حدیث نمبر :368

روایت ہے حضرت ابوامامہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس جبرئیل علیہ السلام جب بھی آئے ۱؎ تو مجھ سے مسواک کرنے کو کہا میں ڈرا کہ کہیں اپنے منہ کے اگلے حصہ کو چھیل ڈالوں۲؎۔(احمد)

شرح

۱؎ سنتوں کی تعلیم دینے کے لئے یعنی جو سنت بتائی مسواک ساتھ میں عرض کی،لہذا حدیث میں یہ اعتراض نہیں کہ ہر آیت قرآنی کے ساتھ بھی مسواک کا حکم آیا۔خیال رہے کہ حکم دینے والا اﷲ تعالٰی ہے۔جبرئیل امین پہنچانے والے ہیں یہاں حکم کی نسبت سبب کی طرف ہے اوریہ حکم استحبابی ہے لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ مسواک فرض ہو۔

۲؎ کہ اتنی زیادہ مسواک کرو جن سے مسوڑے چھل جائیں ان کے باربار عرض کی وجہ سے۔