قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۹۷)

تم فرمادو جو کوئی جبریل کا دشمن ہو (ف۱۶۹) تو اس (جبریل)نے تو تمہارے دل پر اللہ کے حکم سے یہ قرآن اتارا اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتا اور ہدایت اور بشارت مسلمانوں کو (ف۱۷۰)

(ف169)

شان نُزول : یہودیوں کے عالم عبداللہ بن صوریا نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا آپ کے پاس آسمان سے کون فرشتہ آتا ہے فرمایا جبریل ابن صوریا نے کہا وہ ہمارا دشمن ہے عذاب شدت اور خسف اتارتا ہے کئی مرتبہ ہم سے عداوت کرچکا ہے اگر آپ کے پاس میکائیل آتے تو ہم آپ پر ایمان لے آتے۔

(ف170)

تو یہود کی عداوت جبریل کے ساتھ بے معنٰی ہے بلکہ اگر انہیں انصاف ہوتا تو وہ جبریل امین سے محبت کرتے اور ان کے شکر گزار ہوتے کہ وہ ایسی کتاب لائے جس سے ان کی کتابوں کی تصدیق ہوتی ہے ۔ اور ” بُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ”فرمانے میں یہود کا رد ہے کہ اب تو جبریل ہدایت و بشارت لارہے ہیں پھر بھی تم عداوت سے باز نہیں آتے ۔

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ(۹۸)

جو کوئی دشمن ہو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے کافروں کا (ف۱۷۱)

(ف171)

اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء و ملائکہ کی عداوت کفر اور غضب الٰہی کا سبب ہے، اور محبوبان حق سے دشمنی خدا سے دشمنی کرنا ہے۔

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍۚ-وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ(۹۹)

اور بےشک ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں اتاریں (ف۱۷۲) اور ان کے منکر نہ ہوں گے مگر فاسق لوگ

(ف172)

شا نِ نُزول : یہ آیت ابن صوریا یہودی کے جواب میں نازل ہوئی جس نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کہ اے محمد آپ ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہ لائے جسے ہم پہچانتے اور نہ آپ پر کوئی واضح آیت نازل ہوئی جس کا ہم اتباع کرتے۔

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْؕ-بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۱۰۰)

اور کیا جب کبھی کوئی عہد کرتے ہیں ان میں ایک فریق اسے پھینک دیتا ہے بلکہ ان میں بہتیروں کو ایمان نہیں (ف۱۷۳)

(ف173)

شان نُزول : یہ آیت مالک بن صیف یہود ی کے جواب میں نازل ہوئی جب حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کو اللہ تعالیٰ کے وہ عہد یاد دلائے جو حضور پر ایمان لانے کے متعلق کیے تھے تو ابن صیف نے عہد ہی کا انکار کردیا۔

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَۗۙ-كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘(۱۰۱)

اور جب ان کے پاس تشریف لایا اللہ کے یہاں سے ایک رسول (ف۱۷۴) ان کی کتابوں کی تصدیق فرماتا (ف۱۷۵) تو کتاب والوں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتا ب اپنے پیٹھ پیچھے پھینک دی (ف۱۷۶) گویا وہ کچھ علم ہی نہیں رکھتے (ف۱۷۷)

(ف174)

یعنی سید عالم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

(ف175)

سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم توریت زبور وغیرہ کی تصدیق فرماتے تھے اور خود ان کی کتابوں میں بھی حضور کی تشریف آوری کی بشارت اور آپ کے اوصاف و احوال کا بیان تھا اس لئے حضور کی تشریف آوری اور آپ کا وجود مبارک ہی ان کتابوں کی تصدیق ہے تو حال اس کا مقتضی تھا کہ حضور کی آمد پر اہل کتاب کا ایمان اپنی کتابوں کے ساتھ اور زیادہ پختہ ہوتا مگر اس کے برعکس انہوں نے اپنی کتابوں کے ساتھ بھی کفر کیا’ سدی کا قول ہے کہ جب حضور کی تشریف آوری ہوئی تو یہود نے توریت سے مقابلہ کرکے توریت و قرآن کو مطابق پایا تو توریت کو بھی چھوڑ دیا۔

(ف176)

یعنی اس کتاب کی طرف بے التفاتی کی، سفیان بن عینیہ کا قول ہے کہ یہود نے توریت کو حریر و دیبا کے ریشمی غلافوں میں زر وسیم کے ساتھ مطلّا و مزیّن کرکے رکھ لیا اور اس کے احکام کو نہ مانا۔

(ف177)

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے چار فرقے تھے ایک توریت پر ایمان لایا اور اس نے اس کے حقوق کو بھی ادا کیا یہ مومنین اہل کتاب ہیں ان کی تعداد تھوڑ ی ہے اور ” اَکْثَرُ ھُمْ” سے ان کا پتا چلتا ہے دوسرا فرقہ جس نے بالاعلان توریت کے عہد توڑے اس کے حدود سے باہر ہوئے سرکشی اختیار کی ” نَبَذَہ، فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ ” میں ان کا بیان ہے تیسرا فرقہ وہ جس نے عہد شکنی کا اعلان تو نہ کیا لیکن اپنی جہالت سے عہد شکنی کرتے رہے انکا ذکر ” بَل اَکْثَرُ ھُم لَا یُؤمِنُوْنَ ” میں ہے۔ چوتھے فرقے نے ظاہری طور پر تو عہد مانے اور باطن میں بغاوت و عناد سے مخالفت کرتے رہے یہ تصنع سے جاہل بنتے تھے۔” کَاَنَّھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ” میں ان پر دلالت ہے۔

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَۚ-وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَۗ-وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَؕ-وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْؕ-فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖؕ-وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْؕ-وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ﳴ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْؕ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(۱۰۲)

اور اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے سلطنتِ سلیمان کے زمانہ میں (ف۱۷۸) اور سلیمان نے کفر نہ کیا (ف۱۷۹) ہاں شیطان کافر ہوئے (ف۱۸۰) لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو (ف۱۸۱) تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جُدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہنچا سکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے (ف۱۸۲) اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بےشک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بےشک کیا بُری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا (ف۱۸۳)

(ف174)

یعنی سید عالم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

(ف175)

سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم توریت زبور وغیرہ کی تصدیق فرماتے تھے اور خود ان کی کتابوں میں بھی حضور کی تشریف آوری کی بشارت اور آپ کے اوصاف و احوال کا بیان تھا اس لئے حضور کی تشریف آوری اور آپ کا وجود مبارک ہی ان کتابوں کی تصدیق ہے تو حال اس کا مقتضی تھا کہ حضور کی آمد پر اہل کتاب کا ایمان اپنی کتابوں کے ساتھ اور زیادہ پختہ ہوتا مگر اس کے برعکس انہوں نے اپنی کتابوں کے ساتھ بھی کفر کیا’ سدی کا قول ہے کہ جب حضور کی تشریف آوری ہوئی تو یہود نے توریت سے مقابلہ کرکے توریت و قرآن کو مطابق پایا تو توریت کو بھی چھوڑ دیا۔

(ف176)

یعنی اس کتاب کی طرف بے التفاتی کی، سفیان بن عینیہ کا قول ہے کہ یہود نے توریت کو حریر و دیبا کے ریشمی غلافوں میں زر وسیم کے ساتھ مطلّا و مزیّن کرکے رکھ لیا اور اس کے احکام کو نہ مانا۔

(ف177)

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے چار فرقے تھے ایک توریت پر ایمان لایا اور اس نے اس کے حقوق کو بھی ادا کیا یہ مومنین اہل کتاب ہیں ان کی تعداد تھوڑ ی ہے اور ” اَکْثَرُ ھُمْ” سے ان کا پتا چلتا ہے دوسرا فرقہ جس نے بالاعلان توریت کے عہد توڑے اس کے حدود سے باہر ہوئے سرکشی اختیار کی ” نَبَذَہ، فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ ” میں ان کا بیان ہے تیسرا فرقہ وہ جس نے عہد شکنی کا اعلان تو نہ کیا لیکن اپنی جہالت سے عہد شکنی کرتے رہے انکا ذکر ” بَل اَکْثَرُ ھُم لَا یُؤمِنُوْنَ ” میں ہے۔ چوتھے فرقے نے ظاہری طور پر تو عہد مانے اور باطن میں بغاوت و عناد سے مخالفت کرتے رہے یہ تصنع سے جاہل بنتے تھے۔” کَاَنَّھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ” میں ان پر دلالت ہے۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌؕ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠(۱۰۳)

اور اگر وہ ایمان لاتے (ف۱۸۴) اور پرہیزگاری کرتے تو اللہ کے یہاں کا ثواب بہت اچھا ہے کسی طرح انہیں علم ہوتا

(ف184)

حضرت سید کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآنِ پاک پر ۔