الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر :363

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسواک منہ صاف کرنے والی ہے۔اﷲ کی رضا کا سبب ہے ۱؎ اسے شافعی و احمد دارمی و نسائی نے روایت کیا اور بخاری نے اپنی صحیح میں بغیر اسناد روایت کیا۔

شرح

۱؎ یعنی اس میں دین و دنیا کی بھلائی ہے۔خیال رہے کہ مسواک سے مسلمان کا مسواک کرنا بنیّتِ عبادت مراد ہے،کفار کی مسواک اورمسلمانوں کی عادتًا مسواک اگرچہ منہ تو صاف کردے گی مگر رضائے الٰہی کا ذریعہ نہ بنے گی،نیز اگرچہ مسواک میں دنیوی اور دینی بہت فوائد ہیں،مگر یہاں صرف دو فائدے بیان ہوئے۔یا اس لئے کہ یہ بہت اہم ہیں یا کیونکہ باقی فوائد بھی ان دو میں داخل ہیں۔منہ کی صفائی سے معدے کی قوت اور بے شمار بیماریوں سے نجات ہے اور جب رب راضی ہوگیا پھر کیا کمی رہ گئی۔