أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا كُنۡتَ فِيۡهِمۡ فَاَقَمۡتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلۡتَقُمۡ طَآئِفَةٌ مِّنۡهُمۡ مَّعَكَ وَلۡيَاۡخُذُوۡۤا اَسۡلِحَتَهُمۡ فَاِذَا سَجَدُوۡا فَلۡيَكُوۡنُوۡا مِنۡ وَّرَآئِكُمۡ ۖ وَلۡتَاۡتِ طَآئِفَةٌ اُخۡرٰى لَمۡ يُصَلُّوۡا فَلۡيُصَلُّوۡا مَعَكَ وَلۡيَاۡخُذُوۡا حِذۡرَهُمۡ وَاَسۡلِحَتَهُمۡ‌ ۚ وَدَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡ تَغۡفُلُوۡنَ عَنۡ اَسۡلِحَتِكُمۡ وَاَمۡتِعَتِكُمۡ فَيَمِيۡلُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ مَّيۡلَةً وَّاحِدَةً‌ ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِنۡ كَانَ بِكُمۡ اَ ذًى مِّنۡ مَّطَرٍ اَوۡ كُنۡـتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَنۡ تَضَعُوۡۤا اَسۡلِحَتَكُمۡ‌ ۚ وَ خُذُوۡا حِذۡرَكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا ۞

ترجمہ:

اور (اے رسول مکرم) جب آپ ان (مسلمانوں) کے درمیان ہوں اور آپ (حالت جنگ میں) نماز کے لیے کھڑے ہوں تو مسلمانوں کی ایک جماعت آپ کے ساتھ نماز پڑھے اور یہ لوگ اپنے ہتھیاروں سے مسلح رہیں اور جب وہ سجدہ کرلیں تو پیچھے چلے جائیں، اور مسلمانوں کی دوسری جماعت جس نے نماز پڑھی تھی وہ آکر آپ کے ساتھ (دوسری رکعت) نماز پڑھے اور وہ (بھی) اپنے اسلحہ کے ساتھ مسلح رہیں ‘ کافر یہ چاہتے ہیں کہ اگر تم اپنے اسلحہ اور سازو سامان سے غافل ہوجاؤ تو وہ یکبارگی ٹوٹ کر تم پر حملہ کردیں ‘ اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ اگر تم بارش یا بیماری کی وجہ سے اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دو اور (ضروری) سامان لیے رہو ‘ بیشک اللہ نے کافروں کے لیے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور یہ لوگ ہتھیاروں سے مسلح رہیں۔ (النساء : ١٠٢) 

اس میں اختلاف ہے کہ اس آیت سے آیا یہ مراد ہے کہ جو جماعت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز پڑھ رہی ہے وہ مسلح رہے ‘ یا جو جماعت دشمن کے مقابلہ میں کھڑی ہے وہ مسلح رہے ‘ ثانی الذکر حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے ‘ حضرت عبدالرحمان بن عوف (رض) زخمی ہوگئے تھے اور ان کے لیے ہتھیار اٹھانا دشوار تھا اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی : اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تم بارش یا بیماری کی وجہ سے ہتھیار اتار دو ۔ 

سفر شرعی میں نماز کو قصر کرکے پڑھنے کا وجوب :

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت یعلی بن امیہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن الخطاب (رض) سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

: اگر تم کو یہ خدشہ ہو کہ کافر تم پر حملہ کریں گے ‘ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم سفر میں قصر کرلو (النسا : ١٠١) 

اور اب لوگ سفر میں کفار کے حملہ سے مامون ہیں ! حضرت عمر ! نے کہا جس چیز سے تم کو تعجب ہوا ہے مجھے بھی تعجب ہوا تھا ‘ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کیا تھا ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ (قصر) صدقہ ہے جس کا اللہ نے تم پر صدقہ کیا ہے ‘ تم اس کے صدقہ کو قبول کرلو۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٨٦ ‘’ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ١١٩٩‘ ١٢٠٠‘ سنن کبری للنسائی ‘ رقم الحدیث : ١١١٢٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٠٦٥‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٣٥٤‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ رقم الحدیث : ٩٤٥‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ١٧٤‘ سنن کبری للبیہقی ج ٣ ص ١٤١۔ ١٤٠) 

اس حدیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امر فرمایا ہے کہ اللہ کے صدقہ کو قبول کرو اور اصل میں امر وجوب کے لیے آتا ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ سفر میں نماز کو قصر کرنا واجب ہے ‘ سو اگر کسی نے دانستہ سفر میں پوری نماز پڑھی تو وہ گنہ گار ہوگا۔ 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

امیہ بن خالد نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے کہا کہ قرآن مجید میں حضر میں نماز پڑھنے کا ذکر ہے اور نماز خوف کا بھی قرآن میں ذکر ہے اور سفر میں نماز پڑھنے کا ذکر نہیں ہے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا اور ہم اس کے سوا کچھ نہیں جانتے کہ ہم نے جو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ہم وہی کرتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٠٦٦‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ١٤٣٣) 

مسافت شرعی کی مقدار میں مذاہب ائمہ : 

مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان بھوپالی متوفی ١٣٧٠ ھ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک میل کے سفر پر بھی جائے تو قصر کرے گا۔ (السراج الوہاج ‘ ج ١ ص ٢٧٧) 

امام مالک بن انس اصبحی متوفی ١٧٩ ھ کے نزدیک مسافت قصر متوسط رفتار سے ایک دن کی مسافت ہے (بدایۃ المجتہد ١ ص ١٢١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

امام محمد بن ادریس شافعی متوفی ٢٠٤ ھ کے نزدیک مسافت قصر دو دن کی مسافت ہے۔ (المہذب مع شرح المہذب ج ٤ ص ٣٢٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ کے نزدیک بھی مسافت قصر دو دن کی مسافت ہے ‘۔ (المغنی ج ٢ ص ‘ ٤٧ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ ‘ )

امام محمد بن حسن شیبانی متوفی ١٨٩ ھ لکھتے ہیں : 

میں نے امام ابوحنیفہ سے پوچھا کہ تین دن سے کم سفر میں مسافر قصر کرسکتا ہے ؟ فرمایا نہیں میں نے پوچھا اگر وہ تین دن یا اس سے زیادہ مسافت کا سفر کرے ؟ فرمایا : اپنے شہر سے نکلنے کے بعد قصر کرنا شروع کر دے ‘ میں نے پوچھا تین دن کے تعین کی کیا دلیل ہے ؟ فرمایا حدیث شریف میں ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر بغیر محرم کے نہ کرے ‘ میں نے اس مسئلہ کو عورت کے سفر پر قیاس کیا ہے۔ 

(المبسوط ج ١ ص ٢٦٥‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ‘ ١٣٨٦ ھ)

مسافت قصر کا اندازہ بحساب انگریزی میل وکلومیٹر :

احناف کے نزدیک قصر کا موجب درحقیقت تین دن کا سفر ہے جس کو پیدل چل کر یا اونٹ پر سوار ہو کر انسانی تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ پورا کیا جائے۔ متاخرین فقہاء کرام نے مسلمانوں کی سہولت کے لیے اندازہ کیا کہ اس اعتبار سے یہ مسافت کتنے فرسخ میں طے کی جائے گی۔ بعض فقہاء نے اس مسافت کو اکیس (٢١) فرسخ قرار دیا بعض نے پندرہ فرسخ قرار دیا اور مفتی بہ اٹھارہ فرسخ کا قول ہے۔ (البحر الرائق ج ٢ ص ١٢٩‘ مطبوعہ مصر ‘ غنیۃ المستملی ص ٤٩٨‘ مطبوعہ مجتبائی دہلی) 

بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ مسافت کے پیمانے بھی بدلتے گئے اور پھر مسافت کو پہلے انگریزی میلوں اور بعد میں کلومیڑ سے ناپا جانے لگا۔ لہذا عہد حاضر کے علماء نے مسافت قصر کا اندازہ انگریزی میلوں سے قائم کیا۔ 

اس سے پہلے کہ ہم انگریزی میل اور کلومیٹر کے اعتبار سے مسافت قصر کا ذکر کریں وہ قاعدہ بیان کرنا چاہتے ہیں جس سے فرسخ کی مسافت انگریزی میل اور کلومیٹر میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ 

فقہاء نے ذکر کیا ہے کہ ایک فرسخ تین شرعی میل کا ہے اور ایک شرعی میل ‘ چار ہزار ذراع (انگلیوں سے کہنی تک ہاتھ) کا ہوتا ہے۔ (عالم گیری ج ١ ص ٢٠٠ مطبوعہ مصر) اور ایک متوسط ذراع ڈیڑھ فٹ یعنی نصف گز کا ہوتا ہے لہذا ایک شرعی میل دو ہزار گز کا قرار پایا اور اکیس فرسخ تریسٹھ میل شرعی ہیں جو ایک لاکھ چھبیس ہزار گز یعنی اکہتر انگریزی میل چارفرلانگ ایک سو ساٹھ گز ہیں اور یہ ایک سوپندرہ اعشاریہ ایک آٹھ نو (١٨٩ ء ١١٥) کلومیڑ کے برابر ہیں۔ فقہاء کا دوسرا قول پندرہ فرسخ ہے اور پندرہ فرسخ پینتالیس میل شرعی ہیں جو نوے ہزار گز یعنی اکیاون انگریزی میل ‘ ایک فرلانک بیس گز ہیں جو بیاسی اعشاریہ دو چھ آٹھ (٢٦٨ ء ٨٢) کلومیٹر کے برابر ہیں۔ فقہاء کا تیسرا قول جو مفتی بہ ہے وہ اٹھارہ فرسخ ہے اور اٹھارہ فرسخ چون میل شرعی ہیں جو ایک لاکھ آٹھ ہزار گز یعنی اکسٹھ انگریزی میل دو فرلانگ بیس گز ہیں اور یہ اٹھانوے اعشاریہ سات تین چار (٧٣٤ ء ٩٨) کلومیٹر کے برابر ہے۔ 

اس اعتبار سے مفتی بہ قول پر سفر شرعی اور قصر کے احکام اکسٹھ میل دو فرلانگ بیس گز یا اٹھانوے اعشاریہ سات تین چار (٧٣٤ ء ٩٨) کلومیٹر کی مسافت کے بعد شروع ہوں گے۔ زمانہ قریب کے علماء نے بھی مسافت شرعیہ کو انگریزی میلوں کے حساب سے بیان کیا ہے لیکن کا حساب بھی فقہاء کے مذکورہ قاعدہ کے موافق نہیں ہے۔ 

سید ابوالاعلی مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابوحنیفہ کے نزدیک جس سفر میں پیدل یا اونٹ کی سواری سے تین دن صرف ہوں (یعنی تقریبا ١٨ فرسنگ یا چون میل) اس میں قصر کیا جاسکتا ہے یہی رائے ابن عمر ‘ ابن مسعود اور حضرت عثمان (رض) اجمعین کی ہے۔ (تفہیم القرآن ج ١ ص ٣٩٠‘ مطبوعہ لاہور) 

سید ابوالاعلی مودودی کی اس عبارت میں چون میل سے چون میل شرعی مراد ہیں۔ مودودی صاحب کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے تھی اور بتلانا چاہیے تھا کہ چون میل شرعی اکسٹھ انگریزی میل کے برابر ہیں کیونکہ عام اردو پڑھے لکھے لوگ چون میل سے چون انگریزی میل ہی باور کریں گے۔ 

شیخ عزیز الرحمان لکھتے ہیں :

اس عبارت سے واضح ہوا کہ اصل مذہب حنیفہ کا یہ ہے کہ تین دن کا سفر ہو اور وہ جگہ جس کی طرف سفر کا ارادہ ہے تین منزل ہو لیکن بہت سے مشائخ نے فراسخ کا اعتبار کیا ہے اور اس میں فتوی ائمہ خوارزم کا پندرہ فرسخ ‘ یعنی اڑتالیس میل پر ہے ‘ مکرر آنکہ عبارت مذکور سے واضح ہے کہ اصل مذہب حنیفہ کا یہ ہے کہ تین منزل کا سفر ہو پس اگر حساب منازل کا سہل ہو تو اس کو دیکھا جائے مگر چونکہ ہر ایک کو اعتبار منازل میں دشواری ہوتی ہے اس وجہ سے مشائخ نے کل منازل کی تحدید میلوں سے کردی ہے جس میں تین قول ہیں جو اوپر معلوم ہوئے میل کی مقدار شرعی ذراع سے چار ہزار ذراع لکھی ہے اور ذراع شرعی اس زمانہ کے گز کے حساب سے قریب دس گرہ کے ہوتا ہے ‘ پس اس کے موافق میلوں کا حساب کرلیا جائے اور اڑتالیس میل کا اندازہ کرلیا جائے۔ (فتاوی دارالعلوم دیوبند ج ١ ص ٢٨٥‘ مطبوعہ کراچی) 

شیخ عزیز الرحمن نے اس عبارت میں کئی غلطیاں کی ہیں اول یہ کہ پندرہ فرسخ ‘ پینتالیس شریع میل کا ہے کیونکہ تین میل کا ایک فرسخ ہوتا ہے اور انہوں نے اڑتالیس میل لکھے ہیں ‘ دوم یہ کہ چونکہ انہوں نے میل کے ساتھ شرعی کی قید نہیں لگائی اس لیے عوام اردوداں لوگ اس کو انگریزی مروجہ میل پر محمول کریں گے۔ سوم یہ کہ انہوں نے ذراع شرعی دس گرہ قرار دیا ہے جو ڈیڑھ فٹ سے زیادہ ہے اس حساب سے شرعی مسافت اکسٹھ انگریزی میل سے متجاوز ہوجائے گی جب کہ وہ اڑتالیس انگریزی میل بیان کرتے ہیں۔ 

مفتی محمد شفیع متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں : 

الغرض ثابت ہوا کہ قول راحج اور مختار اور معتمد یہی ہے کہ میل چار ہزار گز کا ہے جس میں گز متاخرین کا اعتبار کرکے چوبیس انگشت قرار دیا گیا ہے جو انگریزی گز سے نصف یعنی اٹھارہ انچ ہے (الی ان قال) اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ میل کے بارے میں قول مختار فقہاء کرام کا یہ ہے کہ چوبیس انگشت کے گز سے دو ہزار گز کا ایک میل شرعی ہوا کیونکہ چوبیس انگشت کا ذراع ایک ہاتھ یعنی ڈیڑھ فت یا اٹھارہ انچ کا ہے جیسا کہ ذراع کی تحقیق میں بحوالہ چکرورتی گزر گیا ہے (الی ان قال) اور مشائخ حنیفہ میں سے بعض نے اکیس فرسخ جس کے تریسٹھ میل ہوتے ہیں بعض نے اٹھارہ فرسخ جس کے چون میل ہوتے ہیں اور بعض نے پندرہ فرسخ جس کے پینتالیس میل ہوتے ہیں مسافت قصر قرار دی ہے۔ عمدۃ القاری اٹھارہ فرسخ کے قول پر فتوی نقل کیا ہے اور البحرالرائق میں بھی بحوالہ نہایہ اسی قول پر فتوی نقل کیا ہے اور شامی اور بحر نے بحوالہ مجتبی اکثر ائمہ خوارزم کا فتوی پندرہ فرسخ کی روایت پر ذکر کیا ہے (اوزان شرعیہ ص ٢٦۔ ٢٣‘ ملخصا مطبوعہ کراچی) 

مفتی محمد شفیع صاحب نے یہ جتنے اصول بیان کیے ہیں وہ سب صحیح ہیں لیکن ان اصولوں کی بنیاد پر جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ غلط ہے لکھتے ہیں :

محققین علماء ہندوستان نے اڑتالیس (٤٨) میل انگریزی کو مسافت قصر قرار دیا ہے جو اقوال فقہاء مذکورین کے قریب قریب ہے اور اصل مدار اس کا اسی پر ہے کہ اتنی ہی مسافت تین دن تین رات میں پیادہ مسافر باآسانی طے کرسکتا ہے اور فقہاء حنیفہ کے مفتی بہ اقوال میں سے جو فتوی ائمہ خوارزم کا پندرہ فرسخ کا نقل کیا گیا ہے وہ تقریبا اسی کے بالکل مطابق ہے کیونکہ پندرہ فرسخ پینتالیس (٤٥) میل شرعی ہوتے ہیں اور شرعی میل انگریزی میل سے دو سو چالیس گز بڑا ہوتا ہے تو ٤٥ میل شرعی ٤٨ میل انگریزی سے کچھ زیادہ متفاوت نہیں رہتے۔ (اوزان شرعیہ ص ٢٦) 

مفتی صاحب کا یہ لکھنا بھی غلط ہے کیونکہ ٤٥ میل شرعی اکاون انگریزی میل ایک فرلانگ بیس گز کے برابر ہیں۔ 

اعلی حضرت فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں :

اگر اپنے مقام اقامت سے ساڑھے ستاون میل کے فاصلے پر علی الاتصال جانا ہو کہ وہیں جانا مقصود ہے بیچ میں جانا مقصود نہیں اور وہاں پندرہ دن کامل ٹھہرنے کا قصد نہ ہو تو قصر کریں گے ورنہ پوری پڑھیں گے۔ (فتاوی رضویہ ج ٣ ص ٦٩٠‘ مطبوعہ فیصل آباد) 

اعلی حضرت نے یہ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے ساڑھے ستاون میل کس ضابطہ اور قاعدہ سے مقرر کیے ہیں۔ 

علماء دیوبند نے مسافت قصر ٤٨ انگریزی میل قرار دی ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ :

ہمارے اساتذہ نے روزانہ بارہ کوس کا سفر یعنی سولہ میل انگریزی اختیار فرمایا ہے ‘ کیونکہ روزانہ اگر چھ گھنٹہ سفر کے لیے مقرر کیے جائیں تو تو فی گھنٹہ دو کوس پیادہ آدمی متوسط چال سے طے کرلیتا ہے اس اعتبار سے مسافت قصر ٤٨ میل یعنی ٣٦ کوس کو قرار دیا ہے۔ (فتاوی دارالعلوم مدلل ج ٤ ص ٤٩٢۔ ٤٩١) 

٤٨ انگریزی میل کو ثابت کرنے کے لیے یہ انتہائی عجیب طریقہ ہے ‘ کھانے پینے ‘ آرام ‘ نمازوں کے اوقات اور رات کی نیند بھی نکال لی جائے تو ٢٤ گھنٹوں میں سے سفر کے لیے یقینا چھ گھنٹوں سے زیادہ وقت بچے گا اور جو شخص سفر کرتا ہے وہ یقینا دن رات میں سے سفر کے لیے چھ گھنٹوں سے زیادہ وقت نکالے گا اور متوسط اونٹ کی رفتار سے ایک انسان ایک دن میں یقینا بیس میل سے زیادہ سفر کرسکتا ہے پھر جمہور فقہاء کے مطابق یہ قول کیوں نہ اختیار کیا جائے کہ مسافت قصر ٤٥ میل شرعی ہے جو اکسٹھ میل انگریزی اور چھ سوچالیس گز کے برابر ہے۔ 

مفتی محمد شفیع دیوبندی صاحب نے ٤٨ انگریزی میل کے ثبوت میں لکھا ہے کہ :

اور ٤٨ میل کی تعیین پر ایک حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جو دار قطنی نے حضرت عبداللہ ابن عباس سے روایت کی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ؛ ” یا اھل مکۃ لا تقصر والصلوۃ فی ادنی من اربعۃ برد من مکۃ الی عسفان “۔ (عمدۃ القاری ج ٣ ص ٥٣١‘ اوزان شرعیہ ص ٢٦) 

ترجمہ اے اہل مکہ چار برید سے کم میں نماز کا قصر مت کرو جیسے مکہ سے عسفان تک۔ 

لیکن مفتی صاحب کا یہ استدلال اس لیے صحیح نہیں ہے کہ ایک برید بارہ میل شرعی کا ہوتا ہے نہ کہ بارہ میل انگریزی کا ‘ سترہ فروری ١٩٨٨ ء کو ایک علمی مجلس میں مذاکرہ کے دوران مفتی صاحب کے صاحبزادے مفتی محمد رفیع عثمانی نے بھی تسلیم کیا کہ یہ تسامح ہے اور ایک بریدبارہ میل شرعی کا ہوتا ہے اور اس لحاظ سے مسافت قصر ٤٨ میل شرعی قرار پائے گی جو ٥٤ انگریزی میل ٩٦٠ گز کے برابر ہے۔ تاہم یہ روایت سندا ضعیف ہے جیسا کہ مفتی صاحب نے بھی تصریح کی ہے اس لیے مدار سفر تین دن کی مسافت ہے ‘ جس کو جمہور فقہاء نے ٥٤ شرعی میل کے برابر قرار دیا ہے اور اس پر فتوی ہے یہ متوسط قول ہے اور یہ اکسٹھ انگریزی میل اور چھ سو چالیس گز اور اٹھانوے اعشاریہ سات تین چار (٧٣٤ ء ٩٨) کلومیٹر کے برابر ہے۔ علماء دیوبند کے ایک مستند عالم مفتی رشید احمد لکھتے ہیں :

اکثر مشائخ احناف نے ١٨ فرسخ ٥٤ میل شرعی “ سوا اکسٹھ میل انگریزی کو متوسط قول قرار دے کر اس پر فتوی دیا ہے۔ علامہ شامی (رح) نے بھی اس قول کو مفتی بہ لکھا ہے اور احتیاط بھی اسی میں ہے۔ (احسن الفتاوی ج ٤ ص ٩٤‘ مطبوعہ کراچی) 

اس بحث کے اخیر میں مفتی محمد رفیع عثمانی نے مجھ سے کہا کہ اگر ہم اب مسافت قصر کو تبدیل کریں تو لوگ کہیں گے کہ ہماری پچھلی پڑھی ہوئی نمازوں کا کیا ہوگا ؟ اس آخری دلیل کی بناء پر انہوں نے ٤٨ انگریزی میل ہی کو قائم رکھا۔ 

سمندری سفر میں مسافت شرعیہ کا معیار :

سمندری سفر میں تین دن کی مسافت معتبر ہے جب کہ ہوا معتدل ہو نہ بہت تیز ہو نہ بالکل ساکن ہو ‘ جیسا کہ پہاڑ میں بھی تین دن کی مسافت معتبر ہوتی ہے۔ (عالم گیری ج ١ ص ١٣٩‘ مطبوعہ مصر) 

علامہ شامی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :

سمندر کے سفر میں جب ہوا معتدل ہو تو پھر تین دن کی مسافت کا اعتبار کیا جائے گا اور یہ لوگوں کو اپنے عرف میں معلوم ہوتا ہے لہذا اس مسئلہ میں ان سے رجوع کیا جائے۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ٥٢٧ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

ان عبارات سے یہ معلوم ہوا کہ سمندری سفر میں بادبانی کشتی تین دن میں جتنی مسافت طے کرتی ہے وہ سفر شرعی کا معیار ہے ‘ خواہ دخانی کشتی کے ذریعہ وہ سفر ایک دن یا اس سے کم میں بھی طے کرلیا جائے ‘ اب یہ بادبانی کشتیوں کے ملاحوں سے معلوم کرنا چاہیے کہ معتدل ہوا کے ساتھ وہ تین دن میں کتنا سفر طے کرلیتے ہیں وہی سفر شرعی کا معیار ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 102