أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِذَا قَضَيۡتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذۡكُرُوا اللّٰهَ قِيَامًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰى جُنُوۡبِكُمۡ ۚؕ فَاِذَا اطۡمَاۡنَنۡتُمۡ فَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ‌ ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتۡ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ كِتٰبًا مَّوۡقُوۡتًا  ۞

ترجمہ:

پس جب تم نماز ادا کرلو تو حالت قیام میں ‘ بیٹھے ہوئے اور پہلو کے بل اللہ کا ذکر کرو ‘ پھر جب تم مامون ہوجاؤ تو (معمول کے مطابق) نماز پڑھو۔ بیشک ایمان والوں پر نماز وقت مقرر میں فرض کی گئی ہے ؏

تفسیر:

کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے اور پہلو کے بل لیٹے ہوئے اللہ کا ذکر کرنا ‘ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : پس جب تم نماز ادا کرلو تو حالت قیام میں ‘ بیٹھے ہوئے اور پہلو کے بل اللہ کا ذکر کرو ‘ پھر جب تم مامون ہوجاؤ تو (معمول کے مطابق) نماز پڑھو۔ (النساء : ١٠٣) 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

قرآن مجید کی بعض آیات میں ذکر کا اطلاق نماز پر کیا گیا ہے لیکن ذکر سے مراد ذکر بالقلب ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت ‘ اس کے جلال اور اس کی قدرت میں غور وفکر کرنا ‘ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق اور صنعت میں جو اپنی ذات اور اپنی واحدنیت پر دلائل رکھے ہیں ان میں غور وفکر کرکے اس کی ذات اور اس کی وحدانیت تک پہنچنا ‘ اور یا ذکر سے مراد زبان سے اس کی تسبیح ‘ تقدیس اور تہلیل کرنا ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ کے ذکر کرنے میں صرف وہی شخص معذور ہے جس کی عقل زائل ہوچکی ہو (احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ٢٦٥‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

اس آیت کا دوسرا معنی یہ ہے کہ ذکر سے مراد نماز ہو یعنی تم کفار سے کھڑے ہوئے لڑ رہے ہو اور اسی حال میں نماز کا وقت آجائے تو عین لڑائی کے عالم میں کھڑے ہوئے نماز پڑھو ‘ یا تم بیٹھ کر تیراندازی کر رہے ہو ‘ یا زخموں سے چور ہو کر پہلو کے بل گرگئے ہو تو اسی عالم میں نماز پڑھو ‘ اور یہ معنی امام شافعی کے مذہب کے مطابق ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کفار سے دست بہ دست لڑائی کی حالت میں بھی نماز کا وقت آجائے تو نماز پڑھ لی جائے اور پھر بعد میں اسی نماز کی قضاء کرلی جائے ‘ لیکن یہاں پر یہ معنی بعید ہے کیونکہ اس آیت کا معنی ہوگا جب تم نے نماز پڑھ لی ہے تو پھر نماز پڑھو نیز ذکر کا معنی نماز مجازا ہے اور بغر ضرورت شرعیہ کے کسی لفظ کو مجاز پر محمول نہیں کیا جاتا (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٣٠٦ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک ایمان والوں پر نماز وقت مقرر میں فرض کی گئی ہے۔ (النساء : ١٠٣) 

حالت جنگ میں نماز پڑھنے کے متعلق مذاہب فقہاء : 

نماز کے اوقات مقرر ہیں اور کسی نماز کو اس کے وقت کے بغیر ادا نہیں کیا جاسکتا ‘ اس لیے سفر میں نماز کو اس کے وقت پر ادا کیا جائے گا ‘ اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ حضر میں چار رکعت نماز فرض کی گئی ہے اور سفر میں دو رکعت نماز فرض کی گئی سو ہرحال میں اس حال کے مطابق نماز ادا کی جائے گی ‘ امام شافعی اس کے قائل ہیں کہ جب کافر اور مسلمان کی تلواریں ٹکرا رہی ہوں تو اس وقت بھی مسلمان اپنے وقت پر نماز پڑھے وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس حالت میں نماز فرض نہیں ہے اور وہ شخص وقت نکلنے کے بعد اس نماز کی قضا کرے گا۔ 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابوحنیفہ ‘ امام ابویوسف ‘ امام محمد ‘ اور امام زفریہ کہتے ہیں کہ حالت جنگ میں نماز نہیں پڑھی جائے گی ‘ اگر کسی شخص نے نماز پڑھتے ہوئے قتال کیا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی ‘ امام مالک ثوری یہ کہتے ہیں کہ جب رکوع اور سجود پر قادر نہ ہو تو اشارہ سے نماز پڑھے ‘ حسن بن صالح نے کہا جب لڑائی کے وقت رکوع پر قادر نہ ہو تو ہر رکوع کے بدلہ میں ایک تکبیر کہہ لے ‘ امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ نماز کی حالت میں ضرب لگائے یا نیزہ مارے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر اس نے مسلسل نیزے مارے یاضرب لگائی یا کوئی اور عمل طویل کیا تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی ‘ امام ابوبکر رازی کہتے ہیں کہ قتال سے نماز باطل ہوجاتی ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کئی مقامات پر نماز خوف پڑھائی ہے اور جنگ خندق میں آپ نے چار نمازیں نہیں پڑھیں حتی کہ رات داخل ہوگئی پھر آپ نے فرمایا اللہ انکے گھروں اور ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے کیونکہ ان کی وجہ سے ہم عصر کی نماز نہیں پڑھ سکے ‘ پھر آپ نے ان چاروں نمازوں کو ترتیب وار قضا کیا ‘ اس حدیث میں آپ نے یہ خبر دی ہے کہ قتال میں مشغول ہونے کی وجہ سے آپ کی چار نمازیں قضا ہوگئیں اگر حالت قتال میں نماز پڑھنا جائز ہوتا تو آپ نماز کو ترک نہ فرماتے ‘ جس طرح آپ نے بغیر قتال کے حالت خوف میں نماز کو ترک نہیں کیا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ٢٦٤‘ مطبوعہ لاہور) 

نمازوں کے اوقات :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ہر نماز ایک وقت مقرر میں فرض کی گئی ہے۔ فجر کی نماز کا وقت فجر صادق کے طلوع سے شروع ہوتا ہے اور طلوع آفتاب تک رہتا ہے ظہر کی نماز کا وقت سورج کے استواء اور نصف النہار سے زوال کے بعد شروع ہوتا ہے (اور دو مثل سایہ تک رہتا ہے) اور عصر کا وقت دو مثل سائے کے بعد شروع ہوتا ہے اور غروب آفتاب تک رہتا ہے اور مغرب کا وقت غروب آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور سرخی کے بعد جو سفیدی ظاہر ہوتی ہے اس کے مکمل چھپنے تک رہتا ہے اور عشاء کا وقت اس سفیدی کے چھپنے کے بعد شروع ہوتا ہے اور فجر صادق کے طلوع تک رہتا ہے۔ (موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث : ٩‘ ٦‘ ٣) 

ایک نماز کے وقت میں دوسری نماز ادا کرنے کا عدم جواز :

چونکہ یہ اوقات نمازوں کے لیے شرط ہیں اس لیے ہر نماز اپنے وقت میں ہوگی اور دوسری نماز کے وقت میں یا اپنا وقت آنے سے پہلے ادا نہیں ہوگی۔ ائمہ ثلاثہ یہ کہتے ہیں کہ سفر میں دو نمازوں کو جمع کرکے پڑھا جاسکتا ہے۔ مثلا عصر کو ظہر کے وقت میں پڑھ لیاجائے یا عشاء کو مغرب کے وقت میں پڑھ لیا جائے ‘ ہمارے نزدیک یہ جائز نہیں ہے کیونکہ دو نمازوں کو ایک وقت میں پڑھنا اس آیت کے خلاف ہے ‘ بعض احادیث صحیحہ میں حضرت عمر (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سفر میں جلدی ہوتی تو آپ ظہر اور عصر ‘ یا مغرب اور عشاء جمع کرکے پڑھ لیتے (صحیح بخاری رقم الحدیث : ١١٠٧‘ ١١٠٦) 

ہمارے نزدیک یہ جمع صوری پر محمول ہے یعنی آپ ظہر کو اس کے آخری وقت میں اور عصر کو اس کے ابتدائی وقت میں پڑھ لیتے تھے یا مغرب کو اس کے آخری میں اور عشاء کو اس کے ابتدائی وقت میں پڑھ لیتے تھے ہم نے ان حدیثوں کو حقیقۃ جمع پر اس لیے محمول کیا تاکہ اخبار آحاد سے قرآن مجید کے عموم کا نسخ لازم نہ آئے اور میدان عرفات میں جو ظہر کے وقت میں عصر کو پڑھا جاتا ہے اور مزدلفہ میں عشاء کے وقت میں مغرب کو پڑھا جاتا ہے تو یہ خبر واحد نہیں ہے بلکہ تواتر سے تابت ہے اور یہ خبرمتواتر اس آیت کے لیے مخصص ہے۔ 

قطبین میں نمازوں اور روزوں کا مسئلہ : 

اسی طرح یہ سوال کیا جاتا ہے کہ قطبین میں چھ مہینہ کی رات ہوتی ہے تو وہاں روزے اور نمازوں کی کیا صورت ہوگی ؟ اس کی جواب یہ ہے کہ : 

اگر فی الواقع قطبین کے افق پر چوبیس گھنٹے کے بعد سورج اور چاند کا طلوع اور غروب ہوتا ہے اور وقت کی باقی علامات بھی افق پر ظاہر ہوتی ہیں جن سے ظہر اور عصر اور مغرب، وغیرہا کا تعین کیا جاسکتا ہے، تب تو وہاں چوبیس گھنٹوں میں پانچ نمازیں بھی فرض ہیں ‘ رمضان کے روزے بھی فرض ہیں اور لیلۃ القدر بھی متحقق ہوگی اور اگر وہاں چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات ہوتی ہے اور سورج اور چاند کا طلوع اور غروب چھ ماہ کے بعد ہوتا ہے تو وہاں کے رہنے والوں پر چوبیس گھنٹوں میں پانچ نمازیں فرض ہیں نہ رمضان کے روزے اور نہ وہاں شب قدر کا وجود ہوگا کیونکہ یہ تمام چیزیں چوبیس گھنٹہ کے بعد سورج کے طلوع اور غروب پر موقوف ہیں۔ البتہ نماز اور روزے میں عبادت کی مشابہت اختیار کرنی چاہیے اور قطبین کے قریب جس ملک میں چوبیس گھنٹے کے بعد سورج کا طلوع اور غروب ہوتا ہے اس کے اوقات کے مطابق نماز کے اوقات مقرر کیے جائیں اور اسی ملک کے حساب سے روزے رکھے جائیں اور شب قدر کی جائے یعنی جب اس قریب کے ملک میں رمضان ہو اس وقت وہاں رمضان کا اعتبار کرلیا جائے گا اور اسی ملک کے اوقات کے لحاظ سے سحرو وافطار کا تعین کیا جائے لیکن یہ تشبہ فی العبادت ہے اور عبودیت اور بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ اگرچہ ہم نے بعینہ نماز کے اوقات اور رمضان کا مہینہ نہیں پایا لیکن اس کے مشابہ اوقات میں ہم ان عبادات کو کر رہے ہیں ‘ آخر وہاں دنیا کے دوسرے تمام کاموں کے اوقات مقرر کیے جاتے ہیں ‘ کاروبار ‘ سیر و تفریح ‘ کھانے پینے اور سونے جاگنے کے اوقات مقرر کیے جاتے ہیں ‘ صبح سے لے کر شام تک کام کرنے والے لوگ وہاں چھ ماہ کی دن میں مسلسل کام کرتے ہیں ‘ یہ چھ ماہ سوتے ہیں۔ صبح کا ناشتہ کرنے کے بعد دوپہر کا کھانا تین ماہ بعد یا شام کا کھانا چھ ماہ بعد تو نہیں کھاتے جس طرح زندگی کے باقی معمولات کو وہاں کے غیر معمولی حالات اور اوقات میں معین کیا جاتا ہے خواہ باقی دنیا کے اعتبار سے وہ غیر معمولی لگتا ہو کہ سورج نکلا ہوا ہے اور وہ شام کا کھانا کھا رہے ہیں ‘ اسی طرح عبادات کے نظام کو بھی قریب ترین ملک کے اوقات کے لحاظ سے ترتیب دینا چاہیے۔ جہاں معمول کے مطابق طلوع اور غروب ہوتا ہو ہرچند کے یہ معمول کے مطابق عبادات نہیں ہیں لیکن وہاں کے حالات سے اعتبار سے یہی ترتیب معمول ہوگی اس لیے وہاں چوبیس گھنٹہ میں پانچ نمازیں اور سال کے بعد روزے فرض عین تو نہیں لیکن فرض کے مشابہ ضرور ہیں اور وہاں کے رہنے والے مسلمانوں کو یہ عبادات کسی حال میں ترک نہیں کرنی چاہئیں اور جب وہ اپنے قریب ترین ملک کے لحاظ سے شب قدر مقرر کرکے اس میں عبادت کریں گے تو انشاء اللہ اس کا ثواب بھی ضرور ملے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 103