أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تُجَادِلۡ عَنِ الَّذِيۡنَ يَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ خَوَّانًا اَثِيۡمًا ۞

ترجمہ:

اور آپ ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑیں جو اپنے نفسوں سے خیانت کرنے والے ہیں ‘ بیشک اللہ ہر اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو بہت بددیانت گنہ گار ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور آپ ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑیں جو اپنے نفسوں سے خیانت کرنے والے ہیں ‘ بیشک اللہ ہر اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو بہت بددیانت گنہ گار ہو۔ (النساء : ١٠٧) 

اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے ‘ اور آپ ہی کو ان کی حمایت سے منع کیا گیا ہے لیکن کسی شخص کو کسی چیز سے منع کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس نے اس چیز کا ارتکاب بھی کیا ہو ‘ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر (بفرض محال) آپ نے شرک کیا تو آپ کے عمل ضائع ہوجائیں گے۔ (الزمر : ٦٥) 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اللہ اس کو پسند نہیں کرتا جو بہت زیادہ خیانت کرتا ہو۔ “ یہاں پسند نہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ اس سے ناراض ہوتا ہے اور اس سے بغض رکھتا ہے ” خوانا “ مبالغہ کا صیغہ ہے اس کا معنی ہے بہت زیادہ خیانت کرنے والا ‘ یعنی جو بار بار قصدا خیانت کرتا ہو اور بار بار قصدا گناہ کرتا ہو اور جس شخص سے بلاقصد اور غفلت سے گناہ ہوجائیں وہ اس میں داخل نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 107