باب السواك

مسواک کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ مسواک اور سواک سُوْكٌ سے بنا بمعنی مَلنا،مسواک دانتوں کے ملنے کا آلہ۔شریعت میں مسواک وہ لکڑی ہے جس سے دانت صاف کئے جاتے ہیں۔سنت یہ ہے کہ یہ کسی پھول یا پھلدار درخت کی نہ ہو،کڑوے درخت کی ہو،موٹائی چھنگلی کے برابر ہو،لمبائی بالشت سے زیادہ نہ ہو،دانتوں کی چوڑائی میں کی جائے نہ کہ لمبائی میں،بے دانت والا انسان اور عورتیں انگلی پھیر لیا کریں۔مسواک اتنے مقام پر سنت ہے :وضوء میں،قرآن شریف پڑھتے وقت،دانت پیلے ہونے پر،بھوک،یا دیر تک خاموشی،یا بے خوابی کی وجہ سے منہ سے بو آنے پر۔احناف کے ہاں مسواک سنتِ وضو ہے نہ کہ سنت نماز،لہذا باوضو آدمی نماز کے لیے مسواک نہ کرے ۔امام شافعی کے ہاں سنت نماز ہے نہ کہ سنت وضو اور وجہ ظاہر کہ ان کے ہاں خون وضو نہیں توڑتا تو اگر مسواک سے دانت میں خون نکل بھی آیا تو نماز درست ہوگی۔لیکن ہمارے ہاں بہتا خون وضو توڑ دیتا ہے۔

حدیث نمبر :359

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر یہ نہ ہوتا کہ اپنی امت پر دشواری کروں گا تو انہیں عشاء میں دیر کا اور ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا ۱؎ (بخاری مسلم)

شرح

۱؎ یعنی ان پر فرض کردیتا کہ نمازعشاءتہائی رات پر پڑھیں،اورہرنماز کے لیے وضو کریں۔اس سے معلوم ہوا کہ حضورباذن الٰہی احکام کے مالک ہیں،جو چاہیں فرض کریں،جو چاہیں حرام کہ فرماتے ہیں میں فرض کردیتا۔خیال رہے کہ یہ حدیث امام شافعی کے نزدیک اپنے ظاہر پر ہے مگر ہمارے ہاں ہر نماز سے مراد اس کا وضو ہے یعنی وضو پوشیدہ ہے،کیونکہ ابن خزیمہ،حاکم،بخاری شریف نے “کتاب الصوم” میں انہی ابوہریرہ سے یہی حدیث روایت کی مگر اس میں بجائے”صَلوٰۃٍ کے عِنْدَکُلِّ وُضُوءٍ”ہے اور احمد وغیرہ کی روایت ہے “عِنْدَکُلِّ طُھُوْرٍ”وہ حدیثیں اس کی تفسیر ہیں۔خیال رہے کہ وضو میں مسواک کی زیادہ تاکید ہے ورنہ وضو کے علاوہ پانچ جگہ اوربھی مسواک سنت ہے جیسا کہ عرض کیا گیا۔امام احمد کی روایت میں ہے کہ مسواک کی نماز بغیر مسواک کی ستر نمازوں سے افضل ہے۔