اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

از: محمد خورشید رضا ،گریڈیہ، جھارکھنڈ

ہم خود اپنی بداعمالی سے اسلام کی شبیہ کو خراب کرتےہیں اور مورد الزام دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔ یہ بات بجائے خود درست ہے کہ غیروں نے بھی اسلام کو بے انتہا نقصان نہ صرف پہنچایا بلکہ آج بھی اسی کوشش میں ہیں، لیکن گھر کو آگ گھر کےہی چراغ سے لگی ہے۔ ہم نے شریعت اسلامیہ کو پس پشت ڈال کر اس کو حسب ضرورت استعمال کرنے کی عادت بنا ڈالی، جو چیز طبیعت کو بھا گئی اسے اپنالیا اورجوطبیعت پر بار بنی اسے ترک کر دیا۔

گویا ہم نے اسلام کو طبیعت کے مطابق چلانے کی کوشش کی،جب کہ اسلام طبیعت کے مطابق نہیں بلکہ شریعت کے مطابق ہے. اسلام اپنا ایک مکمل ضابطہ اور دستور حیات رکھتاہےجو ہر اس بشر کے لیے کامیابی کا ضامن ہوتاہے جو اس کے آئین اور نظام پر عمل کرتا ہے۔ جبکہ آج کے دورکے کافی مسلمانوں نے ہوائے نفس پر عمل کیا اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کے باعث ہوئے۔

رفیقان گرامی مرتبت!یہود ونصاریٰ ہمیشہ سے اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن رہے وہ مذ ہب اسلام کی اساس کو خستہ حال اور کمزور کرنے کے لئے نئے نئے منصوبے بناتے رہتے ہیں،وہ مسمانوں کو ذہنی اور نفسیاتی مرض میں مبتلا کرکے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر تےہیں کیوں وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے وجود میں روحانی اور جسمانی دو قسم کی قوتیں کار فرما ہوتی ہیں۔جو انھیں ان کے زہد ورع کی بناپر ہر محاذ میں فتح ونصرت کا علم عطا کرتی ہیں۔

احوال گذشتہ! سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے عہد میں نصاریٰ ہر میدان میں مسلمان نوجوان کے ہاتھوں شکست وریخت سے پریشاں حال تھے۔چنانچہ جب بحر اوقیانوس کے ساحلوں پر مسلم افواج نے صلیبی جنگجوؤں کی لاشوں کے ڈھیر لگا دیےتب صلیبیوں میں بے چینی بڑھ گئی۔ بالآخر صلیبی بادشاہ رونالڈ نے ایک میٹنگ کا انعقاد کیاجس میں ہرمن نامی انٹیلی جنس آفیسر بھی موجود تھا اور اس نے بطور مشیر اور صلاحکار ایک بات کہی تھی”ایک عیاش پسند وجود زندگی کے میدان کبھی بھی بہترین سپاہی نہیں بن سکتا،خصوصاًوہ افراد جو جنسی(sex) معاملات میں زیادہ حساس اور دلچسپی رکھتے ہیں”۔

یہ وہ مشورہ تھا جس نے فحاشی اور عریانیت کو اسلام کےخلاف استعمال کرنے کی ترغیب دی

خیر! یہ تو بارہویں صدی عیسوی کی بات تھی، لیکن حالیہ دور میں مسلمان کہلانے والوں کے کارنامے کچھ اس سے کم نہیں ہیں۔

سائرہ بانونامی عورت کی حرکت سے آپ بخوبی واقف ہوں گےکہ اس نے طلاق ثلاثہ کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کرکے ایسی جگ ہنسائی کا کام کیا جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا کہ اس نے چند سکوں کی خاطر کس طرح ضمیر فروشی کی،باوجودےکہ طلاق ثلاثہ کوئی پرسنل لا (personal law)نہیں بلکہ اسلامک لا (Islamic law) ہے،جسے کسی مسلم پیشوا،اسلامک اسکالر یا مسلم تنظیم کو بھی منسوخ کرنے کا حق نہیں ہے۔تو ہما شما کی کیا مجال۔ حالانکہ اس شقی اور بدبخت عورت نے یہ جرأت کرکےاپنی آخرت کو خراب کیا۔

اب طلاق ثلاثہ کےدو بڑے فریق میں “مسلم پرسنل لا بورڈاورجمیعۃالعلما” کا نام آتاہے۔ جب بورڈ سے طلاق ثلاثہ کے بارے میں پوچھا گیا کہ آیاوہ قرآن سے ثابت ہے یانہیں؟ تو اس نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ طلاق ثلاثہ قرآن سے ثابت نہیں؛ نہ جانے کیوں اس نے اس معاملے میں مبہم پالیسی اپناکر آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا، اسی وجہ سے سپریم کورٹ کے ججز (judges) نے کہا کہ تب تو یہ آستھا(عقیدت)کا معاملہ ہےاور اس پر پابندی عائد کر دی کہ یہ(طلاق ثلاثہ) آئین ہند کے خلاف ہے۔اس فیصلے سےوہ کمیونٹی بہت خوش ہوئی جنھوں نے یہ شازش رچی تھی۔ پورے ملک کے مسلمانوں نے اپنے طور احتجاج درج کرایا جس کا کوئی مستقل حل نہیں نکالا گیا۔ اور وہ محض کف افسوس ملتے رہ گئے۔

یوں ہی آپ ملکی سطح پر طائرانہ نگاہ ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ سیکڑوں کی تعداد میں دہشتگرد تنظیمیں موجود ہیں جو خود کو مسلمانوں سے منسوب کرتی ہیں اور ان کے قائدین نوجوانوں کو تخیلات کی دنیامیں سیر کراتےہیں کہ ان پر جہاد فرض ہے وہ اگر مر گئے تو شہید ہوں گے، ان کا ٹھکانہ جنت اور اس کی نہریں ہوں گی [حالاں کہ وہ سراب محض ہوتاہے]اس زعم میں وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کا خیر خواہ سمجھتے ہوئےخودکش حملے کراتے ہیں۔درحقیقت وہ یہود کے غلام اور فضلہ خوار ہوتے ہیں جسے اسلام اور مسلمانوں سے کوئی ہمدردی نہیں وہ اپنے آقا(یہود)کی کٹھپتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔

ابھی ماضی قریب میں افغان کا سانحہ ہوا جس میں ایک جعلی توحید پرست نے عین اس وقت جب کہ سامعین تلاوت کلام الله سے مسحور ہورہے تھے ،خودکش حملہ کیا، سینکڑوں کی تعداد میں عاشقان رسول الله صلی الله علیہ وسلم خاک و خون میں تڑپنے لگے۔

قائدین،علما اور دانشور حضرات حساس ہوکر معاشرے کے سامنے اسلام کا وہ رخ پیش کریں جو امن،چین اور شانتی کا درس دیتاہے، ان معاملوں میں صحیح اسلامی تعلیم و تربیت کا خاصہ دخل ہے۔جن کے فقدان کی وجہ سے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے گھروں میں اسلامی ماحول پیدا کریں تاکہ بچہ نو عمری میں ہی اسلامی تہذیب و ثقافت کے رنگ میں رنگ جائیں اورملک و ملت کےلیےباعث افتخارہوں۔

پرور دگار عالم! ہم مسلمانوں کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرما۔

(آمین یارب العالمین)

میرے جلتے مکاں کو کیا معلوم

میرے اپنے چراغ مجرم ہیں۔