أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِى الۡاَرۡضِ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَقۡصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوةِ ‌ۖ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَكُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ ؕ اِنَّ الۡـكٰفِرِيۡنَ كَانُوۡا لَـكُمۡ عَدُوًّا مُّبِيۡنًا‏ ۞

ترجمہ:

اور جب تم زمین میں سفر کرو تو (اس میں) کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم نماز میں قصر کرلو ‘ اگر تم کو یہ خدشہ ہو کہ کافر تم پر حملہ کریں گے ‘ بیشک کافر تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جب تم زمین میں سفر کرو تو (اس میں) کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم نماز میں قصر کرلو ‘ اگر تم کو یہ خدشہ ہو کہ کافر تم پر حملہ کریں گے ‘۔ (النساء : ١٠١) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب تم مسافت کے مطابق سفر کرو (یہ اکسٹھ میل چھ سو چالیس گز ہے) تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم چار رکعت کی نماز کو قصر کرکے دو رکعت پڑھ لو ‘ قرآن مجید سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ قصر کی رخصت صرف اس صورت میں ہے جب کفار کے حملہ کرنے کا خطرہ ہو لیکن احادیث سے یہ ثابت ہے کہ سفر شرعی میں یہ رخصت زمانہ جنگ اور امن دونوں کو شامل ہے جیسا کہ ہم تفصیل سے عنقریب بیان کریں گے ‘ پہلے ہم اس آیت کا شان نزول بیان کریں گے ‘ اور صلوۃ خوف پڑھنے کا طریقہ بیان کریں گے ‘ پھر زمانہ امن میں نماز میں قصر پڑھنے کے دلائل ذکر کریں گے اور اخیر میں مسافت شرعیہ کا بیان کریں گے۔ فنقول وباللہ التوفیق : 

نماز خوف کا شان نزول : 

امام احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابوعیاش الزرقی بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عسفان (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے) میں تھے اور مشرکین کے امیر خالد بن ولید تھے ‘ ہم نے ظہر کی نماز پڑھی ‘ مشرکین نے کہا ہم نے ان کو غافل پایا کاش ہم ان پر اس وقت حملہ کردیتے جب یہ نماز میں تھے ‘ اس موقع پر ظہر اور عصر کے درمیانی وقت میں قصر کے متعلق (یہ) آیت نازل ہوگئی ‘ جب عصر کی نماز آئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو عصر کی نماز پڑھائی ‘ آپ نے ہمارے دو گروہ کردیئے ‘ ایک گروہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھتا رہا اور دوسرا گروہ آپ کی حفاظت کرتا رہا۔ (الحدیث) (سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ١٥٤٩‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ١٢٣٦‘ المستدرک ج ١ ص ٣٣٧‘ سنن کبری للبیہقی ج ٣ ص ٢٥٦۔ ٢٥٤) 

نماز خوف پڑھنے کا طریقہ : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نجد کی طرف ایک غزوہ میں گیا ‘ ہم دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری صفیں بنائیں ‘ ایک صف نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رکوع اور دو سجدوں میں ان کی امامت کی ‘ پھر یہ لوگ پہلے گروہ کی جگہ چلے گئے (جو دشمن کے سامنے تھا) جس نے نماز پڑھی تھی وہ آکر آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رکوع اور دو سجدوں میں ان کی امامت کی پھر آپ نے سلام پھیر دیا ‘ پھر ان میں سے ہر گروہ نے (بقیہ) ایک رکوع اور دو سجدے کیے (جس نے آپ کے پیچھے پہلی رکعت پڑھی تھی اس نے بقیہ رکعت لاحق کی طرح پڑھی اور جس نے آپ کے پیچھے دوسری رکعت پڑھی تھی اس نے بقیہ رکعت مسبوق کی طرح پڑھی) 

(صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٩٤٢‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٨٣٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ١٢٤٣‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٥٦٤‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ١٥٣٨‘ مصنف عبدالرزاق : ٤٢٤١‘ مسند احمد ج ٢ ص ١٤٨۔ ١٤٧‘ سنن دارمی ج ٢ ص ٥٩‘ سنن کبری للبیہقی ج ٣ ص ٢٦٣) 

امام محمد از امام ابوحنیفہ ‘ از حماد از ابراہیم روایت کرتے ہیں : 

جب امام اپنے اصحاب کو نماز خوف پڑھائے تو ایک جماعت امام کے ساتھ نماز پڑھے اور دوسری جماعت امام کے ساتھ نماز پڑھے اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے کھڑی رہے ‘ جو جماعت امام کے ساتھ کھڑی ہے امام اس کو ایک رکعت نماز پڑھائے ‘ پھر جس جماعت نے امام کے ساتھ ایک رکعت نماز پڑھی وہ کوئی کلام کیے بغیر دوسری جماعت کی جگہ جا کر کھڑی ہوجائے اور وہ دوسری جماعت امام کے پیچھے آکر نماز پڑھے امام اس کے ساتھ دوسری رکعت پڑھے ‘ پھر یہ جماعت کوئی کلام کیے بغیر جماعت کی جگہ جا کر کھڑی ہوجائے اور پہلی جماعت آئے اور تنہا تنہا (بقیہ) ایک رکعت پڑھے ‘ پھر وہ جا کر دوسری جماعت کی جگہ کھڑے ہوجائیں اور پھر دوسری جماعت آئے اور وہ بھی تنہا تنہا اپنی (بقیہ) پہلی رکعت پڑھے۔ 

امام محمد از امام ابوحنیفہ ‘ از حارث بن عبدالرحمان از حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اس کی مثل روایت کرتے ہیں ‘ امام محمد نے کہا ہم اس پوری روایت پر عمل کرتے ہیں ‘ لیکن پہلی جماعت اپنی بقیہ دوسری رکعت کو بغیر قرات کے پڑھے گی کیونکہ اس نے امام کے ساتھ پہلی رکعت پالی ہے ‘ اور دوسری جماعت اپنی بقیہ پہلی رکعت کو قرات کے ساتھ پڑھے گی کیونکہ اس کی امام کے ساتھ ایک رکعت رہ گئی ہے اور یہی امام ابوحنیفہ کا قول ہے۔ 

امام محمد از امام ابوحنیفہ از حماد از ابراہیم روایت کرتے ہیں کہ جو شخص تنہا نماز خوف پڑھ رہاہو وہ قبلہ کی طرف منہ کرے ‘ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو سواری پر قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے ‘ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اشارے کے ساتھ نماز پڑھے ‘ منہ جس طرف بھی ہو ‘ اشارہ کرتے ہوئے کسی چیز پر سجدہ نہ کرے ‘ اپنے رکوع میں سجدہ سے زیادہ جھکے ‘ اور وضو کو ترک نہ کرے اور نہ دو رکعتوں میں قرات کو ترک کرے ‘ امام محمد نے کہا ہم اس پوری حدیث پر عمل کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ کا قول ہے۔ (کتاب الآثار رقم الحدیث : ١٩٦۔ ١٩٥۔ ١٩٤‘ ص ٤٠۔ ٣٩‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی) 

علامہ المرغینانی حنفی متوفی ٥٩٣ ھ ‘ اور علامہ حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ نے بھی نماز خوف کا یہ طریقہ لکھا ہے۔ (ہدایہ اولین ص ١٧٧‘ مطبوعہ شرکت علمیہ ملتان درالمختار علی ہامش رد المختار ج ١ ص ٥٦٩۔ ٥٦٨‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 101