🌹 *أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق*_ *کی تخریج*🌹

✨✨✨✨

حضرت!

“افضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق”

یہ 🌹 *أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق*_ *کی تخریج*🌹

✨✨✨✨

حضرت!

“افضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق”

یہ حدیث کے الفاظ ہیں؟

یا ائمہ کرام کے ہیں؟

مع حوالہ تحریر فرمائیں

بہت سخت ضرورت ہے. تھوڑا جلدی کریں.

منتظر : محمد کریم اللہ رضوی.(استاذ ومفتی: دارالعلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی)

✨✨✨✨

الجواب : *أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق* خاص یہ جملہ کلمۂ حدیث نہیں ہے، بلکہ متعدد احادیث کریمہ، اور اقوالِ فقہا و متکلمین کا خلاصہ ہے. اور اہل سنت وجماعت کے اجماعی عقیدہ : أفضلیت صدیق اکبر رضی اللہ کی ترجمانی پر مشتمل مختصر سا جملہ ہے. جسے دنیا کے مختلف خطوں میں نماز جمعہ سے قبل ہونے والے خطبۂ متوارثہ میں بالالتزام پڑھا جاتا ہے.

دراصل جس طرح نبی کریم ﷺ تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر فضیلت رکھتے ہیں، یوں ہی آپ کی امت کو سابقہ تمام امتوں پر فضیلت کا شرف حاصل ہے. پھر تمام امت محمدیہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سب سے افضل قرار پائے، پھر حضرات صحابۂ کرام میں وہ مہاجرین جنھیں سابقین اولین ہونے کا شرف حاصل ہے. پھر ان میں بھی وہ دس خوش نصیب حضرات جنھوں نے زبانِ رسالت مآب ﷺ سے دنیا ہی میں جنتی ہونے کا مژدہ پایا، پھر ان عشرۂ مبشرہ میں حضرات خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو تمام پر فضیلت حاصل ہے. اور ان چار یاروں میں بھی یارغار حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو تمام پر فضیلت حاصل ہے. یہ باتیں مستحکم دلائل پر مبنی ہیں. تفصیل کے لیے متعلقہ کتب کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے. *أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق* اسی عقیدۂ اہل سنت کو مختصر لفظوں میں بیان کردیتا ہے.

اس اجمال کی کچھ تفصیل یوں ہے :

💎 *أفضلیت صدیق اکبر _ حدیث کی روشنی میں*

⚡ حضرت عمرو بن العاص رضي الله عنه سے روایت ہے کہ جب انھوں نے نبی کریم ﷺ سے استفسار کیا کہ : آپ کے نزدیک مردوں میں سب زیادہ محبوب کون ہے؟ إرشاد فرمایا : أبوبکر. حدیث کے الفاظ ہیں :

أن النبي صلى الله عليه وسلم بعثه على جيش ذات السلاسل فأتيته فقلت: *أي الناس أحب إليك؟* قال: “عائشة” فقلت من *الرجال؟ قال: “أبوها”* قلت ثم من؟ قال: ” ثم عمر بن الخطاب” فعد رجالاً .[رواہ الشیخان]

⚡️ حضرت عائشة رضي الله عنها کی روایت ہے کہ سقيفۂ بنی ساعدہ کے موقع پر امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا : *آپ ہمارے سردار، ہم میں سب سے بہتر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب زیادہ محبوب ہیں* یہ ایک طویل حدیث ہے جس کے بعض الفاظ ہیں :

وفيه أن أبا بكر قال للأنصار: ( ولكنا الأمراء وأنتم الوزراء هم أوسط العرب دارا، وأعربهم أحسانا، فبايعوا عمر بن الخطاب أو أبا عبيدة بن الجراح فقال عمر بل نبايعك أنت *فأنت سيدنا وخيرنا وأحبنا إلى رسول الله* صلى الله عليه وسلم فأخذ عمر بيده فبايعه وبايعه الناس (رواہ البخاری ) .

✨ چوتھے خلیفۂ راشد باب العلم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب ان کے صاحبزادے حضرت محمد بن الحنفیہ نے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد لوگوں میں کون سب سے بہتر ہے.؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : *ابوبکر*

حدیث کے متعلقہ الفاظ ہیں :

محمد بن الحنفية قال: *قلت: لأبي: أي الناس خير بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أبو بكر* قلت: ثم من؟ قال: عمر .(رواہ البخاری )

✨ مسند احمد بن حنبل میں ہے کہ حضرت علي رضي الله عنه نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق ہیں. حدیث کے الفاظ ہیں :

عن علی رضی اللہ عنه أنه قال لأبي جحيفة: يا أبا جحيفة ألا أخبرك بأفضل هذه الأمة بعد نبيها قال: قلت: بلى ولم أكن أرى أن أحدا أفضل منه قال: *أفضل هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر* وبعد أبي بكر عمر وبعدهما آخر ثالث ولم يسمه .(روى الإمام أحمد بإسناده)

اس بیان کی مزید متعدد روایتیں ہیں. اختصار کے پیش نظر صرف نظر کیا جاتا ہے.

💎 *أفضلیت صدیق اکبر = صراحت فقہا و متکلمین کی روشنی میں*

🌻 امام أبو حنيفة نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ:

ونقر بأن أفضل هذه الأمة بعد نبيها محمد عليه أفضل الصلاة والسلام أبو بكر ثم عمر ثم عثمان، ثم عليّ رضي الله عنهم أجمعين. ( شرح الفقه الأكبر ص 108 )

🌻 إمام مالك بن أنس رضی اللہ عنہ :

أنه قال لما سأله الرشيد عن منزلة الشيخين من النبي صلى الله عليه وسلم فقال: *منزلتهما منه في حياته كمنزلتهما منه بعد مماته* ـ ثم قال ـ وكثرة الاختصاص والصحبة مع كمال المودة والائتلاف والمحبة والمشاركة في العلم يقضي بأنهما أحق من غيرهما وهذا ظاهر بين لمن له خبرة بأحوال القوم (مجموع الفتاوى، 4 / 304 )

🌻 امام محمد بن إدريس الشافعي :

أفضل الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أبو بكر، ثم عمر، ثم عثمان، ثم علي رضي الله عنهم

امام شافعی ہی کا یہ فرمان بھی ہے :

اضطر الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أبي بكر فلم يجدوا تحت أديم السماء خيراً من أبي بكر من أجل ذلك استعملوه على رقاب الناس (مناقب الشافعی ، 1 / 433 – 434) .

🌻 إمام أحمد بن حنبل رحمة الله عليه:

وخير الأمة بعد النبي صلى الله عليه وسلم أبو بكر، وعمر بعد أبي بكر، وعثمان بعد عمر، وعلي بعد عثمان ووقف قوم على عثمان وهم خلفاء راشدون مهديون (طبقات الحنابلة لابن رجب، 1 / 30) .

انہی سے یہ بھی منقول ہے :

خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر الصديق (مناقب الإمام أحمد لابن الجوزي،1 / 160)

🌻 علامہ شمس الدین الذهبي رحمۃ اللہ علیہ :

أفضل الأمة وخليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم ومؤنسه في الغار وصديقه الأكبر … عبد الله بن أبي قحافة عثمان القرشي التيمی( تذكرة الحفاظ، 1 / 2)

🌻- امام ابن بطة عكبري فرماتے ہیں :حافظ

وھی الإيمان والمعرفة بأن خير الخلق وأفضلهم وأعظمهم منزلة عند الله ـ عز وجل ـ بعد النبيين والمرسلين أبو بكر الصديق عبد الله بن عثمان بن أبي قحافة رضي الله عنه. (الشرح والإبانة على أصول السنة والديانة ص 257) .

💎 *افضلیت صدیق اکبر = اجماعِ امت کی روشنی میں*

🌻 امام شافعي فرماتے ہیں :

ما اختلف أحد من الصحابة والتابعين في تفضيل أبي بكر وعمر وتقديمهما على جميع الصحابة وإنما اختلف من اختلف منهم في عليّ وعثمان ونحن لا نخطئ واحداً من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما فعلوا( كتاب الاعتقاد للبيهقي ص 192)

🌻 شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

( ونقل البيهقي في [ الاعتقاد ] بسنده إلى أبي ثور عن الشافعي أنه قال: أجمع الصحابة وأتباعهم على أفضلية أبي بكر، ثم عمر ثم عثمان، ثم عليّ (فتح الباري 7 / 17) .

🌻 امام نووي شافعی رحمه الله تعالى رقم طراز ہیں :

اتفق أهل السنة على أن أفضلهم أبو بكر ثم عمر (شرح النووي على صحيح مسلم 15 / 148 ) .

🌻 علامہ ابن حجر الهيثمي لکھتے ہیں :

( واعلم أن الذي أطبق عليه عظماء الملة وعلماء الأمة أن أفضل هذه الأمة أبو بكر الصديق ثم عمر رضي الله عنهما. (الصواعق المحرقة في الرد على أهل البدع والزندقة ص 57)

💎 *خلاصۂ بحث:* ✨ حدیث : *أي الناس أحب إليك من الرجال ؟ قال : أبوها*(بخاری ومسلم) ✨ فرمان حضرت عمر : *فأنت سیدنا، وخيرنا، وأحبنا إلى رسول اللهﷺ* (بخاری) ✨ فرمان حضرت علی *أفضل ھذہ الأمة بعد نبيها أبوبكر*(مسند احمد) جیسی کثیر احادیث اجماع امت، اقوالِ فقہا و متکلمین اور صراحتِ محدثین کی روشنی میں *أفضل البشر بعد الأنبياء* کہا جاتا ہے. اور *بالتحقيق* سے اشارہ یہ ہے کہ یہ لقب تحقیق سے ثابت شدہ ہے. خاص اس کلمہ *أفضل البشر بعد الأنبياء بالتحقيق* سے تو احادیث وارد نہیں، البتہ اس کے ہم معنی بلکہ قریب قریب الفاظ حدیث میں موجود ہیں.

برصغیر میں رائج خطبۂ جمعہ کی مشہور کتاب *خطب علمی*(از: مولوی حسن علمی بریلوی) میں جگہ جگہ یہ جملہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے نام سے قبل درج ہے. واللہ تعالٰی اعلم.

واللہ تعالٰی اعلم.

✍️فیضان سرورمصباحی

٤/مارچ ٢٠١٩