صحابہ و تابعین کے حفظ و ضبط کی نادر مثالیں

صحابہ و تابعین کے حفظ و ضبط کی نادر مثالیں

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بابت آپ پڑھ چکے کہ آپ سے ۵۳۷۲ احادیث مروی ہیں ،حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انکی یادداشت کیلئے دعا کی تھی جسکے نتیجہ میں آپ فرماتے تھے کہ پھر میں کبھی کوئی حدیث نہیں بھولا،آپکے اس دعوی پرہوسکتا ہے کچھ شک گذراہوکہ ایک دن مروان بن الحکم نے آپ کو بلایا ،مروان کے سکریٹری ابوالزعزہ کابیان ہے کہ مجھے پہلے ہی حکم مل چکا تھا کہ میں پردہ کے پیچھے بیٹھ کرجو کچھ وہ بیان کریں لکھتا جائوں ، بہرحال یہ ہی ہوا ،مروان مختلف انداز سے سوالات کرتا اورحضرت ابوہریرہ احادیث کریمہ بیان کرتے جاتے اور میں پس پردہ لکھتا جاتاتھا ۔یہاں تک کہ ایک اچھاخاصا مجموعہ تیار ہوگیا ۔

لیکن ابوہریرہ کوکچھ خبر نہ تھی ۔

اسکے بعد حضرت ابوہریرہ چلے گئے اوروہ مجموعہ بحفاظت رکھ دیاگیا ۔ابوالزعزہ کہتے ہیں ۔

فترکہ سنۃ ثم ارسلہ الیہ واجلسنی وراء الستر فجعل یسألہ واناانظر فی الکتاب فمازادولانقص ۔( کتاب الکتی للبخاری، ۳۳)

مروان نے اس مجموعہ کوایک سال تک رکھ چھوڑا ،اسکے بعد حضرت ابوہریرہ کو پھر بلایا اور مجھے بٹھاکر آپ سے وہی احادیث پھر پوچھیں ،میں کتاب دیکھتاجاتا تھا ،پوری کتاب سنادی لیکن نہ کسی لفظ کااضافہ تھا اورنہ کمی ۔

گویا یہ آپ کا متحان تھا جس میں آپ دعائے رسول کی بدولت فائز المرام رہے اوراہل دربار نے آ پ کے حافظہ کی قوت کی توثیق کی ۔

حضرت امام ابن شہاب زہری جنکو حدیث رسول کی تدوین کیلئے باقاعدہ دربارخلافت سے حکم نامہ جاری ہواتھا اورانہوں نے نہایت محنت شاقہ سے باحسن وجوہ یہ کارنامہ انجام دیا

جسکی تفصیل آئندہ ملاحظہ کریں ،کہاجاتا ہے کہ ہشام بن عبدالملک نے آپکے حافظہ کاامتحان لینا چاہا تویوں کیاکہ ایک دن آپ دربارمیں کسی ضرورت سے آئے ہوئے تھے ،اس نے خواہش ظاہر کی کہ شہزادے کوکچھ حدیثیں لکھوادیجئے ،آپ راضی ہوگئے اورآپ نے چار سواحادیث املاکرادیں ۔ایک ماہ بعد جب زہری دوبارہ پہونچے توبڑے افسوس سے ہشام نے کہا :۔

ان ذلک الکتاب ضاع۔( تذکرۃ الحفاظ للذہبی، ۱/۲۰۱)

وہ کتاب ضائع ہوگئی ۔

آپ نے فرمایا: توپریشانی کی کیابات ہے ؟لائو پھرلکھوائے دیتے ہیں ، غرضکہ آپ نے برجستہ پھرچار سواحادیث کا املا کرادیا ۔

اب سنئے ،درحقیقت پہلا نسخہ ضائع نہیں ہواتھا بلکہ ہشام کی یہ ایک ترکیب تھی ،جب امام زہری دربار سے چلے گئے تویوں ہوا ۔

قابل بالکتاب الاول فماغادرحرفا۔

جب پہلی کتاب سے مقابلہ کیاگیا توایک حرف بھی نہیں چھوٹاتھا ۔

امام ابوزرعہ رازی کے حالات میں لکھاہے کہ ایک مرتبہ محمدبن مسلم اورفضل بن عباس کے درمیان آپکی مجلس میں ایک حدیث کے الفاظ پر بحث شروع ہوگئی ،جب کوئی فیصلہ نہ ہوا توآپکی طرف رجوع کیاگیا ،آپ نے اپنے بھتیجے ابوالقاسم کوبلوایا ،جب وہ آئے تو آپ نےفرمایا:۔

ادخل بیت الکتب فدع القمطرالاول والثانی والثالث ،وعد ستۃ عشر جزئً وأتنی بالجزء السابع عشر۔( تہذیب التہذیب ۷/۳۳)

کتب خانہ میں جاؤ اور پہلے دوسرے تیسرے بستہ کو چھوڑ کر چوتھے بستہ سے سولہ حصوں کے بعد سترہواں حصہ میرے پاس لائو ۔

ابوالقاسم کا بیان ہے کہ حافظہ ابوزرعہ نے اس حصہ کے اوراق الٹ کرحدیث جس صفحہ پرتھی اسکو نکال کرپیش کردیا ۔ محمد بن مسلم نے جب وہ حدیث ملاحظہ کی تو صاف اقرار کرنا پڑا کہ ہاں ہم نے غلطی کی ۔

امام ابوزرعہ کا کہناتھا کہ پچاس سال ہوئے جب میں نے حدیثیں لکھی تھیں اوروہ میرے گھر میں رکھی ہیں ،لکھنے کے بعد پھرکبھی دوبارہ مطالعہ نہیں کیا،لیکن جانتاہوں کہ کونسی حدیث کس کتاب میں ہے کس صفحہ میں ہے کس سطر میں ہے ۔

مشہور محدث وفقیہ اسحاق بن راہویہ استاذ امام بخاری کے بارے میں منقول ہے کہ خراسانی امیر عبداللہ بن طاہر کے دربار میں ابن راہویہ کی کسی دوسرے عالم سے بعض مسائل پرگفتگوہورہی تھی ،کسی کتاب کی عبارت کے سلسلہ میں اختلاف ہوا ، اس پر ابن راہویہ نے امیر عبداللہ سے کہا: آپ اپنے کتب خانہ سے فلاں کتاب منگوایئے ،کتاب منگوائی گئی ،آپ نے فرمایا:۔

عدمن الکتاب احدی عشرۃ ورقۃ ثم عد سبعۃ اشطر۔( تاریخ دمشق لا بن عساکر، ۲/۴۱۳)

کتاب کے گیارہ مدق پلٹ کرساتویں سطرمیں دیکھئے وہی ملے گا جو میں کہہ رہاہوں ۔

جب وہ عبارت بعینہ مل گئی توامیر نے کہا: ۔

علمت انک قد تحفظ المسائل ،ولکنی اعجب بحفظک ہذہ المشاہدۃ۔(تاریخ دمشق لا بن عساکر، ۲/۴۱۲)

یہ چیز تو مجھے معلوم تھی کہ آپ مسائل کے خوب حافظ ہیں ،لیکن آپکی قوت یادداشت اور حفظ کے اس مشاہدہ نے مجھے حیرت میں ڈال دیا ۔

ان چندواقعات سے اس چیز پرکافی روشنی پڑتی ہے کہ احادیث وسنن کے ذخیرہ کو ان تابعین وتبع تابعین نے اپنے سینے میں کس طرح محفوظ کرلیاتھا ۔ ساتھ ہی یہ بات بھی روزروشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ علم حدیث سینوں سے سفینوں کی طرف ا ن حضرات کے عہد میں بھی منتقل ہو تا رہا بلکہ کافی عروج پر تھا۔ ساتھ ہی اس چیز کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ وہ حضرات اپنے حفظ وضبط کی تائید کتابت شدہ مواد سے کرتے تھے اورکتابت کا موازنہ حفظ سے کیاجاتا

تھا ۔

علامہ پیرکرم شاہ ازہری تدوین حدیث کی مزید تفصیلات پر یوں روشنی ڈالتے ہیں ۔

عہد نبوی ،عہد صحابہ اور تابعین میں کتابت وتدوین حدیث کی جو مثالیں ہم نے گذشتہ پیغامات میں بیان کی ہیں،ان سے مستشرقین کے اس تاثرکی تردید ہوجاتی ہے کہ احادیث کی تدوین دوسری یاتیسری صدی ہجری میں ہوئی اوراس سے پہلے صرف زبانی طور پراحادیث کی روایت کارواج تھا ۔حقیقت یہ کہ تاریخ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں گو احادیث کی حفاظت کیلئے زیادہ انحصار زبانی یاد کرنے اور ان فرامین رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو امت کی عملی زندگی میں نافذ کرنے پر تھا لیکن اسکے باوجود حفاظت حدیث کیلئے کتابت کے ذریعہ کو مسلمانوں نے تاریخ اسلام کے ہردور میں استعمال کیا ہے ۔

ملت اسلامیہ چند غیر منظم لوگوں کے ہجوم کا نام نہ تھا بلکہ یہ تاریخ انسانی کی منظم ترین جماعت تھی ۔اس ملت کو اپنے الہامی پیغام پر صرف خود ہی عمل پیرا نہ ہونا تھا بلکہ ساری نسل انسانی کو اس حیات بخش پیغام کی طرف بلانا ان کا ملی فریضہ تھا ۔ملت اسلامیہ نے ریاست کے داخلی مسائل کو بھی حل کرنا تھا اور خارجی اور بین الاقوامی مسائل سے بھی نبٹنا تھا ۔ اس ملت کا اپنا ایک علیحدہ آئین بھی تھا اور قانون بھی ۔ملت کے مقتدر حضرات کے سامنے قوم کے سیاسی معاشی اور دینی مسائل کو حل کرنے کا چیلج بھی تھا ۔ان کیلئے زندگی کے ان تمام شعبوں کے متعلق تفصیلی ہدایات احادیث پاک میں موجود تھیں ۔ملت کی ان گوناگوں ذمہ داریوں کو سرسری نظر سے دیکھ کر ہی انسان اس نتیجہ پر پہونچ جاتا ہے کہ مسلمان احایث طیبہ کی حفاظت کیلئے کتابت کے ذریعہ کونظر اندازکرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے ۔وہ قوم جس کے آئین کی ایک شق یہ ہو :۔

ولاتسئموا ان تکتبوہ صغیرا اوکبیرا الی اجلہ۔

’’اور نہ اکتایا کرو اسے لکھنے سے خواہ (رقم قرضہ ) تھوڑی ہویا زیادہ ،اس کی میعاد تک ‘‘

اس ملت سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ زبان رسالت سے حاصل ہونے والے علوم ومعارف کی حفاظت کیلئے کتابت کے ذریعہ کو نظر انداز کردے ۔

جو دین آپس کے معمولی لین دین کو تحریر کرنے کا حکم دیتاہے ،یہ بات اس دین کے مزاج ہی کے خلاف ہے کہ وہ ان ہدایات کو ریکارڈ کرنے پرتوجہ نہ دے جو قیامت تک ملت کی رہنمائی کیلئے ضروری ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ملت کے مزاج کے عین مطابق مسلمانوں نے کسی دور میں کتابت حدیث کو نظر انداز نہیں کیا ، البتہ ابتدائی زمانہ میں انکا زیادہ انحصار حفظ پر تھا ۔ جولوگ احادیث طیبہ کے مجموعے تیار کرتے تھے وہ بھی انکو حفظ کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ کتابت حدیث کی ممانعت کی جو احادیث مروی ہیں ان میں احادیث لکھنے کی جو ممانعت کی گئی ہے اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ لوگ تحریر پر بھروسہ کرکے احادیث کو یاد کرنے میں سستی نہ کرنے لگیں ۔

احادیث کی حفاظت کیلئے عہد نبوی میں مسلسل کوششیں ہوتی رہیں لیکن جس طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عہد صدیقی میں قرآن حکیم سے متعلق یہ محسوس کیاتھا کہ گو قرآن حکیم مسلمانوں کے سینوں میں بھی محفوظ ہے اور مختلف اشیاء پر کتابت شدہ شکل میں بھی کاشانۂ نبوت اور کئی صحابہ کرام کے پاس بھی موجود ہے لیکن اسکے باوجود وقت کا تقاضاہے کہ قرآن حکیم کو باقاعدہ ایک صحیفے کی شکل میںجمع کردیا جائے ،بعینہ اسی طرح خلیفۂ برحق ، امام عادل ،ثانی فاروق حضرت عمر بن عبداللہ العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں یہ بات شدت سے محسوس کی کہ حفاظت احادیث کیلئے جو کوششیں پہلے ہوتی رہی ہیں ،گو ماضی میں تو وہ احادیث کی حفاظت کے مقصد کیلئے کافی تھیں لیکن حالات کے بدلتے ہوئے تقاضے احادیث کی باقاعدہ تدوین کا مطالبہ کرتے ہیں ۔اسی احساس کی وجہ سے انہوں نے سو ہجری میں حضرت ابوبکر بن حزم والئی مدینہ کو مندرجہ ذیل حکم بھیجا :۔

انظر ماکان من حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فاکتبہ فانی خفت دروس العلم وذہاب العلماء ولاتقبل الاحدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ولیفشوا العلم ولیجلسوا حتی یعلم من لایعلم فان العلم لایہلک حتی یکون سراً وکذلک کتب الی عمالہ فی امہات المدن الاسلامیۃ بجمع الحدیثْ

’’ حضور کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی احادیث کو نہایت احتیاط سے لکھ دو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں علم آثار مٹ نہ جائیں اورعلماء اس دارفانی سے رخصت نہ ہوجائیں ۔اور رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قول کے بغیر کسی کا قول قبول نہ کرنا چاہیئے ۔ علماء علم کو پھیلا یئں اور جو ناواقف ہیں ، ان کو سکھانے کیلئے بیٹھ جائیں کیوں کہ علم اگر راز ہوجائے (یعنی چیدہ چیدہ لوگ اس سے واقف ہوں )تو اسکی فنا یقینی ہے ۔ اسی طرح آپ نے مملکت اسلامیہ کے مشہور شہروں کے والیوں کی طرف بھی حدیث جمع کرنے کے احکام صادرفرمائے ۔‘‘

حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے والئی مدینہ حضرت ابوبکر بن حزم کے نام جو فرمان لکھا اس میں خصوصی طورپر یہ تاکید بھی تھی کہ وہ ان احادیث کو لکھ کر انکی طرف روانہ کریں جو حضرت عمر ہ بنت عبدالرحمن انصاریہ اور حضرت قاسم بن محمد بن ابوبکر کے پاس موجود

ہیں ۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے صرف عمال حکومت کو احادیث مدون کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ آپ خود بھی احادیث لکھا کرتے تھے حضرت ابو قلابہ سے روایت ہے ،فرمایا:۔

خرج علینا عمر بن عبدالعزیز لصلوۃ الظہر ومعہ قرطاس ثم خرج علینا لصلوۃ العصر وھومعہ فقلت لہ : یاامیرالمومنین ، ماہذاالکتاب ؟ قال حدیث حدثنی بہ عون بن عبداللہ فاعجبنی فکتبتہ ۔

’’ حضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز ظہر کیلئے باہر تشریف لائے تو انکے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا ۔پھر عصر کیلئے تشریف لائے توپھربھی وہ کاغذ انکے پاس تھا میں نے عرض کیا : امیرالمومنین !یہ کتاب کیسی ہے ؟فرمایا: یہ حدیث پاک ہے جوعون بن عبداللہ نے مجھے سنائی ۔مجھے یہ حدیث پاک بہت پسند آئی اور میں نے اس کو لکھ لیا ۔‘‘

حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تدوین حدیث کی ضرورت کا جو احساس کیا تھا یوں محسوس ہوتاہے جیسے انہوں نے بہت جلد ملت کے اکابر علماء کو اس احساس میں اپنے ساتھ شریک کرلیاتھا اور کتابت حدیث کی کراہت کا جو رویہ عہد صحابہ اور عہد تابعین کے ابتدائی دور میں موجود تھا ، وہ رویہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور کے تقاضوں کی وجہ سے پہلے مدھم ہوا اور پھر ختم ہوگیا ۔ اس بات کی دلیل یہ ہے کہ اس عہد میں بے شمار علماء نے تدوین حدیث کی کوششوں میں حصہ لیا ۔ کتابت حدیث کے متعلق ملت کے رویے میں تبدیلی کے اسباب کا اندازہ حضرت امام زہری کے اس قول سے ہوتاہے ۔وہ فرماتے ہیں :۔

لولا احادیث تأتینامن قبل المشرق ننکرہا لا نعرفہا ماکتبت حدیثاً ولآاذنت فی کتابہ۔

’’ اگر وہ احادیث نہ ہوتیں جو مشرق کی طرف سے ہم تک پہونچتی ہیں اور ہم انکے متعلق نہیں جانتے تومیں نہ تو احادیث کو لکھتا اور نہ اسکی اجازت دیتا ‘‘

گویا وقت کے تقاضوں نے احادیث طیبہ کی حفاظت کیلئے تدوین حدیث کو انتہائی ضروری قرار دیدیا تھا اور زہری اوردیگر علماء نے اس خطرے کو فوراً بھانپ لیاتھا کہ اگر تدوین حدیث کا کام سرانجام نہ دیاگیا تو اسلام دشمن قوتیں وضع حدیث کے فتنے کے ذریعے اسلام کی جڑوں کو کھوکھلاکرنے کی کوشش کریں گی ۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعوت کے جواب میں ریاست اسلامی کے تمام شہروں میں علماء نے احادیث کی تدوین کا کام شروع کردیا ۔امام زہری کے علاوہ جن خوش نصیبوں کا شمار احادیث پاک کے ابتدائی مدونین میں ہوتا ہے ،ان میں سے چند ایک اسماء گرامی یہ ہیں ۔

مکہ مکرمہ میں : عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج البصری (م۱۵۰ھ)

مدینہ طیبہ میں : امام مالک بن انس ، (م۱۷۹ھ)

محمدبن اسحاق ، (م۱۵۱ھ )

محمد بن عبدالرحمن بن ابی ذئب ، (م۱۵۸ھ)

بصرہ میں : ربیع بن صبیح ، (م۱۶۰ھ)

سعید بن ابی عروہ ، (م۱۵۶ھ )

حماد بن سلمہ ، (م۱۶۷ھ)

کوفہ میں : سفیان ثوری (م۱۶۱ھ )

یمن میں : معمربن راشد (م۱۵۳ھ )

شام میں : عبدالرحمن بن عمروالا وزاعی ، (م۱۵۸ھ )

خراسان میں : عبداللہ بن عمر ، (م۱۸۱ھ )

واسط میں : ہشیم بن بشیر ، (م۱۸۳ھ )

رے میں : جریر بن عبدالحمید (م۱۸۸ھ )

اور مصر میں عبداللہ بن وہب ، (م۱۹۸ھ )

حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم سے احایث کے جومجموعے تیار ہوئے ،انہیں صرف حفاظت کیلئے سنبھال کر رکھ نہیں دیاگیا بلکہ امت میں انکی اشاعت کیلئے خصوصی اہتمام کیا گیا ۔حضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم کی تعمیل میں سب سے پہلے حضرت ابن شہاب زہری نے احادیث سے مرتب کرکے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس بھیجیں اور آپ نے انکی نقلیں فوراً ریاست اسلامی کے مختلف علاقوں میں روانہ فرمادیں ۔ حضرت ابن شہاب زہری نے خود وضاحت فرمائی ہے :۔

امرنا عمربن عبدالعزیز بجمع السنن فکتبناہا دفتراً دفترا فبعث الی کل ارض لہ علیہا سلطان دفتراً۔

’’ حضرت عمربن عبدالعزیز نے ہمیں احادیث جمع کرنے کا حکم دیا ۔ہم نے احادیث طیبہ کو کئی دفاترمیں مرتب کردیا اور حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ہراس علاقے کی طرف ایک دفتر روانہ کردیا جو انکی سلطنت کا حصہ تھا ۔‘‘

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے احادیث طیبہ کی صرف تدوین کاہی حکم نہیں دیاتھا بلکہ ساتھ ہی انکی نشرواشاعت کا بھی حکم دیا تھا اور فرمایاتھا کہ احادیث کو پھیلائو کیونکہ یہ علم ہے اور علم جب راز بن جائے تو ختم ہوجاتا ہے ۔

گزشتہ بحث سے ہم اس نتیجہ پر پہونچتے ہیں کہ احادیث طیبہ کی حفاظت کیلئے کتابت کے ذریعے کو ابتداء ہی سے استعمال کیا جاتارہا ۔احادیث طیبہ کو سینوں میں محفوظ رکھنے ،اپنی زندگیوں کو انہی کی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے اور احادیث کو تحریر ی شکل میں محفوظ رکھنے کی انفرادی کوششیں اتنی عمدہ تھیں کہ انکی موجودگی میں سرکاری سطح پر احادیث کی باقاعدہ تدوین کی ضرو ر ت محسوس نہیں کی گئی ۔لیکن پہلی صدی ہجری کے اختتام پر حالات نے خلیفۂ وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز کو سرکاری سطح پر تدوین حدیث کی طرف راغب کیا اور انکے حکم سے سرکاری سطح پر تدوین حدیث کی ابتداہوئی ۔اسکے بعد ہرزمانے کے علماء نے احادیث طیبہ کی خدمت میں حصہ لیا ۔

امت مسلمہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے اپنے دین کی حفاظت کیلئے زمانے کے بدلتے ہوئے حالات پر ہمیشہ کڑی نظر رکھی اور جب بھی قرآن و حدیث کی حفاظت کیلئے نئے اسلوب اپنانے کی ضرورت محسوس ہوئی ، انہوں نے وقت کے تقاضوں پر لبیک کہنے میں ذراسی بھی سستی نہیں کی ۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے سے پہلے سرکاری سطح پر احادیث کے مدون نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے پہلے ملت کے اصحاب اقتدار کو اسکااحساس نہ تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے پہلے اس اسلوب کو اپنانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی ۔ اس بات کی ایک بہت بڑی دلیل یہ ہے کہ جس طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مختلف علماء کو احادیث کی تدوین کے متعلق لکھا تھا ، اسی طرح انکے والد عبدالعزیز بن مروان نے بھی اپنی مصر کی گورنری کے زمانے میں حضرت کثیر بن مرہ کو احادیث لکھنے کے متعلق لکھاتھا :۔

حضرت لیث بن سعد کہتے ہیں :۔

حدثنی یزید بن ابی حبیب ان عبدالعزیز بن مروان کتب الی کثیر بن مرۃ الحضرمی وکان قدادرک بحمص سبعین بدریا من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال لیث : وکان یسمی الجندالمقدم قال : فکتب الیہ ان یکتب الیہ بما سمع من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم من احادیثھم الا حدیث ابی ہریرۃ فانہ عندنا۔

’’ یزید بن ابی حبیب نے مجھے بتایا کہ عبدالعزیز بن مروان نے کثیر بن مرہ حضرمی کو ،جن کی ملاقات حمص میں ستربدری صحابہ کرام سے ہوئی تھی اور جن کو ’’الجندالمقدم ‘‘ کہاجاتاتھا ،لکھا کہ انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علہم اجمعین سے جو احادیث سن رکھی ہیں وہ ان کیلئے تحریر کردیں سوائے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی احادیث کے کیونکہ وہ پہلے ہی انکے پاس موجود ہیں ۔‘‘

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ آیا حضرت کثیر بن مرہ نے گورنر مصر کے حکم کی تعمیل کی تھی یانہیں لیکن گورنر مصر کی خواہش کے باوجود علماء کرام تدوین حدیث کی طرف اس رفتار سے مائل نہیں ہوئے ،جس رفتار سے ان کے صاحبزادے کے دور میں انکی دعوت پر ہوئے تھے ۔ وجہ یہ تھی کہ عبدالعزیز بن مروان کے زمانے میں علماء نے اس کام کی ضرورت کو شدت سے محسوس نہ کیا تھا لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں علماء کرام نے اسی بات کو شدت سے خود بھی محسوس کیاجو خلیفۂ وقت نے محسوس کی تھی ۔یہی وجہ تھی کہ خلیفۂ وقت کی دعوت پر علماء کرام کی تدوین حدیث کی انتھک کوششوں میں مصروف ہوگئے ۔اس بات سے اس حقیقت کا بھی پتہ چلتاہے کہ علماء اسلام وقت کے حکمرانوں کے دبائومیں آکر کوئی ایسا کام نہ کرتے تھے جسے وہ خود غیر ضروری یا نا مناسب سمجھتے تھے ۔گورنر مصر کا حکم اس لئے نہ چل سکا کہ اس وقت کے علماء نے خود اس وقت اس کام کی ضرورت محسوس نہ کی اور اسی گورنر کے بیٹے کا اسی نوعیت کا حکم پوری آب وتاب سے اس لئے نافذ ہوگیا کہ انکے دور کے علماء نے خود بھی اس کام کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیاتھا ۔

جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ احادیث ہردور میں کتابت شدہ شکل میں موجود تھیں ، تواس سے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ملتاہے کہ ہرزمانے میں روایت حدیث میں کتابت کا دخل رہاہے اور یہ تصور کلیۃً غلط ہے کہ احادیث کی باقاعدہ تدوین سے پہلے وہ صرف زبانی طور پر ہی ایک راوی سے دوسرے راوی کی طرف منتقل ہوتی رہیں ۔( ضیاء النبی، ۷/۱۳۲ تا ۱۴۳)

مزیدلکھتے ہیں :۔

مسلمانوں نے اپنے دینی مصادر کی حفاظت کے معاملہ میں کبھی کوتاہی نہیں کی البتہ انہوں نے ہرزمانے میں دینی مصادر کی حفاظت کا وہی طریقہ استعمال کیا ، جو اس زمانے کے تقاضوں پر پورا اترتاتھا ۔جب حالات بدلتے اور دین کی حفاظت کیلئے نئے ذرائع استعمال کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی تو مسلمان وقت کے تقاضوں کی پکار پر فوراً لبیک کہتے ۔

قرآن اورحدیث کی حفاظت کی کوششیں کئی جہتوں سے ایک دوسرے کے مماثل ہیں حضو ر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کازمانہ ہی اسلام کا دور عروج ہے ۔مستشرقین سب سے بڑا مغالطہ اسی مقام پر پیداکرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دور ہمایوں کو اسلام کا دور طفولیت قرار دیتے ہیں حالانکہ یہی دور اسلام کا دور عروج ہے ۔قرآن و حدیث کی حفاظت کا بھی یہی دورعرج ہے ،جس کی مستشرقین کے نزدیک کوئی اہمیت ہی نہیں۔ عہد نبوی میں قرآن و حدیث کی حفاظت کی کوششوں کے متعلق مولانا محمد بدرعالم صاحب نے خوب لکھا ہے ،ان کے الفاظ نذر قارئین ہیں ۔

قرآن وحدیث کی حفاظت کا یہ دور دور شباب تھا ۔اس لئے حفاظ کی کثرت ،صحابہ کی یک جہتی اور آ نحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فیض صحبت کے عمیق اثرات نے اس ضرورت کا احساس ہی نہ ہونے دیا کہ وہ قرآن کیلئے کسی جدید نظم و نسق کا تخیل اپنے دماغوں میں لاتے ۔اسی طرح حدیث کا معاملہ بھی لوگوں کے اپنے اپنے انفرادی جذبہ تحفظ کی وجہ سے کسی مزید اہتمام کے قابل نہ سمجھاگیا ۔ حتی کہ جب جنگ یمامہ میں دفعۃً صحابہ کی ایک بڑی تعداد شہید ہوگئی تواب حاملین قرآن کو ان اچانک اور غیر معمولی نقصانات سے قرآن کی حفاظت میں خلل پڑجانے کا خطرہ بھی محسوس ہونے لگا ۔ چنانچہ یہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ پورے غورکے ساتھ ملحوظ رکھئے ۔

ان القتل قد استحر یوم الیمامۃ بقراء القرآن وانی اخشی ان استحر القتل بالقراء بالمواطن فیذہب کثیر من القرآن وانی اری ان تامر بجمع القرآن۔

’’ جنگ یمامہ میں حفاظ بے طرح شہید ہوئے ہیں ۔خدانہ کردہ اگر کہیں آئندہ اسی طرح حفاظ قتل ہوتے رہے تومجھے اندیشہ ہے کہ قرآن مجید کا بہت ساحصہ ضائع نہ ہوجائے ۔ اس لئے آپ قرآن جمع کرنے کا سرکاری طور پر انتظام کیجئے ۔‘‘

دوسری طرف اب اس دور پر غور فرمایئے جبکہ صحابہ ایک ایک کرکے اٹھتے جارہے تھے ۔ یعنی دیکھنے والوں کادورتو ختم ہو رہاتھا اور ان کی جگہ اب ان مشاہدات کو الفاظی لباس میں دیکھنے والوں کی باری آرہی تھی ۔جمال جہاں آراکوبے حجاب دیکھنے والوں کے سینوں میں جو حرارت بھڑک رہی تھی ،آپ کے انتقال مکانی کا حجاب پڑجانے سے اس کے شعلوں میں وہ تیزی باقی نہ رہنے کاامکان نظر آنے لگا تھا ۔ اس لئے یہاں بھی دیکھنے والوں کے دل میں بے چینی پیداہوناشروع ہوگئی کہ کہیں اس محبوب عالم کی ادائیں ان کے رخ انور کے نظارہ کرنے والوں کے ختم ہوجانے سے تاریخ کاایک صفحہ بن کرنہ رہ جائیں ۔ اس لئے وہ انتظام کرنا چاہیے جو عالم کی تاریخ میں ایک یادگار رہ جائے ۔اگر یہ فقط ان کے امتیانہ جذبات ہی کا کرشمہ ہوتا تورسول اورامتی کے رشتے اس سے پہلے بھی بہت ہوچکے تھے مگر یہاں سب پیرائے ہی پیرائے تھے ،اندرونی ہاتھ کوئی اورتھا جس نے اس تمام مشیزی کو حرکت دے رکھی تھی جس قدرت نے آپ کو تمام عالم کیلئے راہنما بنا کر بھیجا تھا ،وہ ہرگز یہ گوارا نہ کرسکتی تھی کہ آپ کی تصویر بھی آئندہ نسلوں کے سامنے کرشن اوررام چندرکی صرف کہانیوں کی طرح پیش کی جائے ۔ایک طرف نبوت ختم ہوچکی ہو ،رسالت کادروازہ مسدود ہو، دوسری طرف اس آخری رسول کے صفحات زندگی بھی محو شدہ اورمشتبہ صورت میں رہ جائیں حتی کہ آئندہ رسول کا دیکھنا تودرکنار ان کی سیرت کا صحیح مطالعہ بھی میسرنہ آسکے ۔اس لئے قرآن کریم کی حفاظت کے ساتھ حدیث کی حفاظت کی جہاں تک ضرورت تھی ،اس کا احساس بھی قلوب میں پیداکردیا گیا ۔ آخر حضرت عمربن عبد العزیز نے ابوبکر بن حزم کے نام یہ فرمان لکھ بھیجا :۔

انظر ماکان من حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فاکتبہ فانی خفت دروس العلم وذہاب العلماء ۔

’’ آئندہ علم کم ہونے اورعلماء کے اٹھ جانے کا اندیشہ ہے ۔‘‘

اب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ ،تقریباً نوے سال بعد کے ان الفاظ کے پہلو بہ پہلو رکھئے توآپ کو ان دونوں میں یکتانیت نظر آئے گی جوایک ہی شخص اورایک ہی دماغ کے خیالات میں نظر آتی ہے ۔ وہاں بھی خدائی حفاظت کے وعدے نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کے ارادہ میں جنبش پیداکی تھی اوریہاں بھی وہی وعدہ حضرت عمربن عبدالعزیز کے اس اقدام کے لئے محرک بنا ۔

ماوشمار بہانہ ساختہ اند۔( ضیاء النبی ۷/۱۲۲ تا ۱۲۴)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.