کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 14 سورہ البقرہ آیت نمبر113 تا 121

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ ۪-وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍۙ-وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ-كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْۚ-فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ(۱۱۳)

(ف200)

شان نزول: نجران کے نصارٰی کا وفد سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو علمائے یہود آئے اور دونوں میں مناظرہ شروع ہوگیا آوازیں بلند ہوئیں شور مچا یہود نے کہا کہ نصارٰی کا دین کچھ نہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام اور انجیل شریف کا انکار کیا اسی طرح نصاریٰ نے یہود سے کہا کہ تمہارا دین کچھ نہیں اور توریت شریف و حضرت موسیٰ علیہ السلام کا انکار کیا اس باب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔

(ف201)

یعنی باوجود علم کے انہوں نے ایسی جاہلانہ گفتگو کی حالانکہ انجیل شریف جس کو نصاریٰ مانتے ہیں اس میں توریت شریف اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق ہے اسی طرح توریت جس کو یہودی مانتے ہیں اس میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی نبوت اور ان تمام احکام کی تصدیق ہے جو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئے۔

(ف202)

علمائے اہل کتاب کی طرح ان جاہلوں نے جو نہ علم رکھتے تھے نہ کتاب جیسے کہ بت پرست آتش پرست وغیرہ انہوں نے ہر ایک دین والے کی تکذیب شروع کی اور کہا کہ وہ کچھ نہیں انہیں جاہلوں میں سے مشرکین عرب بھی ہیں جنہوں نے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورآپ کے دین کی شان میں ایسے ہی کلمات کہے۔

اور یہودی بولے نصرانی کچھ نہیں اور نصرانی بولے یہودی کچھ نہیں (ف۲۰۰) حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں (ف۲۰۱) اسی طرح جاہلوں نے ان کی سی بات کہی (ف۲۰۲) تو اللہ قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑ رہے ہیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۱۱۴)

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون (ف۲۰۳) جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لیے جانے سے (ف۲۰۴) اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے (ف۲۰۵) ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے (ف۲۰۶) اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب (ف۲۰۷)

(ف203)

شان نزول: یہ آیت بیت المَقۡدِسۡ کی بے حرمتی کے متعلق نازل ہوئی جس کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ روم کے نصرانیوں نے بنی اسرائیل پر فوج کشی کی ان کے مردانِ کار آزما کو قتل کیا ذریت کو قید کیا توریت کو جلایا بیت المقدس کو ویران کیا اس میں نجاستیں ڈالیں’ خنزیر ذبح کیے’ معاذ اللہ بیت المقدس خلافت فاروقی تک اسی ویرانی میں رہا’ آپ کے عہد مبارک میں مسلمانوں نے اس کو بنا کیا ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے ابتدائے اسلام میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو کعبہ میں نماز پڑھنے سے روکا تھا اور جنگ حدیبیہ کے وقت اس میں نماز و حج سے منع کیا تھا

(ف204)

ذکر نماز خطبہ تسبیح وعظ نعت شریف سب کو شامل ہے اور ذکر اللہ کو منع کرنا ہر جگہ برا ہے۔ خاص کر مسجدوں میں جو اسی کام کے لئے بنائی جاتی ہیں مسئلہ: جو شخص مسجد کو ذکر و نماز سے معطل کردے وہ مسجد کا ویران کرنے وا لاا ور بہت ظالم ہے۔

(ف205)

مسئلہ :مسجد کی ویرانی جیسے ذکر و نماز کے روکنے سے ہوتی ہے ایسے ہی اس کی عمارت کے نقصان پہنچانے اور بے حرمتی کرنے سے بھی۔

(ف206)

دنیا میں انہیں یہ رسوائی پہنچی کہ قتل کئے گئے گرفتار ہوئے جلا وطن کئے گئے خلافت فاروقی و عثمانی میں ملک شام ان کے قبضہ سے نکل گیا بیت المقدس سے ذلت کے ساتھ نکالے گئے۔

(ف207)

شان نزول: صحابہ کرام رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک اندھیری رات سفر میں تھے جہت قبلہ معلوم نہ ہوسکی ہر ایک شخص نے جس طرف اس کا دل جما نماز پڑھی صبح کو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حال عرض کیا تو یہ آیت نازل ہوئی مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ جہت قبلہ معلوم نہ ہوسکے تو جس طرف دل جمے کہ یہ قبلہ ہے اسی طرف منہ کرکے نماز پڑھے اس آیت کے شانِ نزول میں دوسرا قول یہ ہے کہ یہ اس مسافر کے حق میں نازل ہوئی جو سواری پر نفل ادا کرے اس کی سواری جس طرف متوجہ ہوجائے اس طرف اس کی نماز درست ہے بخاری و مسلم کی احادیث سے یہ ثابت ہے ایک قول یہ ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم دیا گیا تو یہود نے مسلمانوں پر طعنہ زنی کی ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی بتایا گیا کہ مشرق مغرب سب اللہ کا ہے جس طرف چاہے قبلہ معین فرمائے کسی کو اعتراض کا کیا حق (خازن)ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت دعا ء کے حق میں وارد ہوئی حضور سے دریافت کیا گیا کہ کس طرف منہ کر کے دعا کی جائے اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ، ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حق سے گریز و فرار میں ہے اور ” اَیْنَمَا تُوَلُّوْا” کا خطاب ان لوگوں کو ہے جو ذکر الٰہی سے روکتے اور مسجدوں کی ویرانی میں سعی کرتے ہیں کہ وہ دنیا کی رسوائی اور عذاب آخرت سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ مشرق و مغرب سب اللہ کا ہے جہاں بھاگیں گے وہ گرفت فرمائے گا اس تقدیر پر وجہ اللہ کے معنی خدا کا قرب و حضور ہے (فتح) ایک قول یہ بھی ہے کہ معنٰی یہ ہیں کہ اگر کفار خانہء کعبہ میں نماز سے منع کریں تو تمہارے لئے تمام زمین مسجد بنادی گئی ہے جہاں سے چاہو قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو۔

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُۗ-فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۱۱۵)

اور پورب پچھم(مشرق ومغرب) سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وَجْہُ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بےشک اللہ وسعت والا علم والا ہے

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۙ-سُبْحٰنَهٗؕ-بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ(۱۱۶)

اور بولے خدا نے اپنے لیے اولاد رکھی پاکی ہے اسے (ف۲۰۸) بلکہ اسی کی مِلک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (ف۲۰۹) سب اس کے حضور گردن ڈالے ہیں

(ف208)

شان نزول: یہود نے حضرت عزیر کو اور نصاریٰ نے حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا کہا مشرکین عرب نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بتایا ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی فرمایا سُبْحٰنَہ، وہ پاک ہے اس سے کہ اس کے اولاد ہو اس کی طرف اولاد کی نسبت کرنا اس کو عیب لگانا اور بے ادبی ہے حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم نے مجھے گالی دی میرے لئے اولاد بتائی میں اولاد اور بیوی سے پاک ہوں۔

(ف209)

اور مملوک ہونا اولاد ہونے کے منافی ہے جب تمام جہان اس کا مملوک ہے ،تو کوئی اولاد کیسے ہوسکتا ہے

مسئلہ : اگر کوئی اپنی اولاد کا مالک ہوجائے وہ اسی وقت آزاد ہوجائے گی۔

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(۱۱۷)

نیا پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا (ف۲۱۰) اور جب کسی بات کا حکم فرمائے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہو جا وہ فوراً ہوجاتی ہے (ف۲۱۱)

(ف210)

جس نے بغیر کسی مثال سابق کے اشیاء کو عدم سے وجود عطا فرمایا ٰ۔

(ف211)

یعنی کائنات اس کے ارادہ فرماتے ہی وجود میں آجاتی ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌؕ-كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْؕ-تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْؕ-قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ(۱۱۸)

اور جاہل بولے (ف۲۱۲) اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا (ف۲۱۳) یا ہمیں کوئی نشانی ملے (ف۲۱۴) ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات اِن کے اُن کے دل ایک سے ہیں (ف۲۱۵) بےشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لیے (ف۲۱۶)

(ف212)

یعنی اہل کتاب یا مشرکین۔

(ف213)

یعنی بے واسطہ خود کیوں نہیں فرماتا جیسا کہ ملائکہ و انبیاء سے کلام فرماتا ہے یہ ان کا کمال تکبر اور نہایت سرکشی تھی، انہوں نے اپنے آپ کو انبیاء و ملائکہ کے برابر سمجھا۔ شان نزول :رافع بن خزیمہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو اللہ سے فرمایئے وہ ہم سے کلام کرے ہم خود سنیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

(ف214)

یہ ان آیات کا عناداً انکار ہے جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائیں۔

(ف215)

کوری و نابینائی اور کفروقساوت میں اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکین خاطر فرمائی گئی کہ آپ ان کی سرکشی اور معاندانہ انکار سے رنجیدہ نہ ہوں پچھلے کفار بھی انبیاء کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے۔

(ف216)

یعنی آیاتِ قرآنی و معجزات باہرات انصاف والے کو سید عالم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا یقین دلانے کے لئے کافی ہیں مگر جو طالب یقین نہ ہو وہ دلائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًاۙ-وَّ لَا تُسْــٴَـلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ(۱۱۹)

بےشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور تم سے دوزخ والوں کا سوال نہ ہوگا (ف۲۱۷)

(ف217)

کہ وہ کیوں ایمان نہ لائے اس لئے کہ آپ نے اپنا فرض تبلیغ پورے طور پر ادا فرمادیا۔

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِـعَ مِلَّتَهُمْؕ-قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰىؕ-وَ لَىٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِۙ-مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ(۱۲۰)

اور ہرگز تم سے یہود اور نصاریٰ راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے دین کی پیروی نہ کرو (ف۲۱۸) تم فرمادوکہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۲۱۹) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں کا پیرو ہوا بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ سے تیرا کوئی بچانے والانہ ہوگا اور نہ مددگار (ف۲۲۰)

(ف218)

اور یہ ناممکن کیونکہ وہ باطل پر ہیں۔

(ف219)

وہی قابل اتباع ہے اور اس کے سوا ہر ایک راہ باطل و ضلالت ۔

(ف220)

یہ خطاب امت محمدیہ کو ہے کہ جب تم نے جان لیا کہ سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے پاس حق و ہدایت لائے تو تم ہر گز کفار کی خواہشوں کا اتباع نہ کرنا اگر ایسا کیا تو تمہیں کوئی عذاب الہی سے بچانے والا نہیں ۔(خازن)

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠(۱۲۱)

جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ جیسی چاہیے اس کی تلاوت کرتے ہیں وہی اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے منکر ہوں تو وہی زیاں کار(نقصان اُٹھانے والے) ہیں (ف۲۲۱)

(ف221)

شان نزول :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ آیت اہل سفینہ کے باب میں نازل ہوئی جو جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر بارگاہ رسالت ہوئے تھے ان کی تعداد چالیس تھی بتیس اہلِ حبشہ اور آٹھ شامی راہب ان میں بحیر اراہب بھی تھے۔ معنی یہ ہیں کہ درحقیقت توریت شریف پر ایمان لانے والے وہی ہیں جو اس کی تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں اور بغیر تحریف و تبدیل پڑھتے ہیں اور اس کے معنی سمجھتے اور مانتے ہیں اور اس میں حضور سید کائنات محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت دیکھ کر حضور پر ایمان لاتے ہیں اورجو حضور کے منکر ہوتے ہیں وہ توریت پر ایمان نہیں رکھتے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.