جاہل حفاظ کی من گھڑت روایت

بعض جاہل حفاظ بچوں کو پڑھاتے کم اور مارتے زیادہ ہیں اور جب انھیں منع کیا جائے تو ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ استاد کی مار سے دوزخ کی آگ حرام ہو جاتی ہے اور جس جگہ استاد کی مار پڑے گی اس جگہ دوزخ کی آگ نہیں جلائے گی- استاد صاحب ایک تو مار بھی رہے ہیں اور اوپر سے اس کی حکمت بھی بیان فرما رہے ہیں! واہ استاد صاحب……،

شیخ الحدیث، علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ بعض جاہل حفاظ اور قُرّا نے یہ حدیث گھڑی ہے کہ استاد کی مار سے….. الخ- یہ حدیث جھوٹی اور منگھڑت ہے اور نبی پر جھوٹ باندھنا گناہ کبیرہ ہے- ان جھوٹوں سے پوچھا جائے کہ یہ روایت حدیث کی کس کتاب میں مذکور ہے؟

(انظر: نعم الباری فی شرح صحیح البخاری، ج10، ص257)

عبد مصطفی