أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَهِنُوۡا فِى ابۡتِغَآءِ الۡقَوۡمِ‌ ؕ اِنۡ تَكُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ يَاۡلَمُوۡنَ كَمَا تَاۡلَمُوۡنَ‌ ۚ وَتَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرۡجُوۡنَ‌ ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ۞

ترجمہ:

اور کافروں کا پیچھا کرنے میں ہمت نہ ہارو ‘ اگر تم کو تکلیف پہنچی ہے تو ان کو بھی تکلیف پہنچی ہے جیسا کہ تم کو تکلیف پہنچی ہے (جب کہ) تم اللہ سے جو امید رکھتے ہو ‘ اس کی وہ امید نہیں رکھتے ‘ اور اللہ بہت علم والا بڑی حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور کافروں کا پیچھا کرنے میں ہمت نہ ہارو ‘ اگر تم کو تکلیف پہنچی ہے تو ان کو بھی تکلیف پہنچی ہے جیسا کہ تم کو تکلیف پہنچی ہے (جب کہ) تم اللہ سے جو امید رکھتے ہو ‘ اس کی وہ امید نہیں رکھتے ‘ اور اللہ بہت علم والا بڑی حکمت والا ہے۔ (النساء : ١٠٤) 

مناسبت اور شان نزول : 

اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے جہاد کی ترغیب کے لیے آیات نازل کی تھیں اسی کے ضمن میں جہاد کے دوران نماز پڑھنے اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کے احکام نازل کیے ‘ اس کے بعد پھر جہاد کی ترغیب دی اور فرمایا جہاد میں کفارکا پیچھا کرنے سے تم ہمت نہ ہارو اگر تم زخمی ہوگئے ہو تو کافر بھی تو زخمی ہوگئے ہیں ‘ جب کہ تمہیں اپنے زخموں پر اللہ تعالیٰ سے جو اجر وثواب کی امید ہے کافروں کے ہاں اس کا تصور بھی نہیں ہے ‘ اس آیت کے شان نزول میں یہ حدیث ہے : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب جنگ احد ہوئی اور اس میں مسلمانوں کو ہزیمت پہنچی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہاڑ پر پہنچ گئے ‘ ابو سفیان نے کہا یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو جو زخم پہنچے ہیں وہ ہمارے زخموں کے بدلہ ہیں اور جنگ کنویں کے ڈول کی طرح ہے ‘ ایک دن ہمارا ہوتا ہے اور ایک دن تمہارا ہوتا ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو جواب دو ‘ آپ کے اصحاب نے کہا ہم اور تم برابر نہیں ہیں ‘ ہمارے مقتول جنت میں ہیں اور تمہارے مقتول دوزخ میں ہیں ‘ ابوسفیان نے کہا ہمارا عزی ہے اور تمہارا عزی نہیں ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس سے کہواللہ ہمارا مولا ہے اور تمہارا کوئی مولا نہیں ہے ‘ ابوسفیان نے کہا ہبل بلند ہو ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ اعلی اور اجل ہے ‘ ابو سفیان نے کہا : ہماری اور تمہاری ملاقات بدر صغری میں ہوگی ‘ اور مسلمانوں کو زخمی ہونے کے باوجود نیند آگئی ‘ اس موقع پر آل عمران کی آیت نازل ہوئی) (آیت) ” ان یمسسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ “ (ال عمران : ١٤٠) اور سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” ان تکونوا تالمون فانھم یالمون کما تالمون (النساء : ١٠٤) (جامع البیان ج ٥ ص ‘ ٣٥٨۔ ٣٥٧‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 104