انمول نصیحتیں

حکایت نمبر 160: انمول نصیحتیں

حضرت سیدناابوعبیدہ تاجی علیہ رحمۃاللہ الہادی فرماتے ہیں،میں نے حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا :” اے ابن آدم ! تیرے لئے دنیا کشادہ کردی گئی تو تُو آخرت کے عمل سے غافل ہوگیا ، تیری موت قریب آن پہنچی ،تجھے عمل کرنے کا حکم دیا گیا ۔ اللہ عزوجل کا حق سب سے افضل ہے وہ اسوقت تک تجھ سے راضی نہ ہوگا جب تک تو ان احکام کو پورا نہ کرے جو اس نے تجھ پر لازم کئے ہیں۔ اے ابن آدم! جب تو لوگو ں کو نیکی کا کام کرتا دیکھے تو ایسے کام میں تو ان پر سبقت لے جانے کی کوشش کر او رجب تو انہیں ہلاکت وبر بادی کے کاموں میں دیکھے، تو ا ن سے اوران کے اختیار کردہ افعال سے کوسوں دور بھاگ۔ ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے اپنی دنیا کو عاقبت پر تر جیح دی پس وہ ذلیل وخوار ہوگئے ۔

اے ابن آدم ! تو اس وقت تک ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک تو لوگو ں کی عیب جوئی سے باز نہ آجائے، پہلے تو ان عیوب کو تلاش کر جو تیری ذات میں موجود ہیں،پھراپنی ذات سے ا صلاح کا عمل شروع کر، جب تو ایسا کریگا تو دوسروں کی عیب جوئی سے بچا رہے گا ۔ اور اللہ عزوجل کے نزدیک پسندیدہ شخص وہ ہے جو ان خصوصیات کا حامل ہو ۔ 

ظلم اور جفاء ظاہر ہوگئے ، علماء کم ہوگئے اور سنت کو چھوڑدیا گیا ۔ مجھے ایسی برگزیدہ ہستیوں کی ہم نشینی کا شرف حاصل ہوا ہے کہ جنکی ہم نشینی ہر بندہ ئمؤمن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ اللہ عزوجل کی قسم ! آج کوئی بھی ایسا نہیں رہا جس سے ہم فیض اور برکات حاصل کرسکیں ۔ بہترین اور اچھے لوگ گزر گئے، دنیا دار سر کش لوگ باقی رہ گئے۔

اے ابن آدم ! تو ایمان اور خیانت کو ایک ساتھ جمع نہیں کرسکتا ۔ اے ابن آدم ! توکیسے مؤمنِ کامل ہوسکتا ہے جبکہ تیرا پڑوسی امن میں نہ ہو ۔ اے ابن آدم ! تو کیسے کامل مسلمان ہو سکتا ہے جبکہ لوگ تجھ سے سلامت نہ ہوں۔ دنیا میں مؤمن کی مثال ایک اجنبی کی سی ہے جو دنیوی ذلت سے نہیں گھبراتا ۔اور نہ ہی دنیوی عزت کے حصول کی خاطر دنیا داروں سے مقابلہ کرتا ہے ۔ دنیا داروں کا اندازِ زندگی اور ہے ، جبکہ اس کا اور ۔لو گ اس کی طرف سے راحت وسکون میں ہوتے ہیں۔ مؤمن کی صبح وشام اللہ عزوجل کے خوف ہی میں ہو تی ہے، اگرچہ وہ کتنا ہی نیک کیو ں نہ ہو ۔ اس مرد مجاہدکی حقیقت کو سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا اس لیے کہ وہ دو خوفو ں کے درمیان ہے:

(۱) اس گناہ کاخوف جو اس سے سر زد ہوا۔ اب وہ نہیں جانتا کہ اس گناہ کے بدلے اللہ عزوجل اس کے ساتھ کیا معاملہ فرمائے گا ۔

(۲)۔۔۔۔۔۔ عنقریب آنے والی موت کا خوف کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اسے کون کو ن سی ہلاکتیں اور پریشانیاں پہنچے والی ہیں۔

اللہ عزوجل اس بندے پر رحم فرمائے جس نے غور وفکر کیا ، عبرت حاصل کی اور معاملے کی گہرائی کو غور سے دیکھ لیا ۔ اے لوگو! سنجیدگی اختیا کر لو ۔ اب وقت آگیا ہے کہ تم آنکھیں کھول لو ۔ اللہ عزوجل کی قسم !دنیا جب اس میں رہنے والوں کیلئے کھولی گئی تو اس کے کتے (حرص اور فتنہ وفساد) بھی کھول دیئے گئے۔ ا س دنیا کے کتےّ سب سے برے ہیں۔ دنیا کے حصول کی خاطر لوگوں نے تو ایک دوسرے پر تلوار وں سے حملے کئے ۔اور بعض نے بعض کی حرمت کو حلال جانا ۔ہائے ! افسوس اس فساد پر ! یہ کتنا بڑا فساد ہے
اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں حَسن کی جان ہے! اس دنیا میں جس مؤمن نے بھی صبح کی تو غم اور پریشانی کی حالت میں کی ۔ پس جلدی سے اللہ عزوجل کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوجاؤ اس لئے کہ بندہ مؤمن کو اللہ عزوجل سے ملاقات کا شرف حاصل کئے بغیر راحت وسکون کی دولت نصیب نہیں ہوسکتی ۔
یقینا موت نے دنیا کو رسواکردیا ۔موت نے دنیا میں کسی بھی صاحبِ عقل کیلئے کوئی خوشی نہیں چھوڑی۔بندہ مؤمن نے جب دنیا کا قصد کیا تو اسے منہدم کردیا ۔اور اس کے ذریعے اپنی آخرت کو سنوارا،دنیا کی وجہ سے اپنی آخرت کوتباہ و برباد نہیں کیا ۔ جبکہ منافق نے ا پنی خواہشات کو اللہ عزوجل کی رضا پر ترجیح دی اور دنیا کو اپنا معبود بنالیا ۔
اے ابن آدم ! جتنادنیوی رزق تیرے نصیب میں ہے وہ تجھے مل کر رہے گا۔ مگر آخرت کے معاملے میں تونیکیوں کا محتاج ہے ،تجھ پر لازم ہے کہ توآخرت کی تیاری کر۔ اگر توآخرت کی تیاری میں مشغول ہو جائے گا تو دنیا خود تیرے قدموں میں آ جائے گی ۔ اللہ عزوجل ان لوگو ں پر رحم فرمائے کہ جنہیں دنیا ملی لیکن انہوں نے یہ دنیوی ما ل ودولت اس کے حقداروں
(فقرا ء ومساکین) پر خرچ کر دیا۔ پھر یہ لوگ اس حق کو ادا کرنے کے بعدہلکے پھلکے ہوگئے ۔
امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد :” طلب کرنے والوں کی دو قسمیں ہیں:
(۱)۔۔۔۔۔۔ آخرت کا طلبگار ، ایسا شخص اپنی طلب میں کامیاب ہوجاتا ہے اور اسکی اُخروی نعمتیں ختم نہیں ہوتیں۔
(۲)۔۔۔۔۔۔ دنیا کا طلبگار، ایسا شخص اپنی طلب میں بہت کم کامیاب ہوتا ہے، اوراسے جو دنیوی نعمتیں ملتی ہیں ان میں سے اکثر کو ضائع کر بیٹھتاہے ۔
میں نے ایسے لوگوں کی صحبت کا شرف حاصل کیا ہے جن کی نظریں آخرت ( کی نعمتوں) پر مرکوز تھیں۔ جاہل انہیں بیمار تصور کرتے تھے ۔ مگر اللہ عزوجل کی قسم! وہی سب سے زیادہ صحت مند دلوں کے مالک تھے ۔
اللہ عزوجل اس بندے پر رحم فرمائے جس نے اپنے آپ کواللہ عزوجل کی عبادت میں مشغول رکھا ۔ اور اللہ عزوجل کی کتاب قرآن مجید پر عمل پیرا ہوا ۔ اگر اس کا عمل کتا ب اللہ عزوجل کے موافق ومطابق ہوا تو اس نے اللہ عزوجل کی حمد وثناء بیان کی اور اپنے اس عمل میں زیادتی کا طلبگارہوا ۔اور اگر اس کا عمل کتاب اللہ عزوجل کے منافی ہوا تو اللہ عزوجل کی نارضگی سے بچنے کیلئے قریب ہی سے لوٹ آیا ۔
دنیا کا زوال بالکل ظاہر ہے۔ اس کی نعمتیں دائمی ہوں گا ۔نہ ہی اس کے مصائب وآلام سے کوئی امن میں ہے اس کی نئی چیز پوشیدہ ہوجاتی ہے ۔صحت مند بیمار ہوجاتا ہے ، غنی فقیر بن جاتا ہے۔ اپنے رہنے والوں کو اکثر عذاب سے دو چار رکھتی ہے اور ہر حال میں انہیں کھیل تماشا بنائے رکھتی ہے ۔دنیا میں سوائے اس کے کوئی چیز تیرے لئے فائدہ مند نہیں کہ جسے تو آخرت کے لئے بھیج چکا ہے ۔ پس تو مال کو اپنے لیے دنیا میں ذخیرہ نہ کر او رنہ اس چیز میں اپنے نفس کی پیرو ی کر جس کے بارے میں تو جانتا ہے کہ اسے تو نے اپنے پیچھے چھوڑ کر چلے جانا ہے ۔ بلکہ آنے والی مشقتوں کے لئے زادِ راہ تیار کر لے ( یعنی صدقہ وخیرات کرتا کہ آگے کام آئے ) اور اللہ عزوجل کی بارگاہ اقدس سے بلاوا (یعنی موت)آنے سے قبل اس کا اہتمام کر لے ۔کہیں ایسا نہ کہ اچانک موت کے گھاٹ اتر جائے اور تیری خواہشات دھری کی دھری رہ جائیں ۔ پھراسوقت تجھے شرمندگی اٹھانا پڑے۔ مگر اسوقت کی ندامت و شرمندگی کسی کا م نہ آئے گی دنیا کو اپنے جسم کی صحبت عطا کر مگر اسے اپنے دل سے دور رکھ اور اس کے غم میں مبتلا نہ ہو۔
دنیا والوں اور ان کے امور کے درمیانراستہ خالی چھوڑ دے کیونکہ وہ تھوڑا عرصہ ہی باقی رہیں گے۔مگر حقیقت میں اس کے وبال کو سجایا ہوا پیش کیا گیا ہے ۔ لوگو ں کا دنیا کو پسند کرنا تیرے اس کو ناپسند کرنے میں اضافہ کرے اور لوگوں کا اس میں مطمئن ہونا تیرے لئے اس میں احتیاط کرنے اور اس سے مزید دور بھاگنے میں اضافہ کرے ۔ جس کام ( یعنی عبادت )کے لئے تجھے پیدا کیا گیا ہے اس میں خود محبت کر۔ اپنی مشغولیت اور فراغت اسی میں گزار دے۔ تو نے جو عمل بھی کیا تو اسے دیکھ لے گا اور اس کے بارے میں تجھ سے پوچھا جائے گا ،اب تو صبح وشام موت کا انتظار کر ۔
اے لوگو! تم ایسے برے اور مذموم گھر میں آگئے جسے آزمائش کے طور پر پیدا کیا گیا اور اس کی ایک مقررہ میعاد ہے جب وہ پوری ہوجائے تو (زندگی)ختم ہوجاتی ہے ۔ یہ ایسا فانی گھر ہے کہ اللہ عزوجل اپنی مخلوق کے اس کی طر ف جھکنے اور مائل ہونے سے راضی اور خوش نہیں ہوتا ، اس کے عیوب ، اس سے باز رہنے اور اس کے علاوہ میں رغبت رکھنے کے بارے میں بہت ساری آیات اور مثالیں بیان کی گئی ہیں، جو اس میں رہا مگر اس سے نفرت کی اور نفسانی خواہشات کو تر ک کیا تو وہی سعاوت مند رہا۔ اور جو اس میں رہا او ر اس سے رغبت اور محبت رکھی تو ایسا کرنے سے وہ بدبخت ہوگیا ۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محرو م ہوگیا ۔
اس کا مال ومتاع انتہائی قلیل ہے اور اس کا فنا ہوجانا لکھ د یاگیا ہے ۔اس کے رہنے والے اسے چھوڑ کر ان منازل کی جانب جانے والے ہیں جو کبھی فنا نہ ہونگی ۔ اے ابن آدم! دنیا کی طویل عمری تجھے دھوکے میں نہ رکھے۔ بے شک آنے والی ہولناکیاں اور امور کی سختیاں جو کہ تمہارے سامنے ہیں ان سے آج تک کوئی بھی خلاصی نہیں پاسکا۔ خدا عزوجل کی قسم ! اس مشکل راستے پر ضرو رچلنا ہے اور تمام امور ضرور پیش آنے والے ہیں۔ پھر یا تو اس کے شر سے عافیت اور اسکی ہولناکی سے نجات مل جائے گی ۔یا پھر ایسی ہلاکت وبربادی ہوگی کہ جس کے بعد خیر اور بھلائی نہیں ہے ۔ اے ابن آدم ! موت کی تیاری میں جلدی کر اور ” کل ، کل ” کی رٹ نہ لگا ۔ جو کرنا ہے آج ہی کر لے۔ اس لئے کہ تو یہ نہیں جانتا کہ کب تجھے اللہ عزوجل کی طر ف لوٹ کر جانا ہے ۔

اے ابن آدم! تو ہرگز نیکی کے کسی کام کو بھی حقیر نہ جان ،کیونکہ جب تو اسے دار جزاء میں دیکھے گا تو اس نیکی کا وہاں موجود ہونا تجھے خوش کردے گا۔اور برائی کے کسی کام کو ہرگز حقیر نہ جان! کیونکہ جب تو اسے دیکھے گا تو اس کاوہاں موجود ہونا تجھے غمناک کردے گا ۔ اے ابن آدم ! زمین کو اپنے قدموں تلے روندھ ڈال کیونکہ یہ تیری قبر کے قریب ہے۔ 

اے ابن آدم ! جس وقت سے تیری ماں نے تجھے جنا اس وقت سے اب تک لگا تا ر تیری عمر کم ہوتی جار ہی ہے۔ 

اے ابن آدم ! تیرے لئے ایک نامہ اعمال کھول دیا گیا ہے اور تیرے اوپر دو فرشتے مقرر کردیئے گئے ہیں ۔ایک تیری دائیں جانب جبکہ دوسرا بائیں جانب ہے۔ اب کم اعمال کر! یا زیادہ، جب تو مرے گا تو اس نامہ اعمال کو لپیٹ کراسے تیرے گلے میں پہنا دیا جائے گا ۔

اِقْرَاۡ کِتٰبَکَ ؕ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیۡکَ حَسِیۡبًا

ترجمہ کنز الایمان :فرمایا جائے گا کہ اپنا نامہ (نامہ اعمال )پڑھ، آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کوبہت ہے ۔ ( پ 15، بنی اسرائیل :14)

اے ابن آدم ! تو ریا کا ری کرتے ہوئے کوئی نیکی نہ کر او رنہ ہی شرم کی وجہ سے کسی نیکی کوچھوڑ ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.