أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَالُوۡا فِيۡمَ كُنۡتُمۡ‌ؕ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ فِىۡ الۡاَرۡضِ‌ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَا‌ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ‌ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا ۞

ترجمہ:

بیشک فرشتے جن لوگوں کی روحیں اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے ‘ فرشتے کہتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے ‘ وہ کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھے ‘ وہ (فرشتے) کہتے ہیں کہ کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہر ہجرت کرلیتے ‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے وہ کیسا برا ٹھکانا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک فرشتے جن لوگوں کی روحیں اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے ‘ فرشتے کہتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے ‘۔ (النساء : ٩٨۔ ٩٧) 

فرضیت ہجرت کی آیات کا شان نزول :

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ہجرت کو فرض فرمایا ہے اور مکہ کے جن مسلمانوں نے ابھی تک ہجرت نہیں کی تھی ان پر سخت وعید فرمائی ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

عبدالرحمان بن اسود بیان کرتے ہیں کہ اہل مدینہ سے جنگ کے لیے ایک لشکر تیار کیا گیا۔ میرا نام بھی اس میں لکھا گیا تھا اس وقت حضرت ابن عباس (رض) کے آزاد کردہ غلام حضرت عکرمہ (رض) سے میری ملاقات ہوئی انہوں نے مجھے اس جنگ میں شامل ہونے سے سختی سے منع کیا اور کہا حضرت ابن عباس (رض) نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ (مکہ کے) کچھ مسلمان (جنگ بدر میں) مشرکین (کی تعداد بڑھانے کے لیے ان) کے ساتھ تھے ‘ یہ لشکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لڑنے کے لیے آیا تھا ‘ آپ کے لشکر کی طرف سے کوئی تیر آکر ان مسلمانوں کے لگتا اور وہ ہلاک ہوجاتا یا لڑائی میں مارا تھا ‘ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٥٩٦‘ سنن کبری للنسائی : ج ٦‘ رقم الحدیث : ١١١١٩) 

؁ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ میری ماں ان کمزور لوگوں میں سے تھے جن کا اللہ نے کفر کی سرزمین سے ہجرت کرنے کے حکم سے استثناء فرمایا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٥٩٧) 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت مکہ کے ان مسلمانوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جنہوں نے ہجرت نہیں کی تھی جو ان میں سے مکہ میں فوت ہوگئے ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی : بیشک فرشتے جن لوگوں کی روحیں اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے (فرشتے کہتے ہیں) کہ تم کس حال میں تھے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیسا برا ٹھکانا ہے۔ مگر جو (واقعی) کم زور ہوں مردوں ‘ عورتوں اور بچوں میں سے۔ سو یہ لوگ ہیں کہ اللہ عنقریب ان سے درگزر فرمائے گا (النساء : ٩٨۔ ٩٧) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا میں اور میری والدہ ان کمزور لوگوں میں سے تھے۔ عکرمہ نے کہا حضرت ابن عباس (رض) بھی ان کمزور لوگوں میں سے تھے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل مکہ میں سے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے اور وہ اپنے اسلام کو مخفی رکھتے تھے ‘ جنگ بدر کے دن مشرکین ان کو اپنے ساتھ لے گئے ‘ ان میں سے بعض مسلمان جنگ میں مارے گئے ‘ مسلمانوں نے کہا ہمارے یہ اصحاب مسلمان تھے ان کو زبردستی جنگ میں لایا گیا تھا ‘ انہوں نے ان کے لیے استغفار کیا اس موقع پر سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوئی۔ تب مکہ میں باقی ماندہ مسلمانوں کو یہ آیت لکھ کر بھیجی گئی اور ان سے یہ کہا گیا کہ اب ان کے لیے ہجرت میں کسی عذر کی گنجائش نہیں ہے وہ مکہ سے نکلے تو مشرکین انکے مقابلہ میں آئے اور وہ فتنہ میں پڑگئے اس وقت ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ 

(آیت) ” ومن الناس من یقول امنا باللہ فاذا اوذی فی اللہ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ “۔ (العنکبوت : ١٠) 

ترجمہ : اور کچھ لوگ کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب انہیں اللہ کی راہ میں کوئی تکلیف دی جائے تو وہ لوگوں کے فتنہ کو اللہ کے عذاب کی طرح کردیتے ہیں : (جامع البیان جز ٥ ص ٣١٧‘ ٣١٦ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) 

نیز امام ابن جریر نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ظہر کی نماز کے بعد یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! ولید ‘ سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات عطا فرما ‘ اور ان کمزور مسلمانوں کو جو مشرکین کے زیر تسلط ہیں ‘ جن کو وہاں سے نکلنے کے لیے کسی حیلہ پر قدرت ہے نہ وہ راستہ جانتے ہیں (جامع البیان ج ٤ ص ٣١٧‘ ٣٢١ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو عشاء کی نماز پڑھائی ” سمع اللہ لمن حمدہ “ پڑھ کر آپ کھڑے ہوگئے اور سجدہ سے پہلے آپ نے یہ دعا مانگی : اے اللہ ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات عطا فرما ‘ اے اللہ ‘ سلمہ بن ہشام کو نجات عطا فرما ‘ اے اللہ ! ولید بن ولید کو نجات عطا فرما ‘ اے اللہ ! کمزور مسلمانوں کو نجات عطا فرما ‘ اے اللہ ! مضر پر اپنی گرفت سخت فرما ‘ اے اللہ ! ان پر ایسے سال مسلط کردے جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں (قحط کے) سال مسلط کردیئے تھے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٥٩٨)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 97