ابھی نندن واپس چلا گیا.

26 فروری کو پاکستانی جے ایف تھینڈر-17 کے پیچھے بھاگنے والے دونوں طیاروں کو ہمارے چاک و چوبند پائلٹ حسن صدیقی نے فضاوں میں ہی ہوا کردیا.ایک کا ملبہ پاکستان میں جبکہ دوسرےکا بھارتی حدود میں گرا.پاکستانی حدود میں گرنے والے بھارتی مگ-21 کے پائلٹ ابھی نندن کو پکڑ لیا گیا.پورا پاکستان نوجوان سوارڈن لیڈر حسن صدیقی کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان ہے.واقعی قوم کا یہ ہیرو ایم ایم عالم کے جانشین ہونے کی سندقوم سے حاصل کرچکا ہے.بجاطور پر ہم اپنے اس عظیم جانباز کو عقیدت و محبت کا خراج پیش کرتے ہیں.

ابھی نندن کے چھوڑےجانے کے معاملہ پرپاکستان میں دو نقطہائے نظر سامنے آئےہیں.ایک نقطئہ نظر یہ سامنے آیا کہ پاکستان نے ابھی نندن کو چھوڑ کر ایک اچھاتائثر (good gesture )دیا ہے.جبکہ دوسرا نقطئہ نظر یہ سامنے آیا کہ بھارتی پائلٹ کو اتنا جلدی نہیں چھوڑنا چاہیے تھا.میں بھی اسی دوسرے نقطئہ نظر کا حامی ہوں,اپوزیشن کی پارٹیوں میں سے خورشید شاہ نے بھی اسی موقف کا اظہار کیا ہے..میرے خیال میں اگر تھوڑا ساانتظار کر لیا جاتا اور بھارت کی باقاعدہ درخواست آتی یا عالمی برادری کا کوئی اہم ملک ہمیں کہتا اور اس کے عوض ہم کوئی اہم ملکی مفاد اٹھا لیتے تو زیادہ بہتر ہوتا.ابھی نندن کے عوض اگر ہم نیپال سے گرفتار کیے جانے والے کرنل حبیب کو چھڑا لیتے جو ابھی تک را کے ہیڈکواٹر میں قید ہے,یا آسیہ اندرابی کی رہائی کا مطالبہ کرتے یا کسی دوسرے مفاد کے عوض اس بھارتی دشمن کو رہا کرتے تو بہت زیادہ بہتر ہوتا.اس جذبہ خیر سگالی کے اظہار کے بعد بھی مودی کے رویہ بھی کوئی فرق نہیں پڑا,ہمارے وزیراعظم کی بارہا کوشش کے باوجود مودی نے ان کے ساتھ بات کرنا گوارا نہیں کی.بھارتی عوام نے جذبئہ خیر سگالی کو کچھ مثبت دیکھا ہے مگر بھارتی میڈیامیں پاکستان کے خلاف ابھی تک زہر اگلا جارہا ہے.البتہ کچھ اینکرز نے وزیراعظم پاکستان کی مودی پر اخلاقی برتری کا اظہار کیا ہے.اس جذبئہ خیرسگالی کے اظہار کے باوجود بین الاقوامی سطح پر کوئی ملک ہماراساتھ دینےکے لیے تیار نہیں ہے.حتی کہ اسلامی ممالک بھی سوائے ایران ترکی اور قطر کے بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں.بلکہ نوبت بایں جارسید کہ امریکہ,فرانس اور برطانیہ نےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد ٹیبل کی ہے جس میں انہوں نے جیش محمد پر پائبندی کا مطالبہ کیا ہے.کشمیری بے چاروں پر جو ظلم ہورہا ہے اسکی ان ممالک کو کوئی پرواہ نہیں ہے.

ہمارے وزیراعظم نے ایک قدم نہیں دس قدم آگے بڑھ کر امن کی بات کی ہے لیکن بدقسمتی سے بھارتی صاحبان اقتدار نے اسکی کوئی پذیرائی نہیں کی اور نہ ہی بین الاقوامی برادر نے اسکو قدر کی نگاہ سے دیکھا.صرف وزیراعظم کے اس جیسچر کی تعریف کردینا کافی نہیں ہےبلکہ عالمی برادری کو چاہیے تھا کہ وہ مودی کو مذاکرات کی ٹیبل پر آنے کے لیے مجبور کرتی لیکن اس نے ابھی تک بھارت کا ہی ساتھ دیا ہے.اگر ہم شیطان بزرگ سے یہ توقع کررہے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرائے گا تو یہ ہماری خام خیالی ہوگی.

ہم وزیراعظم کی طرف سے امن کے لیے کی گئی تمام کوششوں کو سراہتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے وزیراعظم نے مودی کو چاروں شانے چت کیا ہے.اپوزیشن کا حکومت کے ساتھ تعاون بھی مثالی اور قابل تعریف رہا.وزیر اعظم ایک عالمی مدبر کے طور پر سامنے آئے ہیں.اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حکومت, اپوزیشن اورریاستی ادارے ابھی نندن کی رہائی کے حوالے سے ایک پیج پر تھے مگر پاکستان کی ایک بڑی اکثریت کا خیال ہے کہ ابھی نندن کے معاملے میں جلدی کی گئی ہے……..یک طرفہ جذبہ خیر سگالی کا کوئی خواطر خواہ فائدہ نہیں ہوا.وہی بات صادق آئی..

Haste is waist

طالب دعاء.

گلزار احمد نعیمی