أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا خَيۡرَ فِىۡ كَثِيۡرٍ مِّنۡ نَّجۡوٰٮهُمۡ اِلَّا مَنۡ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوۡ مَعۡرُوۡفٍ اَوۡ اِصۡلَاحٍۢ بَيۡنَ النَّاسِ‌ ؕ وَمَن يَّفۡعَلۡ ذٰ لِكَ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ فَسَوۡفَ نُـؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞

ترجمہ:

ان کے اکثر پوشیدہ مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں ہے سوا اس شخص کے جو صدقہ دینے کا حکم دے یا نیکی کرنے کا حکم دے یا لوگوں میں صلح کرانے کا اور جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے یہ کام کرے تو عنقریب ہم اس کو اجر عظیم عطا فرمائیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ان کے اکثر پوشیدہ مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں ہے سوا اس شخص کے جو صدقہ دینے کا حکم دے یا نیکی کرنے کا حکم دے یا لوگوں میں صلح کرانے کا اور جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے یہ کام کرے تو عنقریب ہم اس کو اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔ (النساء : ١١٤) 

دو آدمی آپس میں جو سرگوشی کرتے ہیں اس کو عربی میں نجوی کہتے ہیں ‘ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے منافقین کے متعلق فرمایا وہ رات کو ایسی بات کرتے ہیں جو اللہ ناپسند کرتا ہے ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کو بیان فرمایا ہے جو اللہ کو پسند ہیں ‘ اور وہ ہیں صدقہ و خیرات کا حکم دینا ‘ نیکی کا حکم دینا اور لوگوں میں صلح کرانا ‘ صدقہ اور خیرات کرنا جسمانی نیکی ہے ‘ نیکی کا حکم دینا روحانی نیکی ہے اور ان دونوں نیکیوں سے جلب منفعت ہوتی ہے اور لوگوں میں صلح کرانی سے ضرر اور نقصان دور ہوتا ہے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت ام المومنین ام حبیبہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابن آدم کا کوئی کلام اس کے لیے نفع بخش نہیں ہے ‘ سوا اس کے کہ اس نے نیکی کا حکم دیا ہو یا برائی سے روکا ہو یا اللہ کا ذکر کیا ہو۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٢٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٧٤)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 114