کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 15 سورہ البقرہ آیت نمبر122 تا 129

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ(۱۲۲)

اے اولادِ یعقوب یاد کرو میرا احسان جو میں نے تم پر کیا او ر وہ جو میں نے اس زمانہ کے سب لوگوں پر تمہیں بڑائی دی

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْــٴًـا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ(۱۲۳)

اور ڈرو اُس دن سے کہ کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوگی اور نہ اس کو کچھ لے کر چھوڑیں اور نہ کافر کو کوئی سفارش نفع دے (ف۲۲۲) اور نہ ان کی مدد ہو

(ف222)

اس میں یہود کارد ہے جو کہتے تھے ہمارے باپ دادا بزرگ گزرے ہیں ہمیں شفاعت کرکے چھڑا لیں گے انہیں مایوس کیا جاتا ہے کہ شفاعت کافر کے لئے نہیں

وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّؕ-قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًاؕ-قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْؕ-قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ(۱۲۴)

اور جب (ف۲۲۳) ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا (ف۲۲۴) تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں (ف۲۲۵) فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی اور میری اولاد سے فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا (ف۲۲۶)

(ف223)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت سرزمین اہواز میں بمقام سوس ہوئی پھر آپ کے والد آپ کو بابل ملک نمرود میں لے آئے یہود و نصاریٰ و مشرکین عرب سب آپ کے فضل و شرف کے معترف اور آپ کی نسل میں ہونے پر فخر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے وہ حالات بیان فرمائے جن سے سب پر اسلام کا قبو ل کرنا لازم ہوجاتا ہے کیونکہ جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر واجب کیں وہ اسلام کے خصائص میں سے ہیں۔

(ف224)

خدائی آزمائش یہ ہے کہ بندے پر کوئی پابندی لازم فرما کر دوسروں پر اس کے کھرے کھوٹے ہونے کا اظہار کردے۔

(ف225)

جو باتیں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام پر آزمائش کے لئے واجب کی تھیں ان میں مفسرین کے چند قول ہیں قتادہ کا قول ہے کہ وہ مناسکِ حج ہیں مجاہد نے کہا اس سے وہ دس چیزیں مراد ہیں جو اگلی آیات میں مذکور ہیں حضرت ابن عباس کا ایک قول یہ ہے کہ وہ دس چیزیں یہ ہیں۔

(۱) مونچھیں کتروانا۔(۲) کلی کرنا (۳) ناک میں صفائی کے لئے پانی استعمال کرنا (۴)مسواک کرنا (۵) سر میں مانگ نکالنا (۶) ناخن ترشوانا (۷) بغل کے بال دور کرنا (۸) موئے زیر ناف کی صفائی(۹) ختنہ (۱۰) پانی سے استنجا کرنا۔ یہ سب چیزیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر واجب تھیں اور ہم پر ان میں سے بعض واجب ہیں بعض سنت۔

(ف226)

مسئلہ : یعنی آپ کی اولاد میں جو ظالم (کافر) ہیں وہ امامت کا منصب نہ پائیں گے مسئلہ اس سے معلوم ہوا کہ کافر مسلمانوں کا پیشوا نہیں ہوسکتا اور مسلمانوں کو اس کا اتباع جائز نہیں۔

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًاؕ-وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّىؕ-وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(۱۲۵)

اوریاد کروجب ہم نے اس گھر کو (ف۲۲۷) لوگوں کے لیے مرجع اور امان بنایا (ف۲۲۸) اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ (ف۲۲۹) اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسمٰعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لیے

(ف227)

بیت سے کعبہ شریف مراد ہے اور اس میں تمام حرم شریف داخل ۔

(ف228)

امن بنانے سے یہ مراد ہے کہ حرم کعبہ میں قتل و غارت حرام ہے یا یہ کہ وہاں شکار تک کو امن ہے یہاں تک کہ حرم شریف میں شیر بھیڑیے بھی شکار کا پیچھا نہیں کرتے’ چھوڑ کر لوٹ جاتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ مومن اس میں داخل ہو کر عذاب سے مامون ہوجاتا ہے حرم کو حرم اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں قتل ظلم شکار حرام و ممنوع ہے۔ (احمدی) اگر کوئی مجرم بھی داخل ہوجائے تو وہاں اس سے تعرض نہ کیا جائے گا۔(مدارک)

(ف229)

مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ معظمہ کی بنا فرمائی اور اس میں آپ کے قدم مبارک کا نشان تھا اس کو نماز کا مقام بنانے کا امر استحباب کے لئے ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ اس نماز سے طواف کی دو رکعتیں مراد ہیں۔ ( احمدی وغیرہ)

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(۱۲۶)

اور جب عرض کی ابراہیم نے کہ اے رب میرے اس شہر کو امان والا کردے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں (ف۲۳۰) فرمایا اور جو کافر ہوا تھوڑا برتنے کو اسے بھی دوں گا پھر اسے عذابِ دوزخ کی طرف مجبور کروں گا اوروہ بہت بری جگہ ہے پلٹنے کی

(ف230)

چونکہ امامت کے باب میں ” لَایَنَالُ عَھْدِی الظَّالِمیْنَ” ارشاد ہوچکا تھا اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس دعا میں مومنین کو خاص فرمایا اور یہی شان ادب تھی اللہ تعالیٰ نے کرم کیا دعا قبول فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ رزق سب کو دیا جائے گا مومن کو بھی کافر کو بھی لیکن کافر کا رزق تھوڑا ہے یعنی صرف دنیوی زندگی میں وہ بہرہ مند ہوسکتا ہے۔

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُؕ-رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۱۲۷)

اور جب اٹھاتاتھا ابراہیم اس گھر کی نیویں (بنیادیں)اور اسمٰعیل یہ کہتے ہوئے کہ اے رب ہمارے ہم سے قبول فرما (ف۲۳۱) بےشک تو ہی ہے سنتا جانتا

(ف231)

پہلی مرتبہ کعبہ معظمہ کی بنیاد حضرت آدم علیہ السلام نے رکھی اور بعد طوفانِ نوح پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی بنیاد پر تعمیر فرمائی یہ تعمیر خاص آپ کے دستِ مبارک سے ہوئی اس کے لئے پتھر اٹھا کر لانے کی خدمت و سعادت حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو میسر ہوئی دونوں حضرات نے اس وقت یہ دعا کی کہ یارب ہماری یہ طاعت و خدمت قبول فرما۔

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ۪-وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَاۚ-اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۱۲۸)

اے رب ہمارے اور کر ہمیں تیرے حضور گردن رکھنے والے (ف۲۳۲) اور ہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمان بردار اور ہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتا اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما (ف۲۳۳) بےشک تو ہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان

(ف232)

وہ حضرات اللہ تعالیٰ کے مطیع و مخلص بندے تھے پھر بھی یہ دعا اس لئے ہے کہ طاعت و اخلاص میں اور زیادہ کمال کی طلب رکھتے ہیں ذوق طاعت سیر نہیں ہوتا ۔ سبحان اللہ ؎ فکر ہر کس بقدر ہمت اوست ۔

(ف233)

حضرت ابراہیم واسمٰعیل علیہما السلام معصوم ہیں آپ کی طرف سے تو یہ تواضع ہے اور اللہ والوں کے لئے تعلیم ہے مسئلہ کہ یہ مقام قبول دُعا ہے اور یہاں دعا و توبہ سنت ابراہیمی ہے۔

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠(۱۲۹)

اے رب ہمارے اور بھیج ان میں (ف۲۳۴) ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب (ف۲۳۵) اور پختہ علم سکھائے (۲۳۶) اور انہیں خوب ستھرا فرمادے (ف۲۳۷) بےشک تو ہی ہے غالب حکمت والا

(ف234)

یعنی حضرت ابراہیم و حضرت اسمٰعیل کی ذریت میں یہ دُعا سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تھی یعنی کعبہ معظمہ کی تعمیر کی عظیم خدمت بجالانے اور توبہ و استغفار کرنے کے بعد حضرت ابراہیم و اسمٰعیل نے یہ دعا کی کہ یارب اپنے محبو ب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہماری نسل میں ظاہر فرما اور یہ شرف ہمیں عنایت کر یہ دعا قبول ہوئی اور ان دونوں صاحبوں کی نسل میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کوئی نبی نہیں ہوا اولاد حضرت ابراہیم میں باقی انبیاء حضرت اسحٰق کی نسل سے ہیں۔

مسئلہ : سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا میلاد شریف خود بیان فرمایا امام بغوی نے ایک حدیث روایت کی کہ حضور نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیین لکھا ہوا تھا بحالیکہ حضرت آدم کے پتلہ کا خمیر ہورہا تھا میں تمہیں اپنے ابتدائے حال کی خبر دوں میں دعائے ابراہیم ہوں’ بشارت عیسیٰ ہوں’ اپنی والدہ کی اس خواب کی تعبیر ہوں جو انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھی اور ان کے لئے ایک نور ساطع ظاہر ہوا جس سے ملک شام کے ایوان و قصور اُن کے لئے روشن ہوگئے اس حدیث میں دعائے ابراہیم سے یہی دعا مراد ہے جو اس آیت میں مذکور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور آخر زمانہ میں حضور سید انبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا الحمد للہ علیٰ احسانہ (جمل و خازن)

(ف235)

اس کتاب سے قرآن پاک اور اس کی تعلیم سے اس کے حقائق و معانی کا سکھانا مراد ہے۔

(ف236)

حکمت کے معنی میں بہت اقوال ہیں بعض کے نزدیک حکمت سے فقہ مراد ہے’ قتادہ کا قول ہے کہ حکمت سنت کا نام ہے بعض کہتے ہیں کہ حکمت علم احکام کو کہتے ہیں خلاصہ یہ کہ حکمت علم اسرار ہے۔

(ف237)

ستھرا کرنے کے یہ معنی ہیں کہ لوح نفوس وارواح کو کدورات سے پاک کرکے حجاب اٹھاویں اور آئینہ استعداد کی جلا فرما کر انہیں اس قابل کردیں کہ ان میں حقائق کی جلوہ گری ہوسکے ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.