أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَتَبَـيَّـنُوۡا وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ اَ لۡقٰٓى اِلَيۡكُمُ السَّلٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنًا‌ ۚ تَبۡـتَـغُوۡنَ عَرَضَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا فَعِنۡدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِيۡرَةٌ‌ ؕ كَذٰلِكَ كُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ فَتَبَـيَّـنُوۡا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرًا ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے جاؤ تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور جو تم کو سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے ‘ تم دنیاوی زندگی کا سامان طلب کرتے ہو ‘ تو اللہ کے پاس بہت غنیمتیں ہیں ‘ اس سے پہلے تم بھی اسی طرح تھے پھر اللہ نے تم پر احسان فرمایا سو تم خوب تحقیق کرلیا کرو ‘ بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کی خبر رکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے جاؤ تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور جو تم کو سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے ‘ تم دنیاوی زندگی کا سامان طلب کرتے ہو ‘ تو اللہ کے پاس بہت غنیمتیں ہیں ‘ اس سے پہلے تم بھی اسی طرح تھے پھر اللہ نے تم پر احسان فرمایا سو تم خوب تحقیق کرلیا کرو۔ (النساء : ٩٤) 

سلام کرنے والے کو قتل نہ کرنے کے متعلق احادیث : 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن ابی حدرد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک جماعت کے ساتھ اضم (مکہ اور یمامہ کے درمیان ایک مقام) روانہ کیا اس جماعت میں ابو قتادہ بن ربعی اور محلم بن جثامہ بھی تھے ‘ ہم روانہ ہوگئے حتی کہ جب اضم میں پہنچ گئے تو ہمارے پاس سے عامر اشجعی کا گزرا تو اس نے ہم کو سلام کیا ‘ ہم نے اس کو کچھ نہیں کہا اور محلم بن جثامہ نے اس پر حملہ کر کے اس کو قتل کردیا اور اس کا اونٹ اور اس کا سامان چھین لیا۔ جب ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ بیان کیا تو ہمارے متعلق قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی : اے والو جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے جاؤ تو خوب تحقیق کرلیا کرو اور تم کو سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے۔ الآیہ (النساء : ٩٤) (مسنداحمد ج ٩‘ رقم الحدیث ٢٣٩٢٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٤) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ بنو سلیم کا ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کے پاس سے بکریاں چراتے ہوئے گزرا اس نے سلام کیا ‘ صحابہ نے کہا اس نے صرف اپنی جان بچانے کے لیے ہم کو سلام کیا ہے انہوں نے اس کو پکڑ کر قتل کردیا ‘ اور اس کی بکریاں لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے اس موقع پر یہ آیت (النساء : ٩٤) نازل ہوئی (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٥٩١‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٠٢٥‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٩٧٤‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٠٤١ سنن کبری للنسائی ‘ رقم الحدیث : ١١١١٦‘ مسند احمد ‘ رقم الحدیث : ٢٠٢٣‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٧٥٢‘ المستدرک ج ٢ ص ٢٩٢٠‘ سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ١١٥) 

امام ابن جریر طبری نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ یہ آیت قبیلہ غطفان کے ایک شخص مرداس کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غالب لیثی کی قیادت میں ایک لشکر فدک کی طرف روانہ کیا ان کو وہاں مرداس ‘ غطفان کے لوگوں کا ساتھ ملا ‘ مرداس کے ساتھی بھاگ گئے ‘ مرداس نے کہا بخدا میں مومن ہوں اور میں تمہارا پیچھا نہیں کررہا تھا ‘ پھر صبح کو سواروں کی ایک جماعت آئی مرداس نے ان کو سلام کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے اس کو قتل کردیا اور اس کا مال و متاع لوٹ لیا اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (جامع البیان ج ٤ ص ٣٠٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) 

احکام شرعیہ کا مدار صرف ظاہر پر ہے۔ 

قرآن مجید کی اس آیت اور اس کے شان نزول میں جو احادیث ذکر کی گئی ہیں ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں احکام شرعیہ کا مدار صرف ظاہر حال پر ہے اور کسی شخص کے باطن کو ٹٹولنے سے ہم کو منع کیا گیا ہے اور دل کے حال کو جاننا انسانوں کا منصب نہیں ہے ‘ یہ صرف اللہ عزوجل کی شان ہے جو علام الغیوب ہے اور کسی شخص کے متعلق بدگمانی کرکے اس کو قتل کرنا ممنوع ہے اس سے پہلے ہم صحیح مسلم کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں کہ حضرت اسامہ نے ایک شخص کو کلمہ پڑھنے کے بعد اس خیال سے قتل کردیا تھا کہ شاید اس نے جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہت ناراض ہوئے ‘ آپ نے حضرت اسامہ سے اس شخص کے قصاص لینے کا حکم نہیں دیا ‘ اور مذکور الصدر احادیث میں جن صحابہ نے ایک شخص کو سلام کرنے کے بعد قتل کردیا تھا آپ نے ان کو بھی قصاص میں قتل کرنے کا حکم نہیں دیا کیونکہ اول تو یہ ابتداء اسلام کے واقعات ہیں ثانیا یہ کہ انہوں نے تاویل سے قتل کیا تھا ‘ البتہ اس آیت کے نازل کے بعد اور اس کا حکم معلوم ہونے کے بعد جس نے کسی کے متعلق بدگمانی کرکے اس کو قتل کردیا اس سے قصاص لیا جائے گا ‘ بہرحال اس آیت سے فقہ کا یہ عظیم ضابطہ معلوم ہوا کہ احکام شرعیہ کا مدار صرف ظاہر حال پر ہے۔ 

نیز اس آیت میں یہ بھی تصریح ہے کہ مسلمانوں کا جہاد سے مقصود صرف اللہ کے دین کی سربلندی ہونا چاہیے اور مال غنیمت حاصل کرنا ان کا مطمح نظر نہیں ہونا چاہیے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 94