آہ : یہ دن بھی دیکھنا تھا !

✅ ہندوستانی پائلٹ کے واپس کیئے جانے کے قضیہ کو ” صلح حدیبیہ ” پر قیاس کرنے والے ” مجتہدین ” صحت قیاس کی کسی ایک شرط کو بھی ہرگز خاطر میں نہ لائیں لیکن ان کے اپنے مفاد کے لیئے ان سے دست بستہ گذارش ہے کہ متاع ایمان کو خطرہ میں نہ ڈالیں ۔

🙏 یہ معاہدہ ہونے سے تھوڑا پہلے بیعت کا منظر ذہن میں لائیں جی ہاں وہی بیعت ، جس کے کرنے والوں کو اللہ تبارک و تعالی نے اپنے راضی ہو جانے کی نوید سنائی ۔

اللہ تبارک و تعالی کے رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے حضرت سیدنا عثمان کی طرف سے اپنے ہی دست مبارک پر بیعت کی ۔

( وہ ایک مسلمان کی شہادت کی غیر مصدقہ خبر تھی ۔ ہم تو ایک عرصہ سے شہادتیں سمیٹ رہے ہیں )

🌹 اللہ تبارک و تعالی کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام رضوان الله تعالى عليهم أجمعين کا عمل شریف تو یہ مرنے مارنے کی بیعت تھی .

اہل مکہ کے قاصد سے بات چیت کے بعد اللہ تبارک و تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس معاہدہ کے متعلق بتا کر احترام کھولنے کا فرماتے ہیں تو صحابہ کرام اپنی بیعت پر قائم ، اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں

( اس حالت میں بھی کوئی بزدلی ،کمزوری اور کفار کے علاقے میں ہونے کے باوجود ان سے مرعوب ہونے کا شمہ بھی محسوس نہیں کرواتا )

اللہ تبارک و تعالی کا وہ رسول جو ان کا سب کچھ ہے، جسے وہ رسول جانتے مانتے ہیں ۔ سب کے سامنے کھلے عام حلق کرواتا ہے تو مقام رسالت سے آگاہ اور ناموس رسالت کے پاسدار صحابہ اس راز کو سمجھتے ہوئے اب پروانہ وار حلق کروا کے غیر مسلموں کو کئی درس دے جاتے ہیں ۔

مہربانو !

اللہ کا واسطہ ، اللہ تبارک و تعالی اور اس کے رسول کا تعلق جو سمجھ میں آ ہی نہیں سکتا ، اس کو کم از کم مد نظر تو رکھیں ۔

* اللہ کی طرف اس وقت ایسی ہدایات ملنا کن فوائد کو سمیٹے ہوئے تھا وہ خود اس نے ” فتح مبین ” کے شاندار اور جامع الفاظ میں بتا دیئے ۔

سیرت نگاروں نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق ان میں سے کئی بیان کر دیئے ہیں ۔

🔆 صلح حدیبیہ سے پیشتر غزوہ بدر میں اول رائے کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلح ہو کر سوئے بدر چل پڑے ۔ یہ رائے دینے والوں کو خود خیال آیا تو حاضر ہو کر اپنی رائے سے دستبرداری ظاہر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اللہ کے نبی کے لیئے روا نہیں کہ ہتھیار بند ہونے کے بعد بغیر لڑائی کیئے ہتھیار اتار دے ۔

رسول کا عمل اور مقام تو یہ مقام عزیمت و عزت ہے۔

یہ فقیر ہرگز ہرگز اس وقت لڑائی کے حق میں نہیں ۔

بس اتنی تمنا ضرور ہے کہ اپنے خرمن ایمان کو خود ہی آگ نہ لگائیں ۔ اور ہزاروں باتیں بنائی جا سکتی ہیں م شوق سے بنائیں لیکن کم از کم اللہ تبارک و تعالی کی رضامندی کی ضمانتیں لیئے اشخاص و واقعات کو اپنی مرضی کے قالب میں نہ ڈھالیں ۔

ایک سید صاحب کی تحریر ملاحظہ کریں 👇

( جیسے پہلے بھی کہا تھا کہ اپنی فوج پہ بھروسہ رکھیں۔۔۔جہاز آئے بالاکوٹ تک گرائے نہیں ۔۔۔پھر جب گرانے کی ضرورت تھی تو ایسے گرائےکہ دنیا اش اش کراٹھی ۔۔۔۔جن پہ دفاع کاانحصار ہے وہ جو فیصلہ کریں گے بہترین کریں گے انشاءاللہ ۔۔۔بعض فیصلےجو بظاہر وقتی طور پہ درست نہ لگ رہے ہوں تا ہم انکے نتائج بعد میں ملتے ہیں میں قطعاً مقابلہ نہیں کرتا اس فوج سے آج کی فوج کا جو بغیر لڑے مکہ فتح کیے واپس گئی تھی صلح حدیبیہ کر کے مگر سمجھانے کے لیے مثال ضروری ہے ۔۔۔۔۔انشاءاللہ)

* موصوف مقابلہ نہ کرنے کی بات کر کے بطور مثال ذکر کر بھی گئے ہیں اور انتہائی نامناسب انداز میں ۔ اسالیب تحریر سے آگاہ جان سکتے ہیں کہ موصوف آج کی فوج کو اس فوج سے لا شعوری طور پر فوقیت دے گئے ہیں ۔

سید صاحب دنیا کی ” اش اش ” کی بات کر رہے ہیں ۔

صمیم قلب سے دعائیں ہیں کہ اہل پاکستان کو وقار نصیب ہو۔

پر جناب ! آج تک کی اسلامی تاریخ تو یہی بتا رہی ہے کہ وہ عمرہ کی نیت سے گئے تھے ۔ ان کا کہنا تو یہ تھا کہ وہ لڑائی کی نیت سے آئے ہی نہیں ۔ اور یہ سید صاحب لکھ رہے ہیں کہ لڑے اور مکہ فتح کیئے بغیر صلح کر کے چلے گئے ۔ یعنی صحابہ کے کھاتے میں وہ عمل ڈال رہے ہیں جو وہ کرنے آئے ہی نہیں

اور صلح کا عمل ان کے کھاتے میں ڈال دیا جس کو وہ شروع میں کرنا ہی نہیں چاہتے تھے ۔ محض اللہ تبارک و تعالی اور اس کے رسول معظم صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم کی اتباع میں خاموش عمل کر لیا ۔

جبکہ یہ فوج اس قسم کے جرائم اور پروگراموں سے پاک ہے ۔

نعوذ بالله تبارک و تعالی ۔

یا اللہ ہم آپ سے ہدایت کی بھیک مانگتے ہیں ۔ ہمیں اس سیدھے راستہ پر ثابت قدم رکھ جو تیرے اپنوں کا ہے ۔ میرے مالک ہمارا جینا مرنا سب اپنے لیئے بنا دے ۔ آمین یا رب العالمین

از مفتی خالد محمود صاحب