أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ وَهُوَ مَعَهُمۡ اِذۡ يُبَيِّتُوۡنَ مَا لَا يَرۡضٰى مِنَ الۡقَوۡلِ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطًا ۞

ترجمہ:

یہ لوگ انسانوں سے (اپنے کام) چھپاتے ہیں اور اللہ سے نہیں چھپا سکتے حالانکہ وہ انکے ساتھ ہوتا ہے جب وہ رات کو ایسی بات کے متعلق مشورہ کرتے ہیں جو بات اللہ کو پسند نہیں ہے اور اللہ ان کے تمام کاموں کو محیط ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یہ لوگ انسانوں سے (اپنے کام) چھپاتے ہیں اور اللہ سے نہیں چھپا سکتے حالانکہ وہ انکے ساتھ ہوتا ہے جب وہ رات کو ایسی بات کے متعلق مشورہ کرتے ہیں جو بات اللہ کو پسند نہیں ہے اور اللہ ان کے تمام کاموں کو محیط ہے۔ (النساء : ١٠٨) 

یعنی جو لوگ کوئی برا کام کرتے ہیں تو لوگوں سے حیاء کرتے ہیں اور چھپ کر وہ کام کرتے ہیں یا لوگوں کے ضرر کے خوف سے چھپ کر وہ کام کرتے ہیں اور یہ لوگ اللہ سے حیاء نہیں کرتے ‘ یعنی اللہ کے خوف سے اور اس کے عذاب کے ڈر سے اس برائی کو ترک نہیں کرتے ‘ جو بات اللہ کو پسند نہیں ہے اس سے مراد جھوٹ ہے اور بےقصور پر تہمت لگانا اور بہتان باندھنا ہے اور اللہ ہر کام کو محیط ہے ‘ خواہ کوئی کام چھپ کر کیا جائے یا لوگوں کے سامنے وہ ہر ایک کے کام سے پوری طرح باخبر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 108