أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَـقِّ لِتَحۡكُمَ بَيۡنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰٮكَ اللّٰهُ‌ ؕ وَلَا تَكُنۡ لِّـلۡخَآئِنِيۡنَ خَصِيۡمًا ۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس چیز کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے آپ کو دکھائی ہے ‘ اور آپ خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس چیز کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے آپ کو دکھائی ہے ‘ اور آپ خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنیں۔ (النساء : ١٠٥) 

ربط آیات : 

اللہ تعالیٰ نے چند آیتیں پہلے منافقین کے احوال اور ان کے احکام بیان فرمائے تھے ‘ اس کے بعد کفار سے جہاد کرنے کی ترغیب میں آیتیں نازل فرمائیں اور اس ضمن میں یہ فرمایا کہ اگر کسی نے کسی مسلمان یا ذمی کو خطاء قتل کردیا تو اس کا کیا حکم ہے اور جس نے کسی مسلمان کو عمدا قتل کردیا تو اس کا کیا حکم ہے ‘ پھر اسی سلسلہ میں نماز خوف اور حالت جنگ میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کی ہدایت دی ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ پھر منافقوں کے ذکر کی طرف متوجہ ہوا اور فرمایا منافق یہ چاہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے خلاف اور باطل کے موافق فیصلہ کرنے پر ابھاریں ‘ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مطلع فرمایا کہ منافقوں کا موقف باطل ہے ‘ اور اس مقدمہ میں یہودی حق پر ہیں آپ منافقوں کے قول اور قسموں کی طرف توجہ نہ کریں۔ 

دوسری وجہ مناسبت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دیا ہے ‘ لیکن ان کے خلاف جہاد کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے ساتھ بےانصافی کی جائے ‘ بلکہ واجب یہ ہے کہ اگر ان کا موقف صحیح ہو تو ان کے حق میں فیصلہ کیا جائے اور اگر ان کا موقف غلط ہو تو ان کے خلاف کیا جائے اور کسی شخص کے ظاہری اسلام کی وجہ سے کسی کافر کے ساتھ بےانصافی نہ کی جائے۔ 

منافقوں کے چوری کرنے اور بےقصور پر اس کی تہمت لگانے کے متعلق مختلف روایات :

اس آیت میں کسی منافق کی چوری یا خیانت کا ذکر کیا گیا ہے اور اس نے کسی بےقصور مسلمان یا یہودی پر اپنی چوری یا خیانت کی تہمت لگادی تھی پھر اس منافق اور اس کے اقرباء نے یہ چاہا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس منافق کی حمایت کریں اور اس کے حق میں فیصلہ کردیں اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں ‘ منافق ابیرق کا بیٹا بشیر تھا اور ایک روایت میں اس کا نامہ طعمہ ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت قتادہ بن نعمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں سے ایک گھر تھا جس کو بنوابیرق کہتے تھے ‘ وہ تین شخص تھے بشر ‘ بشیر اور مبشر ‘ بشیر ایک منافق آدمی تھا ‘ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کی ہجو میں شعر کہتا تھا پھر بعض عرب کو وہ اشعار ہبہ کردیتا ‘ پھر کہتا کہ فلاں فلاں نے اس طرح کہا ہے اور فلاں فلاں نے اس طرح کہا ہے ‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب یہ شعر سنتے تو وہ کہتے کہ بہ خدا بہ یہ اشعار اس خبیث شخص کے کہے ہوئے ہیں ‘ اور وہ کہتے تھے کہ یہ اشعار ابن ابیرق کے کہے ہوئے ہیں ‘ اور بنو ابیرق زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں میں بہت تنگ دست اور فاقہ زدہ تھے ‘ اور مدینہ میں لوگ بالعموم کھجوریں اور جو کھاتے تھے ‘ اور جب کوئی شخص خوشحال ہوتا اور شام سے کوئی غلہ کا سامان لاتا تو وہ اس سے آٹا خرید لیتا اور اس آٹے سے صرف وہ روٹی کھاتا تھا اور اس کے گھر والے حسب معمول کھجور اور جو کھاتے تھے ایک دفعہ شام سے غلہ کا قافلہ آیا تو میرے چچا رفاعہ بن زید نے اس سے آٹے کی ایک بوری خرید لی ‘ اور اس کو اپنے گھر کی کوٹھڑی (اسٹور) میں رکھ دیا اور کوٹھڑی میں ہتھیار “ زرہ اور تلوار بھی رکھی ہوئی تھی ‘ پھر گھر کے نیچے سے چوری کی گئی اور کوٹھڑی میں نقب لگائی گئی اور کھانے کی چیزیں اور ہتھیار چوری کرلیے گئے ‘ صبح کو میرے چچا رفاعہ میرے پاس آئے اور کہا اے میرے بھیتجے ! اس رات ہمارے گھر میں چوری کی گئی ہے ‘ اور ہماری کوٹھڑی سے غلہ اور ہتھیار اٹھالیے گئے ہیں ‘ ہم نے اپنی حویلی میں پوچھ کچھ شروع کی ‘ ہمیں بتایا گیا کہ اس رات بنو ابیرق روشنی کرتے پھر رہے تھے اور ہمارا یہی گمان ہے کہ وہ تمہارا طعام چرا کر لائے ہیں اور جس وقت ہم یہ تفتیش کر رہے تھے تو بنو ابیرق نے کہا بہ خدا ہمارا گمان یہ ہے کہ تمہارا چور لبید بن سہل ہے ‘ یہ شخص ہم میں سے نیک مسلمان تھا ‘ جب لبید نے یہ سنا تو اس نے تلوار سونت لی اور اس نے کہا میں چوری کروں گا ! خدا کی قسم میں تم کو اس تلوار سے قتل کر دوں گا ورنہ تم یہ بتاؤ کہ یہ چوری کس نے کی ہے ‘ انہوں نے کہا اے شخص پرے ہٹو ‘ تمہارا اس چوری سے کوئی تعلق نہیں ہے پھر ہم نے اس حویلی میں تفتیش کی حتی کہ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ بنو ابیرق نے ہی چوری کی ہے ‘ پھر مجھ سے میرے چچا نے کہا ‘ اے بھتیجے ! تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کرو قتادہ کہتے ہیں کہ پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور میں نے عرض کیا کہ ہمارے گھروں میں بعض خائن لوگ ہیں انہوں نے میرے چچا رفاعہ بن زید کی کوٹھڑی (گودام یا سٹور) میں نقب لگائی اور وہاں سے ہتھیار اور غلہ اٹھا لیا اور ہمارے ہتھیار ہمیں واپس دے دیں اور غلہ (طعام) کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عنقریب اس کا فیصلہ کروں گا ‘ جب بنوابیرق نے یہ سنا تو وہ اپنے ایک آدمی کے پاس گئے ‘ جس کا نام اسیر بن عروہ تھا ‘ اور اس سے اس مسئلہ میں بات کی اور اس معاملہ میں حویلی کے لوگ جمع ہوگئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! قتادہ بن نعمان اور اس کے چچا نے ہمارے ایک گھر کو (پھنسانے کا) قصد کرلیا ہے اور وہ لوگ مسلمان ہیں اور نیک ہیں انہوں نے بغیر گواہ اور ثبوت کے ان پر چوری کی تہمت لگائی ہے ‘ قتادہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور میں نے آپ سے اس مسئلہ میں بات کی تو آپ نے فرمایا : تم نے ایک گھر والوں کے خلاف ارادہ کیا ہے جن کے اسلام اور نیکی کا ذکر کیا جاتا ہے تم ان پر بغیر گواہ اور ثبوت کے چوری کی تہمت لگائی ہے ‘ قتادہ کہتے ہیں کہ میں واپس آگیا اور میں نے یہ خواہش کی کہ کاش میرا کچھ مال چلا جاتا اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس مسئلہ میں بات نہ کی ہوتی ‘ پھر میرے چچا رفاعہ آئے اور کہا : اے میرے بھتیجے یہ تم نے کیا کیا ‘ میں نے ان کو بتایا کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا فرمایا ہے ‘ میرے چچا نے کہا اللہ مدد کرنے والا ہے ‘ پھر تھوڑی دیر بعد قرآن مجید کی یہ آیات نازل ہوئی : بیشک ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس چیز کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے آپ کو دکھائی ہے ‘ اور آپ خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنیں (النسا : ١٠٥) ” یعنی بنو ابیرق کی طرف سے نہ جھگڑا کریں اور اللہ سے استغفار کیجئے “ (النسا : ١٠٦) اس بات کے متعلق جو آپ نے قتادہ سے کہی تھی “ بیشک اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے اور آپ ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑیں جو اپنے نفسوں سے خیانت کرنے والے ہیں ‘ بیشک اللہ ہر اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو بہت بددیانت گنہ گار ہو یہ لوگ انسانوں سے (اپنے کام) چھپاتے ہیں اور اللہ سے نہیں چھپا سکتے حالانکہ وہ انکے ساتھ ہوتا ہے۔ (النسا : ١٠٨) الی قولہ غفورا رحیما یعنی اگر یہ اللہ سے مغفرت طلب کرتے تو اللہ ان کو بخش دیتا۔ (النسا : ١١٠) ” اور شخص کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال ایس شخص پر ہوگا۔ (النسا : ١١١) منافقوں نے لبید پر اس چوری کی تہمت لگائی تھی اس کے متعلق فرمایا ” اور جو شخص کوئی خطا یا گناہ کرے پھر اس کی تہمت کسی بےگناہ پر لگا دے تو بیشک اس نے بہتان باندھا اور کھلے ہوئے گناہ کا ارتکاب کیا (النساء : ١١٢) جب قرآن مجید کی یہ آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس وہ ہتھیار لائے گئے اور آپ نے وہ ہتھیار رفاعہ کو واپس دے دیئے قتادہ کہتے ہیں جب میں نے اپنے چچا کو وہ ہتھیار دیئے تو انہوں نے کہا اے میرے بھتیجے ” میں یہ ہتھیار اللہ کی راہ میں دیتا ہوں ‘ مجھے پہلے ان کے اسلام کے متعلق شک پڑتا تھا اس وقت مجھے یقین ہوگیا کہ ان کا اسلام صحیح ہے ‘ جب قرآن مجید کی یہ آیات نازل ہوئیں تو بشیر جا کر مشرکین سے مل گیا اور سلافہ بنت سعد سمیہ کے ہاں ٹھہرا ‘ اس وقت اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : ” جو شخص ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور (تمام) مسلمانوں کے راستہ کے خلاف چلے ہم اس کو اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرا اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے وہ کیسا برا ٹھکانا ہے۔ بیشک اللہ اس کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔ اور جو گناہ اس سے کم ہو اس کے جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا اور جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا “ (النسا : ١١٦۔ ١١٥) جب بشیر سلافہ کے ہاں ٹھیرا تو حسان بن ثابت نے اس کی مذمت میں اشعار کہے اور وہ اپنا سامان لے کر اس کو چھوڑ کر چلی گئی۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٤٧‘ المستدرک ج ٤ ص ٣٨٧‘ ٣٨٥) 

امام ابن جریر طبری نے عکرمہ کی روایت سے اس واقعہ کو اس طرح بیان کیا ہے کہ ایک انصاری نے طعمہ بن ابیرق (یہ منافق تھا) کی کوٹھڑی (گودام ‘ حفاظت کے لیے سامان رکھنے کی جگہ) میں کچھ سامان رکھوایا اس سامان میں ایک زرہ بھی تھی پھر وہ انصاری کہیں چلا گیا ‘ جب وہ انصاری واپس آیا اور اس کو ٹھڑی (سٹور) کو کھولا تو اس میں وہ زرہ نہیں تھی اس نے طعمہ بن ابیرق سے اس کے متعلق سوال کیا اس نے زید بن السمین نام کے ایک یہودی پر اس کی تہمت لگا دی ‘ اس انصاری نے طعمہ سے ہی اپنی زرہ کا مطالبہ کیا ‘ جب طعمہ کی قوم نے یہ معاملہ دیکھا تو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئی اور یہ چاہا کہ آپ طعمہ کو اس الزام سے بری کردیں ‘ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں ‘ اور بالآخر طعمہ بن ابیرق مشرکوں سے جا ملا۔ (جامع البیان جز ٥ ص ٣٦٦‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

امام ترمذی کی روایت کے مطابق اس منافق کا نام بشیر بن ابیرق تھا اور اس نے اپنی چوری کی تہمت ایک نیک مسلمان لبید بن سہل پر لگائی تھی اور منافقوں نے چاہا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بشیر کو بری کردیں ‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان منافقوں کیمدافعت کرنے سے منع کیا اور ظاہر فرمایا کہ لبید بےقصور ہے اور منافقوں کی مذمت کی اور بالآخر بشیر مشرکوں سے جا ملا اور امام ابن جریر کی روایت کے مطابق اس منافق کی ملامت کی اور زید بن السمین یہودیی کی برات بیان کی ‘ اور بالاخر طعمہ بن ابیرق مشرکوں سے جاملا۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ ” من یشاقق الرسول “۔ الایہ۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کبھی دلیل ظاہر اور کبھی علم غیب کے مطابق فیصلہ کرنا۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس چیز کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے آپ کو دکھائی ہے۔ 

اس آیت میں دکھانے سے مراد تعلیم اور خبر دینا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلا دیا تھا کہ دراصل مجرم اور خائن بشیر بن ابیرق یا طعمہ بن ابیرق ہے ‘ اور منافقوں نے لبید بن سہل مسلمان یا زید بن السمین یہودی کے خلاف جو چوری کی گواہی دی ہے وہ جھوٹی ہے ‘ اس لیے آپ منافقوں کی ظاہری شہادت کے مطابق فیصلہ نہ کریں ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو غیب منکشف کردیا ہے اس کے مطابق فیصلہ کریں۔ اس تعلیم کو اللہ تعالیٰ نے دکھانے سے اس لیے تعبیر کیا ہے کہ یہ علم اس قدر یقینی تھا کہ یہ علم بہ منزلہ مشاہدہ کے تھا ‘ حضرت عمر (رض) یہ فرماتے تھے کہ یہ صرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت ہے اس لیے تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کر رہا ہوں جو مجھے اللہ نے دکھائی ہے بلکہ یہ کہے کہ میں اپنی رائے اور اجتہاد کے مطابق فیصلہ کر رہا ہوں۔ 

بعض علماء نے اس آیت سے یہ سمجھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف وحی الہی سے فیصلہ کرتے تھے ‘ اور اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرنا آپ کے لیے جائز نہ تھا ‘ لیکن یہ صحیح نہیں ہے اس خاص واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر اصل صورتحال منکشف کردی تاکہ آپ کی نبوت پر دلیل قائم ہو کہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں اور اللہ آپ کو غیب پر مطلع فرماتا ہے ‘ لیکن کئی مرتبہ آپ نے ظاہری شہادت کے مطابق فیصلہ کیا ‘ امام بخاری نے حضرت کعب بن مالک (رض) سے روایت کیا ہے کہ اسی (٨٠) سے زیادہ منافق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک میں نہیں گئے تھے ‘ جب آپ واپس آئے تو یہ منافق آپ کے پاس آکر عذر پیش کرنے لگے اور قسمیں کھانے لگے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے عذروں کو قبول کرلیا اور ان سے بیعت لے لی اور ان کے لیے استغفار کیا ‘ آپ نے ظاہر حال کے مطابق عمل کیا اور ان کے باطن کو اللہ کے حوالے کردیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٤١٨) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک میں منافقوں کے جھوٹے اعذار کو قبول فرما کر ان کے لیے استغفار کیا ‘ اور اس میں امت کے لیے یہ نمونہ ہے کہ تم نے ظاہر حال کے مطابق عمل اور فیصلہ کرنا ہے اور باطن اور غیب کو اللہ کے حوالے کردینا ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اکثر اور غالب عمل ظاہر دلیل کے مطابق ہی ہوتا تھا، امام بخاری روایت کرتے ہیں : حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ تھا ‘ میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو یہ کہتے ہوئے سنا ” جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہیں پر خرچ نہ کرو حتی کہ (سب) منتشر ہوجائیں “۔ (المنافقون : ٧) اور یہ کہتے ہوئے سنا ” اگر (اب) ہم مدینہ کی طرف لوٹ کر گئے تو ضرور عزت والا وہاں ذلت والے کو نکال دے گا۔ “ (المنافقون : ٨) میں نے اس کا اپنے چچا سے ذکر کیا ‘ میرے چچا نے اس کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن ابی اور اس کے اصحاب کو بلایا انہوں نے قسمیں اٹھا لیں کہ ہم نے یہ نہیں کہا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی تصدیق کردی اور میری تکذیب کردی ‘ مجھے اس پر اتنا غم ہوا کہ ایسا غم کبھی نہیں ہوا تھا تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی۔ یہی لوگ ہیں جو یہ کہہ رہے تھے کہ جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہیں ان پر خرچ نہ کرو حتی کہ یہ (سب) منتشر ہوجائیں الآیہ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا اور مجھ پر یہ آیات پڑھیں اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاری تصدیق کردی (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٩٠١) حضرت زید بن ارقم کے پاس اپنے قول کی صداقت پر گواہ نہ تھے اور منافقوں نے ان کے خلاف قسمیں کھالی تھیں اس لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظاہر دلیل کے مطابق منافقوں کے ساتھ سچوں کا معاملہ کیا اور حضرت زید بن ارقم کے ساتھ جھوٹوں کا معاملہ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرما کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر امر باطن کو منکشف کردیا اور آپ کو غیب پر مطلع فرما دیا اور آپ نے حضرت زید بن ارقم کی تصدیق کردی اور اس غیب کی خبر دینے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے صدق پر دلیل قائم ہوگئی۔ rnٰخلاصہ یہ ہے کہ آپ اکثر وبیشتر ظاہر دلیل کے مطابق اپنے اجتہاد سے فیصلہ فرماتے تھے تاکہ آپ کی زندگی میں یہ نمونہ قائم ہو کہ مقدمات کے فیصلہ میں ظاہر حال اور حجت ظاہرہ کا اعتبار ہوتا ہے اور بعض اوقات اللہ تعالیٰ کسی معاملہ میں اپنی کسی حکمت کو پورا کرنے کے لیے آپ پر حقیقت حال کو منکشف کردیتا اور آپ کو غیب پر مطلع فرماتا اور آپ اس غیب کی خبر کے مطابق فیصلہ کرتے اور اس سے آپ کی نبوت پر دلیل قائم ہوجاتی اور طعمہ بن ابیرق یا بشیر بن ابیرق منافق کا واقعہ بھی اسی قبیل سے ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور آپ خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنیں۔ (النساء : ١٠٥) 

اللہ تعالیٰ کا آپ کو منافقوں کی حمایت سے منع فرمانا آپ کی عصمت کے خلاف نہیں ہے 

جو لوگ عصمت نبوت پر اعتراض کرتے ہیں انہوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خائنوں کی طرف سے جھگڑنے اور ان کی حمایت کا ارادہ نہیں کیا ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے منع نہ فرماتا ‘ اور خائنوں کی طرف سے جھگڑنا اور ان کی حمایت کا ارادہ کرنا گناہ ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ منافق ظاہرا مسلمان تھے اور ان پر مسلمانوں کے احکام جاری تھے اور ایک سے زیادہ منافقوں نے طعمہ بن ابیرق یا بشیر بن ابیرق کے اس چوری سے بری ہونے کی گواہی دی اور اس ظاہری شہادت کا قبول کرنا واجب ہے اس لیے ان قرائن اور شہادتوں کی بناء پر ایسے اسباب پیدا ہوگئے تھے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی حمایت اور ان کی طرف سے مخاصمت کریں ‘ اگرچہ بالفعل آپ نے انکی حمایت اور ان کی طرف سے مخاصمت نہیں کی تھی لیکن انکی شہادتوں کی وجہ سے آپ کا ان کی طرف سے مخاصمت کرنا متوقع تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہلے ہی سے منع فرما دیا ” اور آپ خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنیں۔ “ اور اس میں کوئی چیز اپ کی عصمت کے منافی نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 105