إیک أیسی سنت صحابہ کرام و اہل بیت عظام جسکو ہم سب بھلا چکے ہیں وہ یہ کہ ہم نے أپنی أولاد کو سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم أور غزوات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم دینا چھوڑ دی ہے جسکی تعلیم کا اہتمام صحابہ کرام و اہل بیت عظام أپنی اولاد کے لیے فرمایا کرتے تھے،

حضرت سعد بن أبی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے:

کنا نعلم أولادنا سيرة الرسول ومغازيه كما كنا نعلمهم القرآن .

ترجمہ:

ہم أپنی أولاد کو سیرت رسول ( کریم) صلی اللہ علیہ وسلم أور آپکے غزوات کی تعلیم أیسے دیتے جیسے أنکو قرآن سکھاتے۔

( مقدمہ طبع نور الیقین فی سیرۃ سید المرسلین ، ص: 3 )

حضرت زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

كنا نعلم مغازي النبي صلى الله عليه وسلم كما نعلم السورة من القرآن .

ترجمه:

ہم ( أپنے بچوں کو) حضور صلی الله علیہ وسلم کی ( کفار کے ساتھ لڑی جانے والی) لڑائیوں ( غزوات) کے بارے میں أیسے تعلیم دیتے جیسے قرآن کی سورت کو سکھاتے ( یعنی کثرت سے ذکر کرتے اور زبانی یاد کرواتے)

علامہ زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فی علم المغازي علم الآخرة والدنيا.

ترجمہ:

حضور صلی الله علیہ وسلم کے غزوات کے علم میں آخرت و دنیا کا علم ہے ( لہذا أسکو پڑھا کرو)۔

( السيرة النبوية لابن كثير ، 355/2)

کیا ہم اس سنت صحابہ و اہلبیت کو دوبارہ زندہ کرسکتے ہیں؟؟؟

علامہ کا شکوہ کہ:

تھے تو آبا وہ تمھارے ہی، مگر تم کیا ہو

ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!

إس سنت صحابہ کرام و اہل بیت کرام کو زندہ کرنے کے بعد ہی ختم ہوسکتا ہے.