

شرح

۱؎ آپ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے غلام ہیں،تابعی ہیں،آپ سے ایک دو حدیثیں مروی ہیں۔

۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ واقعہ جنگل کا ہے،جیسا کہ جواب سے معلوم ہورہا ہے،نیز جنگل ہی میں سواری پر بیٹھا جاتا ہے۔

۳؎ اس سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ عام صحابہ اورتابعین میں یہی مشہور تھا کہ مطلقًا قبلہ رو پیشاب پاخانہ کرنا منع ہے،تب ہی تو اس تابعی کو حضرت ابن عمر کے اس فعل پر تعجب ہوا،لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔

۴؎ یہ حضرت ابن عمر کا اجتہادی فتویٰ ہے۔یہ جنگل اوربستی کا فرق حدیث مرفوع میں نہیں اور اس فتوےٰ کی وجہ یہ ہے جو اسی باب میں پہلے گزر چکی ہے،ہم وہاں ہی اس پرمکمل گفتگو کرچکے ہیں۔