آپکی رائے کیا ہے غزوہ ہند کے بارے میں؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی) :

پہلی بات حدیث میں جو غزوہ ہند کا لفظ ہے أس سے ہند یہ انڈیا، پاکستان ، بنگلہ ،نیپال أور دیگر ملک وغیرہ یہ سارا علاقہ ہند کہلاتا تھا

غزوة ہند میں دو حدیث وارد ہیں:

پہلی حدیث ثوبان ہے

جس میں ذکر ہے کہ : میری أمت میں دو جماعتیں ہونگی جنکو اللہ دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھے گا ؛ إیک غزوہ ہند میں لڑے گی ، أور دوسری عیسی علیہ السلام کے ساتھ مل کر.

(یہ حدیث صحیح ہے ، سنن نسائی ، حدیث نمبر: 7175 )

دوسری حدیث أبی ہریرہ ہے اسکے مختلف طریق ہیں جنکا خلاصہ یہ ہے کہ:

ایک قوم غزوہ ہند کرے گی ، وہاں کے حکمرانوں کو پابند سلاسل کرکے شام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جا ملے گی ، أور انکے لیے کافی اجر و فضیلت کی بات کی گئی ہے۔

لیکن طرق حدیث أبی هريرة ضعیف ہیں أگر حدث ابی ہریرہ کو حسن درجے کی بھی مان لیا جائے تو تب بھی اس میں تعیین نہیں ہے کہ وہ قوم کونسی ہوگی جو غزوہ ہند کرے گی پر زمانے کا تعین موجود ہے ، أور وہ عیسی علیہ السلام کا زمانہ ہوگا۔

أب سؤال یہ ہے کہ وہ کونسی قوم ہوگی جو غزوہ ہند کرے گی؟

إسکا جواب صحیح طریق میں وارد نہیں ہے لیکن حدیث کعب جس میں راوی من لم یسم ہے أس میں ذکر ہے کہ بیںت المقدس کا حاکم إیک قوم ہند بھیجے گا جو غزوہ ہند کرے گی ،

پھر ایک اور اثر میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قیادت میں غزوہ ہند ہوگا۔

( کتاب الفتن لنعیم بن حماد ، باب غزوۃ الہند)

لہذا ان طرق سے یہ بات واضح ہے کہ غزوہ ہند کا زمانہ عیسی علیہ السلام کا ہوگا ،

أور غزوہ ہند کرنے والی جماعت ہند میں سے نہیں ہوگی بلکہ بیت المقدس کا حاکم یا عیسی علیہ السلام یا إمام مہدی أس قوم کو ہند بھیجیں گے جو یہ غزوہ کرے گی۔

۔

خلاصہ کلام:

غزوہ ہند حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہوگا ، أور غزوہ ہند لڑنے والی جماعت ہند( انڈیا، پاکستان، بنگلہ وغیرہ) سے نہیں ہوگی بلکہ کوئی أور حاکم کسی قوم کو ہند بھیجے گا جو یہ غزوہ کرے گی۔ بھیجنے والے إمام مہدی علیہ السلام بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ جماعت بیت المقدس سے آئے گی۔

واللہ أعلم