وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ٘-وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِؕ-اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْۚ-فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ٘-وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ(۸۷)

اور بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی(ف۱۴۲) اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے (ف ۱۴۳) اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو کھلی نشانیاں عطا فرمائیں (ف۱۴۴) اور پاک روح سے (ف۱۴۵) اس کی مدد کی (ف۱۴۶) تو کیا جب تمہارے پاس کوئی رسول وہ لے کر آئے جو تمہارے نفس کی خواہش نہیں تکبر کرتے ہو تو ان(انبیاء) میں ایک گروہ کو تم جھٹلاتے اور ایک گروہ کو شہید کرتے ہو (ف۱۴۷)

(ف142)

اس کتاب سے توریت مراد ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے تمام عہد مذکور تھے سب سے اہم عہد یہ تھے کہ ہر زمانہ کے پیغمبروں کی اطاعت کرنا ان پر ایمان لانا اور ان کی تعظیم وتوقیر کرنا ۔

(ف143)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک متواتر انبیاء آتے رہے ان کی تعداد چار ہزار بیان کی گئی ہے یہ سب حضرات شریعت موسوی کے محافظ اور اس کے احکام جاری کرنے والے تھے چونکہ خاتم الانبیاء کے بعد نبوت کسی کو نہیں مل سکتی اس لئے شریعت محمدیہ کی حفاظت و اشاعت کی خدمت ربانی علماء اور مجددین ملت کو عطا ہوئی۔

(ف144)

ان نشانیوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات مراد ہیں جیسے مردے زندہ کرنا ،اندھے اور برص والے کو اچھا کرنا ،پرند پیدا کرنا ،غیب کی خبر دینا وغیرہ

(ف145)

روح القدس سے حضرت جبریل علیہ السلام مراد ہیں کہ روحانی ہیں وحی لاتے ہیں جس سے قلوب کی حیات ہے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ رہنے پر مامور تھے۔ آپ ۳۳ سال کی عمر شریف میں آسمان پر اٹھالئے گئے اس وقت تک حضرت جبریل علیہ السلام سفر حضر میں کبھی آپ سے جدا نہ ہوئے ۔ تائید روح القدس حضرت عیسٰی علیہ السلام کی جلیل فضیلت ہے سید عالم کے صدقہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض امتیوں کو بھی تائید روح القدس میسر ہوئی صیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے منبر بچھایا جاتا وہ نعت شریف پڑھتے حضور ان کے لئے فرماتے ” اَللّٰھُمَّ اَیِّدْہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ”

(ف146)

پھر بھی اے یہود تمہاری سرکشی میں فرق نہ آیا۔

(ف147)

یہود پیغمبروں کے احکام اپنی خواہشوں کے خلاف پا کر انہیں جھٹلاتے اور موقع پاتے تو قتل کر ڈالتے تھے ،جیسے کہ انہوں نے حضرت شعیا اوزکریا اور بہت انبیاء کو شہید کیا سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھی درپے رہے کبھی آپ پر جادو کیا کبھی زہر دیا طرح طرح کے فریب بارادہ قتل کیے۔

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌؕ-بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ(۸۸)

اور یہودی بولے ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہیں (ف۱۴۸) بلکہ اللہ نے ان پر لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو ان میں تھوڑے ایمان لاتے ہیں (ف۱۴۹)

(ف148)

یہود نے یہ استہزاء ً کہا تھا ان کی مراد یہ تھی کہ حضور کی ہدایت کو ان کے دلوں تک راہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا کہ بے دین جھوٹے ہیں، قلوب اللہ تعالیٰ نے فطرت پر پیدا فرمائے ان میں قبول حق کی لیاقت رکھی انکے کفر کی شامت ہے کہ انہوں نے سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا اعتراف کرنے کے بعد انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اس کا اثر ہے کہ قبول حق کی نعمت سے محروم ہوگئے۔

(ف149)

یہی مضمون دوسری جگہ ارشاد ہوا:۔ بَلْ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیْھَا بِکُفْرِھِمْ فَلاَ یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلاً

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْۙ-وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْاۚ-فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ٘-فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ(۸۹)

اور جب ان کے پاس اللہ کی وہ کتاب (قرآن) آئی جو ان کے ساتھ والی کتاب (توریت) کی تصدیق فرماتی ہے (ف۱۵۰) اور اس سے پہلے اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے (ف۱۵۱) تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس سے منکر ہو بیٹھے (ف۱۵۲) تو اللہ کی لعنت منکروں پر

(ف150)

سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت اور حضور کے اوصاف کے بیان میں ( کبیر و خازن)

(ف151)

شانِ نُزول : سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور قرآن کریم کے نُزول سے قبل یہود اپنے حاجات کے لئے حضور کے نام پاک کے وسیلہ سے دعا کرتے اور کامیاب ہوتے تھے اور اس طرح دعا کیا کرتے تھے:۔

ِِاَللّٰھُمَّ افْتَحْ عَلَیْنَا وَانْصُرْنَا بِالنَّبِیِّ الْاُ مِّیِّ ” یارب ہمیں نبی امی کے صدقہ میں فتح و نصرت عطا فرما مسئلہ: اس سے معلو م ہوا کہ مقبولان حق کے وسیلہ سے دعا قبول ہوتی ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور سے قبل جہان میں حضور کی تشریف آواری کا شہرہ تھا اس وقت بھی حضو ر کے وسیلہ سے خلق کی حاجت روائی ہوتی تھی۔

(ف152)

یہ انکار عناد و حسد اور حبِّ ریاست کی وجہ سے تھا۔

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۚ-فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ(۹۰)

کس برے مَوْ لوں انہوں نے اپنی جانوں کو خریدا کہ اللہ کے اتارے سے منکر ہوں (ف۱۵۳) اس کی جلن سے کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے جس بندے پر چاہے وحی اتارے (ف۱۵۴) تو غضب پر غضب کے سزاوار ہوئے (ف۱۵۵) اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے(ف۱۵۶)

(ف153)

یعنی آدمی کو اپنی جان کی خلاصی کے لئے وہی کرنا چاہئے جس سے رہائی کی امید ہو یہود نے یہ برا سودا کیا کہ اللہ کے نبی اور اسکی کتاب کے منکر ہوگئے۔

(ف154)

یہود کی خواہش تھی کہ ختمِ نبوت کا منصب بنی اسرائیل میں سے کسی کو ملتا جب دیکھا کہ وہ محروم رہے بنی اسمٰعیل نوازے گئے تو حسد سے منکر ہوگئے

مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ حسد حرام اور محرومیوں کا باعث ہے۔

(ف155)

یعنی انواع و اقسام کے غضب کے سزاوار ہوئے۔

(ف156)

اس سے معلوم ہوا کہ ذلت واہانت والا عذاب کفار کے ساتھ خاص ہے مومنین کو گناہوں کی وجہ سے عذاب ہوا بھی تو ذلت و اہانت کے ساتھ نہ ہوگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ”

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗۗ-وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْؕ-قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۹۱)

اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کے اتارے پر ایمان لاؤ (ف۱۵۷) تو کہتے ہیں وہ جو ہم پر اترا اس پر ایمان لاتے ہیں (ف۱۵۸) اور باقی سے منکر ہوتے ہیں حالانکہ وہ حق ہے ان کے پاس والے کی تصدیق فرماتا ہوا (ف۱۵۹) تم فرماؤ کہ پھر اگلے انبیاء کو کیوں شہید کیا اگر تمہیں اپنی کتاب پر ایمان تھا (ف۱۶۰)

(ف157)

اس سے قرآن پاک اور تمام وہ کتابیں اور صحائف مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے یعنی سب پر ایمان لاؤ۔

(ف158)

اس سے ان کی مراد توریت ہے۔

(ف159)

یعنی توریت پر ایمان لانے کا دعویٰ غلط ہے چونکہ قرآن پاک جو توریت کا مصدق ہے اس کا انکار توریت کا انکار ہوگیا۔

(ف160)

اس میں بھی ان کی تکذیب ہے، کہ اگر توریت پر ایمان رکھتے تو انبیاء علیہم السلام کو ہر گز شہید نہ کرتے۔

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ(۹۲)

اور بےشک تمہارے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر تشریف لایا پھر تم نے اس کے بعد (ف۱۶۱) بچھڑے کو معبود بنالیا اور تم ظالم تھے (ف۱۶۲)

(ف161)

یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے طور پر تشریف لے جانے کے بعد۔

(ف162)

اس میں بھی ان کی تکذیب ہے کہ شریعت موسوی کے ماننے کا دعویٰ جھوٹا ہے اگر تم مانتے تو حضرت موسٰی علیہ السلام کے عصا اور یدبیضا وغیرہ کھلی نشانیوں کے دیکھنے کے بعد گوسالہ پرستی نہ کرتے۔

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَؕ-خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْاؕ-قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَاۗ-وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْؕ-قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۹۳)

اور یاد کرو جب ہم نے تم سے پیمان لیا (ف۱۶۳) اور کوہِ طور کو تمہارے سروں پر بلند کیا لو جو ہم تمہیں دیتے ہیں زور سے اور سنو بولے ہم نے سنا اور نہ مانااور ان کے دلوں میں بچھڑا رچ رہا تھا ان کے کفر کے سبب تم فرمادو کیا برا حکم دیتا ہے تم کو تمہارا ایمان اگر ایمان رکھتے ہو (ف۱۶۴)

(ف163)

توریت کے احکام پر عمل کرنے کا۔

(ف164)

اس میں بھی ان کے دعوائے ایمان کی تکذیب ہے۔

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۹۴)

تم فرماؤ اگر پچھلا گھر اللہ کے نزدیک خالص تمہارے لیے ہو نہ اُوروں کے لیے تو بھلا موت کی آرزو تو کرو اگر سچے ہو (ف۱۶۵)

(ف165)

یہود کے باطل دعاوی میں سے ایک یہ دعوٰی تھا کہ جنتِ خاص انہی کے لئے ہے اس کا رد فرمایا جاتا ہے کہ اگر تمہارے زعم میں جنت تمہارے لئے خاص ہے اور آخرت کی طرف سے تمہیں اطمینان ہے اعمال کی حاجت نہیں تو جنتی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیوی مصائب کیوں برداشت کرتے ہو موت کی تمنا کرو کہ تمہارے دعویٰ کی بنا پر تمہارے لئے باعث راحت ہے اگر تم نے موت کی تمنا نہ کی تو یہ تمہارے کذب کی دلیل ہوگی حدیث شریف میں ہے کہ اگر وہ موت کی تمنا کرتے تو سب ہلاک ہوجاتے اور روئے زمین پر کوئی یہودی باقی نہ رہتا۔

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ(۹۵)

اور ہرگز کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے (ف۱۶۶) ان بداعمالیوں کے سبب جو آگے کرچکے (ف۱۶۷) اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو

(ف166)

یہ غیب کی خبر اور معجزہ ہے کہ یہود باوجود نہایت ضد اور شدت مخالفت کے بھی تمنائے موت کا لفظ زبان پر نہ لاسکے۔

(ف167)

جیسے نبی آخر الزمان اور قرآن کے ساتھ کفر اور توریت کی تحریف وغیرہ مسئلہ : موت کی محبت اور لقائے پروردگار کا شوق اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے بعد دعا فرماتے ” اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی شَھَادَۃً فِی سَبِیْلِکَ وَوَفَاۃً بِبَلَدِ رَسُولِک” یارب مجھے اپنی راہ میں شہادت اور اپنے رسول کے شہر میں وفات نصیب فرما بالعموم تمام صحابہ کُبّار او ربالخصوص شہدائے بدر واحد واصحابِ بیعت رضوان موت فی سبیل اللہ کی محبت رکھتے تھے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے لشکر کفار کے سردار رستم بن فرخ زاد کے پاس جو خط بھیجا اس میں تحریر فرمایا تھا ” اِنَّ مَعِیَ قُوْمٌ یُّحِبُّوْنَ الْمَوْتَ کَمَا یُحِبُّ الَْاعَاجِمُ الْخَمَرََ” یعنی میرے ساتھ ایسی قوم ہے جو موت کو اتنا محبوب رکھتی ہے جتنا عجمی شراب کو اس میں لطیف اشارہ تھا کہ شراب کی ناقص مستی کو محبت دنیا کے دیوانے پسند کرتے ہیں اور اہلُ اللہ موت کو محبوب حقیقی کے وصال کا ذریعہ سمجھ کر محبوب جانتے ہیں،فی الجملہ اہل ایمان آخرت کی رغبت رکھتے ہیں اور اگر طول حیات کی تمنا بھی کریں تو وہ اس لئے ہوتی ہے کہ نیکیاں کرنے کے لئے کچھ اور عرصہ مل جائے جس سے آخرت کے لئے ذخیرئہ سعادت زیادہ کرسکیں اگر گزشتہ ایام میں گناہ ہوئے ہیں تو ان سے توبہ و استغفار کرلیں مسئلہ: صحاح کی حدیث میں ہے کوئی دینوی مصیبت سے پریشان ہو کر موت کی تمنا نہ کرے اور درحقیقت حوادث دنیا سے تنگ آکر موت کی دعا کرنا صبر و رضاو تسلیم و توکل کے خلاف وناجائز ہے۔

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍۚۛ-وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْاۚۛ-یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍۚ-وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَؕ-وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠(۹۶)

اور بے شک تم ضرور انہیں پاؤ گے کہ سب لوگوں سے زیادہ جینے کی ہوس رکھتے ہیں اور مشرکوں سے ایک کو تمنا ہے کہ کہیں ہزار برس جیے(ف۱۶۸) اور وہ اسے عذاب سے دور نہ کرے گا اتنی عمر دیا جانا اور اللہ ان کے کوتک(بُرے عمل) دیکھ رہا ہے

(ف168)

مشرکین کا ایک گروہ مجوسی ہے آپس میں تحیت و سلام کے موقع پر کہتے ہیں”زہ ہزار سال ” یعنی ہزار برس جیو مطلب یہ ہے کہ مجوسی مشرک ہزار برس جینے کی تمنا رکھتے ہیں یہودی ان سے بھی بڑھ گئے کہ انہیں حرص وزندگانی سب سے زیادہ ہے۔