سؤال:

جنگی قیدیوں کے بارے میں کیا حکم ہے فقہ اسلامی میں؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ) :

جنگی قیدی ہو تو أسکی دو قسمیں ہیں:

پہلی قسم :

مسلمان قیدی:

أگر کفار کسی مسلمان کو قید کرتے ہیں تو تمام علماء کا اجماع ہے کہ أن مسلمان قیدیوں کا فدیہ دے کر یا کسی بھی طرح أنکو آزاد کروانا واجب ہے،

امام قرطبی فرماتے ہیں:

قال علماؤنا : فداء الأساری واجب وإن لم يبق درهم واحد.

قال بن خوبز منداد : تضمنت الآية وجوب فك الأسرى ، وبذلك وردت الآثار عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه فك الأسارى ، وأمر بفكهم ، وجرى بذلك عمل المسلمين ، وانعقد به الإجماع.

( تقسير القرطبي ، 2/17 )

ترجمہ:

ہمارے علماء نے فرمایا: ( مسلم) قیدیوں ( کو آزاد کروانے کے لیے أن ) کا فدیہ دینا واجب ہے أگر چہ (ملکی خزانے) میں إیک درھم بھی نہ بچے.

أور ابن خویزمنداد فرماتے ہیں:

آیت ( وإن يأتوكم أسارى تفادوهم / أگر تمہارے پاس قیدی آئیں تو تم أنکا فدیہ دو) قیدیوں کو آزاد کروانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے تضمنا ، أور إسی میں آثار ( أحادیث) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وارد ہیں کہ آپ نے قیدیوں کو آزاد کروایا ، أور أنکو آزاد کروانے کا حکم بھی دیا ، أور إسی پر مسلمانوں کا عمل بھی ہے ، أور إجماع بھی واقع ہوچکا ہے.

شرح طحاوی میں ہے:

یفادی أساری المسلمین الذين في دار الحرب بالدراهم والدنانير ،وما ليس فيه قوة للحرب كالثياب وغيرها ، ولا يفادى بالسلاح.

( حاشية الشلبي على تبيين الحقائق ، باب الغنائم وقسمتها ،3/249 )

ترجمہ:

وہ مسلمان قیدی جو دار حرب میں ہیں أن کا فدیہ دراہم و دنانیر ( جو بھی کرنسی مروجہ ہو) میں دیا جائے گا ، أور ہر أس شئے سے جس میں ( دار) حرب کے لیے طاقت ( حاصل کرنا ممکن) نہ ہو جیسے کپڑے یا أس جیسی دیگر أشیاء ، لیکن أسلحہ دے کر أنکا فدیہ نہیں أدا کیا جائے گا.

ابن خویز منداد کی عبارت سے واضح ہے کہ مسلمان قیدی کو آزاد کروانا واجب ، یہی إمام جصاص نے بھی إسی آیت کی تفسیر کے تحت أحکام القرآن میں فرمایا کہ واجب ہے،

تو آج کے دور میں کتنے ہی مسلمان قیدی ہیں خاص کر أپنے ملک کے تو کیا ہم اس واجب کو أدا کررہے ہیں؟

جواب ہوگا: نہیں ،

تو لہذا ہم سب فرض کفایہ کے تارک ہیں ، اور فرض کفایہ کا ترک سب کی طرف سے ترک کرنا گناہ کبیرہ ہوتا ہے.

حتی کہ إمام قرطبی فرماتے ہیں:

یجب فک الأساری من بیت المال ، فإن لم يكن فهو فرض على كافة المسلمين ، ومن قام به منهم أسقط الفرض عن الباقين.

ترجمہ:

ملکی خزانے سے قیدی کی آزادی کے لیےظ ( فدیہ أدا کرنا) واجب ہے ، أور أگر ( بیت المال میں) نہ ہو تو تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ ( أس مسلمان قیدی کا فدیہ أدا کریں) أگر ان میں سے کوئی بھی فدیہ أدا کردیتا ہے تو باقیوں سے فرض ساقط ہوجائے گا۔

جو علماء خوف کے مارے أمن أمن کی بات کرتے ہیں کبھی أنہوں نے یہ کہا کہ مسلمان قیدی کو آزاد کروانا واجب ہے ۔

دوسری قسم:

کافر قیدی کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

ہم مذاہب أربعہ ذکر کرتے ہیں:

مذہب حنفی:

امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں:

حاکم وقت کافر قیدی کے ساتھ صرف دو طرح سے معاملہ کرسکتا ہے :

قتل کرے یا غلام بنا لے لیکن بغیر عوض کے أسے نہیں چھوڑ سکتا أور نہ ہی فدیہ لے کر ، ہاں أسکو ذمی بناکر آزاد کرسکتا ہے لیکن وہ دار حرب کو واپس نہیں کرے گا،

دوسری روایت میں إمام أبو حنیفہ کے ہاں جائز ہے کہ وہ ضرورت کے تحت مسلمان قیدیوں کی آزادی کے عوض کافر قیدی کو رہا کر سکتا ہے .

أور قاضی أبو یوسف و إمام محمد فرماتے ہیں:

حاکم وقت کافر قیدی کو یا قتل کرے یا غلام بنالے یا فدیہ کے عوض آزاد کرے،

بغیر فدیہ و عوض کے آزاد کرنا جائز نہیں أس کے لیے۔

أور فدیہ و عوض بھی ضرورت کے تحت ہے أصل دو ہی ہیں قتل یا غلام بنالے۔

إمام سرخسی و کاسانی نے اس پہ مفصل بحث کی ہے

( المبسوط للسرخسی ، الأسیر یقتل أو یفادی ، 10/138 ، بدائع الصنائع للکاسانی ، مفاداۃ الأسیر ، 7/120 ، البنایہ شرح الہدایہ ، مفاداة الأسرى بمال يؤخذ منهم ، 7/136)

لیکن إمام محمد سیر کبیر میں فرماتے ہیں:

وإن رأى الإمام النظر للمسلمين في المن عليهم على بعض الأسارى فلا بأس بذلك أيضا لما روي أن النبي من على ثمامة بن أثالة الحنفي.

( السیر الکبیر للامام محمد الشیبانی مع شرح السرخسی ، قتل الأساری و المن علیهم ، 3/128 )

ترجمہ:

أگر إمام ( حاکم وقت) دیکھیں کہ مسلمانوں کے لیے مصلحت بغیر عوض کے قیدی کو چھوڑنے میں ہے تو چھوڑ دے کوئی حرج نہیں یہ أس روایت سے ثابت ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے حضرت ثمامہ بن اثالہ حنفی کو بغیر عوض کے چھوڑا.

لہذا إمام اعظم أبو حنیفہ أور صاحبین إس بات پر تو متفق ہیں کہ قیدی کو بغیر عوض نہیں چھوڑا جائے گا ،

تو مذہب حنفی میں قیدی کو بلا عوض چھوڑنا جائز نہیں سوائے اس صورت کے کہ جب حاکم وقت قیدی کو بلا عوض چھوڑنے میں مسلمانوں کا فائدہ دیکھے تو آزاد کرسکتا ہے.

مذہب مالکی:

حاکم وقت کو اختیار ہے کہ قیدی کو قتل کرے یا غلام بنائے یا مسلمان قیدیوں کے عوض آزاد کرے یا مال کے عوض ، یا بغیر عوض کے یا جزیہ لے.

( التاج والإكليل لمختصر خليل لأبی عبد الللہ المواق المالکی ، من فرائض الجهاد ترك الغلول ، 4/555 )

مذہب شافعی:

حاکم وقت کو اختیار ہے کہ قیدی کو قتل کرے یا غلام بنائے ، یا مال یا مسلمان قیدیوں کے عوض آزاد کرنا

یا بغیر عوض کے آزاد کرے.

إن چاروں أمور میں حاکم وقت کو اختیار ہے لیکن مصلحت کی شرط کے ساتھ.

( الحاوی الکبیر شرح مختصر المزنی للماوردی ، و أما المقاتلة فللإمام فيهم بالخيار ، 8/408 )

مذہب حنبلی:

مذہب حنبلی میں بھی وہی حکم ہے جو مذہب شافعی میں ہے

( المغنی لابن قدامہ حنبلی ں، مسألة الإمام التصرف في سبايا الحرب، 9/221 )

خلاصۂ کلام:

مذاہب أربعہ متفق ہیں کہ أگر حاکم وقت کے نزدیک مصلحت بغیر عوض کے قیدی کو آزاد کرنے میں ہو تو وہ بغیر عوض کے آزاد کر سکتا ہے،

مطلب أگر بغیر مصلحت کے ہے تو بالاتفاق جائز نہیں.

لیکن مذہب حنفی میں مشہور یہی ہے کہ حاکم وقت کو صرف قتل یا غلام یا جزیہ لینے میں اختیار ہے باقی تفصیل أوپر مذہب حنفی میں گزر چکی ہے.

لہذا إس پر بھی إجماع ہے کہ مسلمان قیدی کو آزاد کروانا فرض کفایہ ہے أگر أسکو کوئی آزاد نہ کروائے جسکے تارک ہم سب ہیں تو سبھی گناہگار ہونگے ( اللہ ہمیں معاف فرمائے اور قوت دے).

واللہ أعلم