الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر :367

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کررہا ہوں میرے پاس دو شخص آئے جن میں سے ایک دوسرے سے بڑا ہے،میں نے مسواک چھوٹے کو دی تو مجھ سے کہا گیا کہ بڑے کو دیجئے لہذا میں نے بڑے کو دیدی ۱؎ (مسلم بخاری)

شرح

۱؎ غالبا ً وہ د ونوں ایک ہی طرف ہوں گے اور چھوٹا حضور سے قریب ہوگا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب کا لحاظ فرماتے ہوئے پہلے اس کو دی تو رب کی طرف سے حکم ہوا کہ قرب پر بڑائی کو ترجیح دیجئے۔اگرچہ یہ واقعہ خواب کا ہے مگر نبی کی خواب بھی وحی ہوتی ہے لہذا اب حکم یہی ہے کہ مسواک یا کوئی اور چیز ترتیب وار دینا ہے تو بڑے کو پہلے دی جائے،بشرطیکہ دونوں ایک ہی جانب میں ہوں۔اور اگر دونوں طرف ہوں تو پہلے داہنے والے کو دی جائے،پھر بائیں والے کو،جیسا کہ دیگر احادیث میں ہے لہذا احادیث میں سے تعارض نہیں۔خیال رہے کہ وہ دونوں خواب میں آنے والے فرشتے ہوں گے جو شکل انسانی میں آئے اور مسواک بطور تمثیل دکھائی گئی تاکہ اس سے شرعی مسائل معلوم ہوں کہ اپنی مسواک دوسرے کو استعمال کے لیے دے سکتے ہیں اور طر یقہ دینے کا یہ ہوگا ،جیسے داؤد علیہ السلام کی خدمت میں دو فرشتے شکل انسانی میں آئے اور بکریوں کا مسئلہ پیش کیا۔