فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّعۡفُوَ عَنۡهُمۡ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 99

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّعۡفُوَ عَنۡهُمۡ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ۞

ترجمہ:

سو یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ عنقریب ان سے درگزر فرمائے گا ‘ اور اللہ بہت معاف کرنے والا نہایت بخشنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت جگہ اور وسعت پائے گا، اور جو اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتا ہوا نکلے پھر اس کو موت پالے تو بیشک اس کا اجر اللہ (کے ذمہ کرم) پر ثابت ہوگیا اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ (النساء : ٩٩) 

اس آیت میں اللہ نے یہ خبر دی ہے کہ جو شخص اپنے دین کو بچانے کے لیے مشرکوں کے ملک سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بھاگے ‘ اور ارض اسلام اور دار ہجرت میں پہنچنے سے پہلے اس کو موت آ لے تو اس کے اس عمل کا اجر اور ہجرت کا ثواب اللہ کے ذمہ کرم پر ہے ‘ اور اس نے اسلام کی خاطر اپنے وطن اور رشتہ داروں کو جو چھوڑا ہے اللہ اس کی جزاء اس کو عطا فرمائے گا۔ 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

سعید بن جبیر اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص جس کا نام ضمرہ بن العیص یا العیص بن ضمرہ تھا ‘ جب ہجرت کا حکم نازل ہوا تو وہ بیمار تھا اس نے اپنے گھر والوں سے کہا وہ اس کو چارپائی پر ڈال کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے چلیں ‘ وہ اس کو لے کر روانہ ہوئے اور ابھی مقام تنعیم (مکہ سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک جگہ ہے جہاں سے اہل مکہ احرام باندھتے ہیں) پر پہنچے تھے کہ اس شخص کی وفات ہوگئی اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ 

ہجرت کا شرعی حکم : 

ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ جس ملک یا شہر میں مسلمانوں کو دین اسلام کے احکام پر عمل کرنے کی آزادی نہ ہو وہاں سے ہجرت کرنا فرض ہے اور یہ کہ ابتداء میں مکہ کے مسلمانوں پر ہجرت کرنا فرض تھا اور مکہ فتح ہونے کے بعد جب مکہ دارالاسلام بن گیا تو یہ ہجرت منسوخ ہوگئی ‘ اور ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو مرد ‘ عورتیں اور بچے کمزور ہوں یا بیمار ہوں اور ان کو ہجرت کرنے کی کوئی تدیبر معلوم نہ ہو ‘ نہ راستے کا علم ہو ان کے ہجرت نہ کرنے کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا ‘ اور ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی تدبیر معلوم نہ ہو ‘ نہ راستے کا علم ہو ان کے ہجرت نہ کرنے کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا ‘ اور ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تدبیر معلوم نہ ہو ‘ نہ راستے کا علم ہو ان کے ہجرت نہ کرنے کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا ‘ اور ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی مسلمان نیک نیتی سے کوئی عبادت شروع کرے اور اس کو مکمل کرنے سے پہلے فوت ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس مسلمان کو اس نیکی کام کا پورا پورا اجر عطا فرماتا ہے۔ 

مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی فرضیت کے اسباب : 

ابتداء اسلام میں مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے حسب ذیل اسباب تھے : 

(١) مدینہ منورہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وفتا فوقتا احکام شرعیہ نازل ہو رہے تھے اور دین کی مکمل تعلیم حاصل کرنے کے لیے ضروری تھا کہ مسلمان ہر طرف سے اس مرکز علم کی طرف آئیں ‘ اسی طرح اب بھی اگر کوئی مسلمان کسی ایسے علاقہ میں رہتا ہو جہاں علماء دین نہ ہوں تو اس پر واجب ہے کہ وہ دین کا علم حاصل کرنے کے لیے اس علاقہ کی طرف ہجرت کرے جہاں علماء دین ہوں ‘ اور وہاں جا کر علماء دین سے علم حاصل کرے نکاح سے پہلے نکاح اور طلاق کے ضروری مسائل سیکھے حج اور عمرہ سے پہلے حج اور عمرہ کے مسائل معلوم کرے ‘ تجارت کرنے سے پہلے تجارت ‘ بیع شراء اور سود کے مسائل کا علم حاصل کرے ‘ اور بالغ ہونے سے پہلے نماز ‘ روزہ اور زکوۃ کے مسائل کا علم حاصل کرے علی ھذا القیاس۔ 

(٢) مدینہ میں مسلمان آزادی سے احکام شرعیہ اور شعائر اسلام پر عمل کرتے تھے جبکہ فتح مکہ سے پہلے مکہ میں شعائر اسلام پر عمل نہیں کیا جاسکتا تھا سو اب بھی اگر کسی ملک میں کوئی مسلمان اسلام کے شعائر پر آزادی اور امن سے عمل نہ کرسکے تو اس پر اس علاقہ سے ہجرت کرنا فرض ہے۔ 

(٣) مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی فرضیت کا سبب یہ بھی تھا کہ یہ بتلایا جائے کہ اسلام میں وطن کی اہمیت نہیں ہے بلکہ دین کی اہمیت ہے اور دین کی خاطر وطن کو چھوڑ دیا جائے گا اور یہ کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اور آپ کی اتباع مسلمانوں پر فرض ہے اور جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کی طرف ہجرت کرلی تو آپ کی اتباع میں مسلمانوں پر بھی ہجرت فرض کردی گئی ‘ اور اس لیے بھی کہ مدینہ منورہ اسلام کی پہلی ریاست تھی سو اس ریاست کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لیے وہاں مسلمانوں کی عددی قوت بڑھانا ضروری تھا اور یہ اسی وقت ہوسکتا تھا جب مسلمان مدینہ میں جمع ہوجائیں۔ 

دفع ضرر کے لیے ہجرت کی اقسام :

قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی مالکی متوفی ٥٤٣ ھ نے ہجرت کی حسب ذیل اقسام بیان کی ہیں۔ 

(١) دارالحرب سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنا ‘ ہجرت کی یہ قسم قیامت تک کے لیے فرض ہے ‘ سو جو شخص دارالحرب میں اسلام قبول کرے اس پر دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنا فرض ہے ‘ اگر وہ درالحرب میں ہی مقیم رہا تو گنہ گار ہوگا۔ 

(٢) جس علاقہ میں اہل بدعت کا غلبہ ہو اور سلف صالحین پر وہاں تبرا کیا جاتا ہو اور صالح مسلمان اپنی قوت سے اس بدعت کو مٹانے پر قادر نہ ہوں اس علاقہ سے ان مسلمانوں کا ہجرت کرنا واجب ہے ‘ اس کی اصل قرآن مجید کی یہ آیت ہے : 

(آیت) ” واذا رایت الذین یخوضون فی ایاتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ واما ینسینک الشیطان فلا تقد بعد الذکری مع القوم الظلمین (الانعام : ٦٨) 

ترجمہ : اور (اے مخاطب) جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیتوں میں بحثی کرتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لے حتی کہ وہ کسی اور بات میں بحث کرنے لگیں اور اگر تجھے شیطان بھلا دے یا یاد آنے کے بعد ظلم کرنے والی قوم کے ساتھ نہ بیٹھو، 

(٣) جس سرزمین پر حرام کاموں کا غلبہ ہو اس سرزمین سے نکل جائے کیونکہ حلال کو طلب کرنا اور حرام سے بچنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ 

(٤) جس علاقہ میں مسلمان کو اپنے جسم کے نقصان کا خطرہ ہو ‘ اس پر واجب ہے کہ وہ کسی محفوظ علاقہ میں چلا جائے جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : 

(آیت) ” انی ذاھب الی ربی “۔ (العنکبوت : ٢٦) 

ترجمہ : میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ 

اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : 

(آیت) ” فخرج منھا خآئفا یترقب قال رب نجنی من القوم الظالمین “۔ (القصص : ٢١) 

ترجمہ : سو موسیٰ اس شہر سے ڈرتے ہوئے نکلے ‘ وہ انتظار کرتے تھے (کہ اب کیا ہوگا) انہوں نے دعا کی اے میرے رب مجھے ظالم قوم سے بچالے۔ 

(٥) جس شہر میں کوئی متعدی مرض پھیلا ہوا ہو ‘ اس شہر سے ایسی جگہ چلا جائے جہاں وہ وبانہ ہو ‘ اس قاعدہ سے صرف طاعون مستثنی ہے۔ 

(٦) جس علاقہ میں مسلمان کو اپنے مال کے ضائع ہونے یا مالی نقصان کا یقینی خطرہ ہو اس جگہ سے انسان کسی پر امن علاقہ میں چلا جائے۔ 

(٧) اسی طرح جس جگہ انسان کی عزت اور ناموس کو یقینی خطرہ ہو اس علاقہ سے بھی نکلنا واجب ہے ‘ کیونکہ مسلمان پر اپنی جان ‘ مال اور عزت کی حفاظت کرنا فرض ہے ‘ امام ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا : یہ حج اکبر کا دن ہے تمہارا خون ‘ تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اس طرح حرام ہیں جس طرح آج کے دن اس شہر کی حرمت ہے۔ (سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٠٥٨‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٧٣٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ١٩٤٥) 

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اسلام میں تقیہ جائز نہیں ہے ورنہ ہجرت فرض نہ ہوتی کیونکہ انسان تقیہ کرکے کافروں اور فاسقوں سے ظاہری موافقت کرکے ایسی جگہ رہ سکتا ہے۔ 

یہ ہجرت کی وہ اقسام ہیں جن میں کسی ضرر سے بچنے کے لیے ہجرت کی جاتی ہے ‘ اور ہجرت کی بعض اقسام وہ ہیں جن میں کسی نفع کے حصول کے لیے ہجرت کی جاتی ہے ان کی تفصیل حسب ذیل ہے : 

حصول نفع کے لیے ہجرت کی اقسام : 

(١) کسی علاقہ کے آثار عذاب سے عبرت حاصل کرنے کے لے اپنے ملک سے دوسرے ملک جانا ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم “۔ (یوسف : ١٠٩) 

ترجمہ : کیا یہ لوگ زمین میں سفر نہیں کرتے تاکہ یہ دیکھیں کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیسا انجام ہوا۔ 

اس نوع کی قرآن مجید میں بہت آیتیں ہیں ‘ اور کہا جاتا ہے کہ ذوالقرنین نے زمین میں اس لیے سفر کیا تھا کہ زمین کے عجائبات دیکھے اور ایک قول یہ ہے کہ اس نے باطل کو مٹانے اور حق کو نافذ کرنے کے لیے زمین میں سفر کیا تھا۔ 

(٢) حج کرنے کے لیے سفر کرنا ‘ یہ سفر زندگی میں ایک بار بشرط استطاعت فرض ہے اور بار بار مستحب ہے۔ 

(٣) جہاد کے لیے سفر کرنا ‘ اگر دشمن اسلامی ملک کی سرحد پر حملہ آور ہو تو سربراہ ملک جن لوگوں کو جہاد کے لیے بلائے ان کا جانا فرض عین ہے اور تبلیغ اسلام کے لیے جہاد کرنا فرض کفایہ ہے لیکن یہ بھی امام یا امیر کی دعوت پر موقوف ہے۔ 

(٤) اگر اپنے شہر میں رزق حلال اور معاش کا حصول متعذر اور مشکل ہو اور کسی دوسرے شہر میں رزق حلال کے ذرائع حاصل ہوں تو اس شہر میں جانا اس پر فرض ہے کیونکہ رزق حلال کو طلب کرنا فرض ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” واخرون یضربون فی الارض یبتغون من فضل اللہ “۔ (المزمل : ٢٠) 

ترجمہ : اور کچھ لوگ زمین میں سفر کریں گے ‘ اللہ کا فضل تلاش کرتے ہوئے۔ 

(٥) تجارت کے لیے سفر کرنا اور ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں تجارت کے لیے جانا ‘ اللہ تعالیٰ نے سفر حج میں بھی تجارت کی اجازت دی ہے۔ : 

(آیت) ” لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم “۔ (البقرہ : ١٩٨) 

تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے رب کے فضل کو تلاش کرو ‘۔ 

(٦) علم دین اور علم نافع کی طلب کے لیے سفر کرنا ‘ قرآن مجید میں ہے :

علم دین اور علم نافع کی طلب کے لیے سفر کرنا ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون “۔ (التوبہ : ١٢٢) 

ترجمہ : تو (مسلمانوں کے) (ہر گروہ سے کیوں نہ ایک جماعت دین سیکھنے کے لیے روانہ ہوئی تاکہ وہ واپس آکر اپنی قوم کو ڈارئیں۔ شاید وہ گناہ سے بچتے رہیں۔ 

(٧) متبرک مقامات کے لیے سفر کرنا ‘ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین مسجدوں کے سوا سامان سفر نہ باندھنا میری یہ مسجد ‘ مسجد حرام اور مسجد اقصی۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١١٨٩‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٣٩٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٠٣٣‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٢٨٩٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٢٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٩‘ سنن کبری للبیہقی ج ٥ ص ٢٤٤‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ١٤٢١‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٣٤) 

(٨) اسلام کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے سفر کرنا اور دشمن سے مقابلوں کے لیے مجاہدوں کا جمع ہونا۔ 

(٩) ماں باپ کی زیارت کے لیے سفر کرنا ‘ رشتہ داروں اور بیوی بچوں کے حقوق کی ادائیگی کے لیے سفر کرنا۔ 

(١٠) ملک کے نظم ونسق چلانے اور انتظامی امور کے لیے سفر کرنا۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٦١٢۔ ٦١١‘ مع توضیح و زیادہ ‘ مطبوعہ دا الکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 99

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.