سؤال:

گوٹ فارمنگ کا کیا حکم ہے ؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی):

بعد الحمد و الصلاۃ علی النبی الحبیب صلی اللہ علیہ وسلم

قبل إس سے کہ ہم گوٹ فارمنگ کا حکم شرعی بیان کریں وضاحت کرنا چاہوں گا کہ گوٹ فارمنگ کیا ہے أور إس میں شراکت کا طریقہ کیا ہے ؟

گوٹ فارمنگ کیا ہے؟

گوٹ فارمنگ بکریوں پر مشتمل إیک مشترکہ کاروبار کا نام ہے جو مختلف لوگوں کے درمیان باہمی رضا مندی سے طے پاتا ہے.

گوٹ فارمنگ بزنس میں شریک کیسے ہوتے ہیں؟

ابھی میرےپاس گو بگ ٹریڈ کا إیک معاہدہ جو 09/08/2018 کو طے پایا تھا موجود ہے،

إس پہ کچھ قواعد و ضوابط لکھے ہوئے ہیں أن میں سے أہم درج ذیل میں ذکر کرتا ہوں:

نمبر 1 :

آپکو گوٹ ٹو گوٹس میں باقاعدہ ممبرشپ حاصل کرنی ہوتی ہے ، یعنی آپکو متعلقہ ادارے میں جاکر یا أنکی ہدایات کے مطابق إیک معاہدے پہ سائن کرنا ہوتے ہیں جس میں 15 بکریوں کی مالیت أور أنکی دیکھ بال کے أخراجات کے ساتھ رقم فکس کردی جاتی ہے ، أور أن 15 بکریوں کے بدلے 30 بکریوں کی مالیت منافع لگاکر آپکا منافع رقم کی صورت میں فکس کردیا جاتا ہے پھر أسکو پھر لاگت و منافع کو ملاکر 18 ماہ کے حساب سے روزانہ کا جتنا نفع بنتا ہے وہ آپکے أکاونٹس میں جمع کردیا جاتاہے کہ جیسے ہی آپکے 18 ماہ مکمل ہونگے أس کمپنی پر آپکے کوئی بقایا جات نہیں رہیں گے.

فرضی مثال سے سمجھیں :

آپ نے گو بگ ٹریڈ کو 15 بکریوں کی مالیت 5 لاکھ أدا کی ، أور ساتھ أن بکریوں کے گھاس وغیرہ کے اخراجات ملاکر آپ نے 6 لاکھ أدا کردیے ، أور وہ کمپنی آپکو 30 بکریوں کا منافع مالیت کی شکل میں فکس کردے گی أسی وقت مثلا گوٹ ٹو گوٹس نے أپکی لاگت و منافع ملاکر 14 لاکھ فکس کردیے جو آپکو ملنے ہیں ہر صورت میں ، أور یہ پیسے روزانہ کے حساب سے آپکے أکاونٹس میں ٹرانسفر ہوتے رہیں گے، أور یہ سارا کچھ معاہدے میں فکس ہوتا ہے.

نمبر 2 : آپ کو آن لائن أکاونٹ بنانا ہوتا ہے جس میں آپکو أپنی ضروری معلومات فراہم کرنی ہوتی ہے.

نمںر 3 : آپکو یہ فارم آن لائن میسر ہوگا جسکی فیس 300 روپے ہے.

نمبر 4: ممبر بننے کے بعد آپکو أس ادارے کے سینیئر ممبر یا ہیلپ لائن سے ٹریننگ حاصل کرنی ہوتی ہے.

نمبر 5 : لین دین بنک یا کسی مستند ادارے کے ذریعے ہوگا نقدی صورت میں نہیں.

نمبر 6 : آپکو أپکے منافع کی تفصیل کے متعلق بذریعہ أیس أیم أیس یا ایمیل کے ذرہعے أپڈیٹ کردیا جاتا ہے، أگر نہ ہو تو آپ لاگن کرکے أپنے أکاونٹس سے ڈیٹیل چیک کرسکتے ہیں.

نمبر 7 : بکریوں کی خریداری پر 3 یا 4 ماہ لگ سکتے ہیں لیکن منافع أور لاگت پہلے دن ہی سے ملنا شروع ہوجائے گی.

نمبر 8 : ممبرز بکری یا بکرے کا گوشت أور بکری کا دودھ مارکیٹ سے سستے داموں خرید سکتا ہے جسکی معلومات ہیلپ لائن سے لی جاسکتی ہے.

نمبر 9 : أگر کوئی دو سے زائد بچے جنتی ہے تو أسے بطور بونس 7000 یا 9000 تک دیا سکتا ہے لیکن یہ ادارہ اگر نہ دے تو أس پہ کسی قسم کا مطالبے حق ممبرز کو نہیں ہوگا.

یہ معاہدہ تقریبآ 3 صفحات پر مشتمل ہوتا ہے ،

جس میں إیک پیج پرپرائس لکھی ہوتی ہے أور دوسرے پیج پہ لاگت و منافع کی تفصیل ، أور أن میں سے تیسرا پیج قواعد و ضوابط کا ہوتا ہے جس پر آپ نے نام اور سائن کرنے ہوتے ہیں.

گوٹ فارمنگ کا شرعی حکم کیا ہے؟

إس معاہدے میں درج ذیل موانع شرع ( محظورات شرعی) موجود ہیں:

پہلا مانع شرعی:

بیع مالا یملک ( أیسی شئے کو بیچنا جو آپکی ملکیت میں نہ ہو)

إس معاہدے کے پوائنٹ نمبر 1 پہ غور کریں تو أس میں صاف واضح ہے کہ 15 بکریوں کی قیمت فکس ہے جس میں أب کمی زیادتی نہیں ہوسکتی ، أور پوائنٹ نمبر 7 دیکھیں کہ ادارہ وہ بکریاں 3 سے 4 ماہ میں خریدے گا یعنی معاہدے کے وقت وہ بکریاں ادارے کی ملکیت میں نہیں ہیں تو لہذا وہ ادارہ أن 15 بکریوں کی قیمت فکس کرچکا ہے جنکو أبھی أس نے خریدا نہیں تو جب خریدا نہیں تو وہ أسکی ملکیت میں نہیں آئیں ،لہذا وہ أن 15 بکریوں کو بیچ رہا ہے جو أبھی تک أسکی ملکیت میں نہیں ہیں لہذا جو شئے ملکیت میں نہ ہو أسکو بیچنا منع ہے شریعت میں جیسے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، أور مینے عرض کی : یارسول اللّٰہ! میرے پاس إیک شخص آیا ہے أس نے مجھ کو أیسی شئے بیچنے کو کہا ہے جو میرے پاس نہیں ، میں بازار سے أس کے لیے ( بعد میں) خریدونگا پھر أسکو بیچوں( یعنی بیچتے وقت میرے پاس وہ شئے نہیں ہے)

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” لا تبع مالیس عندک”

ترجمہ:

جو شئے تمہارے پاس نہیں ہے تو أسکو مت بیچ.

( سنن الترمذی ، باب ماجاء فی کراهية بيع ماليس عندك ، حديث نمبر : 1232 ، علامہ مبارکپوری فرماتے ہیں کہ إمام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے . تحفة الأحوذي ، 4/360 )

تو لہذا یہ کمپنی بھی أیسا ہی کررہی ہے کہ وہ أن 15 بکریوں کی قیمت لے رہی ہے جو أسکی ملکیت میں نہیں جس پہ پوائنٹ نمبر7 واضح دلالت کررہا ہے.

اعتراض:

یہ وکالۃ کے تحت جائز ہے ، کیونکہ وہ إدارہ وکیل ہے تو لہذا وکیل کو 15 بکریوں کی قیمت پہلے دینا جائز ہوتا ہے.

رد:

یہ وکالۃ نہیں کیونکہ وکیل پر لازم نہیں ہوتا کہ وہ اتنی قیمت میں ہر حال میں 15 بکریاں خریدے بلکہ أس میں کمی زیادتی ہوسکتی ہے لیکن إس معاہدے میں کمپنی پر لازم ہے کہ وہ معاہدے کے وقت جتنی رقم فکس کرچکی ہے وہی رہے گی أس میں کوئی کمی یا إضافہ نہیں ہوگا تو لہذا یہ عقد بیع ہے نہ کہ وکالۃ ، سو یہ معاہدہ إس مانع شرعی کے پائے جانے کی وجہ سے یہ معاہدہ خلاف شرع ہے.

دوسرا مانع شرعی:

بیع الشیء یتوقع حصوله وعدمه

غرر ہے ، غرر کا مطلب کسی شئے کے ہونے یا نا ہونے میں دونوں احتمال ہوں ، جیسے معاہدے میں ہے کہ کمپنی 30 بکریوں کی لاگت و منافع دے گی شرکت کرنے والوں کو ، حالانکہ وہ پندرہ بکریاں کیا 30 بکریوں کے عدد کو پورا کریں گی؟

کیا ہر بکری 2 دے گی؟ پھر جو بکری 2 دے رہی ہے وہ زندہ بچیں گے بھی یا نہیں؟ وہ 15 بکریوں میں سے کیا ہر بکری زندہ رہے گی یا وہ بچہ جنے گی؟ کیا پتا خدانخواستہ کوئی بکری مرجائے یا پھر پیدا ہونے والا بچہ زندہ نہ رہے؟

یہ سارے احتمالات ہیں تو کیا کمپنی کو یقین ہے کہ 15 کی 15 بکریاں زندہ بھی رہیں گی أور گبھن بھی ہونگی أور دو دو بچے بھی جنیں گی أور پھر وہ سب زندہ بھی رہیں گی؟

پھر جو لاگت لگائی ہے کیا وہی لاگت میں بکری فروخت ہوگی؟

کمپنی کبھی یقیناً نہیں کہ سکتی کیونکہ غیب کی خبر اللہ کو ہے اسکو شریعت میں غرر کہتے ہیں ، أور غرر ممنوع ہے جیسے حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

” نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الحصاة وعن بيع الغرر “

ترجمہ:

حضور صلی الله علیہ وسلم نے بیع حصاۃ أور بیع غرر سے منع فرمایا .

( صحیح مسلم ، باب بطلان بیع الحصاۃ ، والبیع الذی فیه غرر، حدیث نمبر: 1513)

أور إمام نووی فرماتے ہیں:

النهي عن بيع الغرر أصل من أصول الشرع يدخل تحته مسائل كثيرة جدا.

ترجمہ: غرر ( پر مشتمل) بیع کا ممنوع ہونا شریعت کے أصول میں سے إیک أصل ہے جس کے تحت کئی مسائل آتے ہیں.

( المجموع شرح المہذب ، باب النجش۔۔۔۔۔ ، 13/28 )

إس أصول کے تحت آنے والے مسائل میں سے چند إیک درج ذیل ہیں:

-دودھ کو تھنوں میں بیچنا۔ مچھلی کو پانی میں بیچنا ، پرندوں کو ہوا میں بیچنا وغیرہ وغیرہ.

لہذا غرر ہونے کی وجہ سے بھی یہ معاملہ شرع کے خلاف ہے.

تیسرا مانع شرعی:

بيع الحمل

إس میں جو تیس بکریوں کی قیمت لگائی جارہی ہے مطلب 15 موجود ہیں أور جو 30 بکریوں کی لاگت و منافع لگایا گیا ہے وہ موجود نہیں بلکہ أبھی أن بکریوں کے پیٹ میں ہونگی تو أیسا معاملہ جاہلیت کے دور میں بھی تھا جس سے حضور صلی الله علیہ وسلم نے منع فرمایا:

” نهى عن بيع حبل الحبلة ۔۔۔۔الخ”

ترجمہ:

أونٹنی کے پیدا ہونے والے بچے کو بیچنے سے منع فرمایا.

( متفق علیہ ، صحیح بخاری ، حدیث نمبر: 2143 ، صحیح مسلم ، حدیث نمبر: 1514 ، لفظ البخاری)

إس حدیث کی علماء نے دو تفسیریں کی ہیں دونوں ہی صورتوں میں بیع ممنوع ہے ، تو یہ حدیث صراحتاً دلالت کررہی ہے کہ جو پیدا ہی نہیں ہوا أسکو بیچنا شرعا ممنوع ہے تو اس معاہدے میں بھی أن بکریوں کی لاگت و منافع ملایا جارہا ہے جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئیں لہذا شرعاً یہ ممنوع ہیں.

إس حدیث کی وضاحت کے لیے شرح نووی ، عمدۃ القاری کا مطالعہ فرمائیں ، أور نیل الأوطار سے ” باب النھی عن بیوع الغرر” کا مطالعہ فرمائیں.

گوٹ فارمنگ میں أور بھی بہت سے موانع شرعی ہیں جیسے پرافٹ کا پرسنٹیج کے حساب سے نہیں بلکہ پیسوں کی صورت میں فکس ہونا ، پھر نقصان کا ذکر نہ ہونا یا پھر نقصان صرف کمپنی پر ہونا وغیرہ وغیرہ لہذا کسی بھی لحاظ سے یہ معاملہ شرعاً جائز نہیں.

إس گوٹ فارمنگ بزنس کا شرعی حل کیا ہے؟

شرعاً یہ معاملہ مضاربہ کی صورت ہی میں جائز ہوسکتا ہے ،

مثلا إیک شخص پیسے دے کہ إس میں جتنی بکریاں آتی ہیں وہ خرید لیں یا خود ساتھ چلا جائے ، پھر 18 ماہ وہ کمپنی أپنے پاس رکھے ، جب 18 ماہ مکمل ہوجائیں تو أس وقت جتنی بکریاں موجود ہوں أنکا ریٹ لگوا لیا جائے تو جس نے پیسے دیے تھے وہ أن پیسوں کو الگ کرکے باقیوں کو حسب اتفاق تقسیم کرلیں ، أور نقصان پیسے دینے والے پر ہوگا نہ کہ کمپنی پر لیکن أگر نقصان کمنپی کی لا پرواہی کی وجہ سے ہوتا ہے تو پھر کمپنی نقصان پورا کرے گی.

منافع کی شرح شروع میں ہی فکس کرلی جائے پرسنٹیج کے حساب سے یعنی دس پرسنٹ یا بیس پرسنٹ وغیرہ وغیرہ لیکن أگر پیسوں کی شکل میں منافع فکس کیا یعنی دس لاکھ یا دس ہزار وغیرہ دونگا تو پھر جائز نہیں.

یا پھر عقد إجارة وغيره کے تحت جائز ہوسکتا ہے ، کیونکہ وکالۃ بالاجرۃ بھی جائز ہے لیکن مکمل شروط کے ساتھ.

کیونکہ اسی میں دونوں فریق کی بھلائی ہے ، جس أصول کے تحت ابھی گوٹ فارمنگ ہورہی ہے اس میں فریقین أور معاشرے کے لیے کافی نقصانات ہیں کیونکہ اس میں بڑے بڑے سمنگلروں أور سود خوروں کو فائدہ ہے أورمعیشت یکطرفہ بہتر ہوگی نہ كہ دو طرفہ.

(Go Big Trade)

واللہ أعلم.