وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ- وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَؕ-ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ(۸۳)

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو (ف۱۳۴) اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں سے اور لوگوں سے اچھی بات کہو (ف۱۳۵) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو پھر تم پھِر گئے (ف۱۳۶) مگر تم میں کے تھوڑے (ف۱۳۷) اور تم رو گرداں ہو (ف۱۳۸)

(ف134)

اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم فرمانے کے بعد والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی خدمت بہت ضروری ہے والدین کے ساتھ بھلائی کے یہ معنٰی ہے کہ ایسی کوئی بات نہ کہے اور ایسا کوئی کام نہ کرے جس سے انہیں ایذا ہو اور اپنے بدن و مال سے ان کی خدمت میں دریغ نہ کرے جب انہیں ضرورت ہو ان کے پاس حاضر رہے مسئلہ: اگر والدین اپنی خدمت کے لئے نوافل چھوڑنے کا حکم دیں تو چھوڑ دے ان کی خدمت نفل سے مقدم ہے ۔ مسئلہ: واجبات والدین کے حکم سے ترک نہیں کیے جاسکتے والدین کے ساتھ احسان کے طریقے جو احادیث سے ثابت ہیں یہ ہیں کہ تہ دل سے ان کے ساتھ محبت رکھے رفتار و گفتار میں نشست و برخاست میں ادب لازم جانے ان کی شان میں تعظیم کے لفظ کہے ان کو راضی کرنے کی سعی کرتا رہے اپنے نفیس مال کو ان سے نہ بچائے ان کے مرنے کے بعد ان کی وصیتیں جاری کرے ان کے لئے فاتحہ صدقات تلاوت قرآن سے ایصال ثواب کرے اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت کی دعا کرے، ہفتہ وار ان کی قبر کی زیارت کرے۔(فتح العزیز) والدین کے ساتھ بھلائی کرنے میں یہ بھی داخل ہے کہ اگر وہ گناہوں کے عادی ہوں یا کسی بدمذہبی میں گرفتار ہوں تو ان کو بہ نرمی اصلاح و تقوٰی اور عقیدہ حقہ کی طرف لانے کی کوشش کرتا رہا۔(خازن)

(ف135)

اچھی بات سے مراد نیکیوں کی ترغیب اور بدیوں سے روکنا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ معنی یہ ہیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں حق اور سچ بات کہو اگر کوئی دریافت کرے تو حضور کے کمالات و اوصاف سچائی کے ساتھ بیان کردو۔ آپ کی خوبیاں نہ چھپاؤ ۔

(ف136)

عہد کے بعد ۔

(ف137)

جو ایمان لے آئے مثل حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب کے انہوں نے تو عہد پورا کیا۔

(ف138)

اور تمہاری قوم کی عادت ہی اعراض کرنا اور عہد سے پھر جانا ہے۔

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ(۸۴)

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ اپنوں کا خون نہ کرنا اور اپنوں کو اپنی بستیوں سے نہ نکالنا پھر تم نے اس کا اقرار کیا اور تم گواہ ہو

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ٘-تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِؕ-وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْؕ-اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍۚ-فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِؕ-وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ(۸۵)

پھر یہ جو تم ہو اپنوں کو قتل کرنے لگے اور اپنے میں ایک گروہ کو ان کے وطن سے نکالتے ہو ان پر مدد دیتے ہو (ان کے مخالف کو) گناہ اور زیادتی میں اور اگر وہ قیدی ہو کر تمہارے پاس آئیں توبدلا دے کر چھڑا لیتے ہو اور ان کا نکالنا تم پر حرام ہے (ف۱۳۹) تو کیا خدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے اور کچھ سے انکار کرتے ہو تو جو تم میں ایسا کرے اس کا بدلہ کیا ہے مگر یہ کہ دنیا میں رسوا ہو (ف۱۴۰) اور قیامت میں سخت تر عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے اور اللہ تمہارےکوتکوں (بُرے کاموں)سے بے خبر نہیں (ف۱۴۱)

(ف139)

شانِ نُزول : توریت میں بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا تھا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کریں وطن سے نہ نکالیں اور جو بنی اسرائیل کسی کی قید میں ہو اس کو مال دے کر چھڑالیں اس عہد پر انہوں نے اقرار بھی کیا اپنے نفس پر شاہد بھی ہوئے لیکن قائم نہ رہے اور اس سے پھر گئے صورت واقعہ یہ ہے کہ نواح مدینہ میں یہود کے دو فرقے بنی قُرَیْظَہ اور بنی نُضَیْر سکونت رکھتے تھے اور مدینہ شریف میں دو فرقے اَوْس و خَزْرَج ْرہتے تھے بنی قریظہ اوس کے حلیف تھے اور بنی نضیر خزرج کے یعنی ہر ایک قبیلہ نے اپنے حلیف کے ساتھ قسما قسمی کی تھی کہ اگر ہم میں سے کسی پر کوئی حملہ آور ہو تو دوسرا اس کی مدد کرے گا اوس اور خرزج باہم جنگ کرتے تھے بنی قریظہ اوس کی اور بنی نضیر خزرج کی مدد کے لئے آتے تھے اور حلیف کے ساتھ ہو کر آپس میں ایک دوسرے پر تلوار چلاتے تھے بنی قریظہ بنی نضیر کو اور وہ بنی قریظہ کو قتل کرتے تھے اور انکے گھر ویران کردیتے تھے انہیں ان کے مساکین سے نکال دیتے تھے لیکن جب انکی قوم کے لوگوں کو ان کے حلیف قید کرتے تھے تو وہ ان کو مال دے کر چھڑالیتے تھے مثلا ً اگر بنی نضیر کا کوئی شخص اوس کے ہاتھ میں گرفتار ہوتا تو بنی قریظہ اوس کو مالی معاوضہ دے کر اس کو چھڑا لیتے باوجود یکہ اگر وہی شخص لڑائی کے وقت انکے موقعہ پر آجاتا تو اس کے قتل میں ہر گز دریغ نہ کرتے اس فعل پر ملامت کی جاتی ہے کہ جب تم نے اپنوں کی خونریزی نہ کرنے ان کو بستیوں سے نہ نکالنے ان کے اسیروں کو چھڑانے کا عہد کیا تھا اس کے کیا معنی کہ قتل و اخراج میں تو درگزر نہ کرواور گرفتار ہوجائیں۔ تو چھڑاتے پھر و عہد میں سے کچھ ماننا اور کچھ نہ ماننا کیامعنی رکھتا ہے ۔ جب تم قتل و اخراج سے باز نہ رہے تو تم نے عہد شکنی کی اور حرام کے مرتکب ہوئے اور اس کو حلال جان کر کافر ہوگئے،مسئلہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ ظلم و حرام پر امداد کرنا بھی حرام ہے مسئلہ:یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام قطعی کو حلال جاننا کفر ہے۔مسئلہ :یہ بھی معلوم ہوا کہ کتاب الہی کے ایک حکم کا نہ ماننا بھی ساری کتاب کا نہ ماننا اور کفر ہے فائدہ اس میں یہ تنبیہ بھی ہے کہ جب احکام الہی میں سے بعض کا ماننا بعض کا نہ ماننا کفر ہوا تو یہود کا حضرت سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کرنے کے ساتھ حضرت موسٰی علیہ السلام کی نبوت کو ماننا کفر سے نہیں بچاسکتا۔

(ف140)

دنیا میں تو یہ رسوائی ہوئی کہ بنی قریظہ ۳ ہجری میں مارے گئے ایک روز میں ا ن کے سات سو آدمی قتل کیے گئے تھے اور بنی نضیر اس سے پہلے ہی جلا وطن کردیئے گئے’ حلیفوں کی خاطر عہد الہی کی مخالفت کا یہ وبال تھا مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی طرفداری میں دین کی مخالفت کرنا علاوہ اخروی عذاب کے دنیا میں بھی ذلت و رسوائی کا باعث ہوتاہے ۔

(ف141)

اس میں جیسی نافرمانوں کے وعید شیدید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے افعال سے بے خبر نہیں ہے ،تمہاری نافر مانیوں پر عذاب شدید فرمائے گا ایسے ہی اس آیت میں مؤمنین و صالحین کے لئے مثرہ ہے کہ انہیں اعمال حسنہ کی بہترین جزاء ملے گی (تفسیر کبیر)

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ٘-فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠(۸۶)

یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی مول لی تو نہ ان پر سے عذاب ہلکا اور نہ ان کی مدد کی جائے