وَ مَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهٗ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 110

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ مَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهٗ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ۞

ترجمہ:

اور جو شخص کوئی برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان پائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جو شخص کوئی برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان پائے گا۔ (النساء : ١١٠) 

جن لوگوں نے ایک بےقصور شخص پر تہمت لگائی تھی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انکو اس گناہ پر توبہ اور استغفار کرنے کی ترغیب دی ہے ‘ برا کام کرنے سے مراد ایسا فعل ہے جیسے طعمہ نے کیا تھا اور اس کی تہمت ایک یہودی پر لگا دی ‘ یعنی ایسی برائی جس کا ضرر دوسروں کو پہنچے ‘ اور اپنی جان پر ظلم کرنے سے مراد ایسا گناہ ہے جس کا اثر صرف اس گناہ کرنے والے تک محدود رہے۔ 

اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کے گناہ پر توبہ مقبول ہوجاتی ہے ‘ خواہ کفر ہو ‘ قتل عمد ہو ‘ غصب اور سرقہ یا کسی پر تہمت لگانا ہو ‘ اللہ تعالیٰ منافقوں کو توبہ کی ترغیب دی اگر یہ سچے دل سے نادم ہو کر اخلاص سے توبہ اور استغفار کرتے اور اپنی اصلاح کرلیتے تو اللہ کو بہت بخشنے والا اور مہربان پاتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 110

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.