وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ وَرَحۡمَتُهٗ لَهَمَّتۡ طَّآئِفَةٌ مِّنۡهُمۡ اَنۡ يُّضِلُّوۡكَ ؕ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ‌ وَمَا يَضُرُّوۡنَكَ مِنۡ شَىۡءٍ ‌ؕ وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمۡ تَكُنۡ تَعۡلَمُ‌ؕ وَكَانَ فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ عَظِيۡمًا ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 113

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ وَرَحۡمَتُهٗ لَهَمَّتۡ طَّآئِفَةٌ مِّنۡهُمۡ اَنۡ يُّضِلُّوۡكَ ؕ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ‌ وَمَا يَضُرُّوۡنَكَ مِنۡ شَىۡءٍ ‌ؕ وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمۡ تَكُنۡ تَعۡلَمُ‌ؕ وَكَانَ فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ عَظِيۡمًا ۞

ترجمہ:

اور (اے رسول مکرم) اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان (منافقین) کی ایک جماعت ضرور آپ کو گمراہ کرنے کا قصد کرلیتی ‘ اور وہ صرف اپنے آپ کو گمراہ کر رہے ہیں اور وہ آپ کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکیں گے اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور آپ کو ان تمام چیزوں کا علم عطا فرما دیا ہے جن کو آپ (پہلے) نہیں جانتے تھے اور اللہ کا آپ پر فضل عظیم ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور (اے رسول مکرم) اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان (منافقین) کی ایک جماعت ضرور آپ کو گمراہ کرنے کا قصد کرلیتی ‘ اور وہ صرف اپنے آپ کو گمراہ کر رہے ہیں اور وہ آپ کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکیں گے۔ (النساء : ١١٣) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر اللہ اپنے فضل اور اپنی رحمت سے آپ پر وحی نازل فرما کر آپ کو اصل واقعہ سے مطلع نہ فرماتا اور آپ پر غیب کو منکشف نہ کرتا اور یہ نہ بتاتا کہ اصل مجرم طعمہ یا بشیر بن ابیرق منافق ہے اور جس یہودی یا مسلمان پر ان منافقوں نے خیانت یا چوری کی تہمت لگائی ہے وہ اس تہمت سے بری ہے ‘ تو یہ منافق ضرور اس بات کا قصد کرلیتے کہ آپ پر اصل مجرم کو ملتبس اور مشتبہ کردیں گے ‘ اور جو یہودی یا مسلمان بےقصور ہے اس کو آپ کی نظر میں مجرم اور خائن ٹھیرا دیں گے ‘ اور اپنے منافق ساتھیوں کو خیانت سے بری کرا لیں گے لیکن اپنی اس نامشکور سعی میں یہ خود ہی گمراہی میں پڑگئے ‘ انہوں نے ایک شخص کا مال چرایا اس میں خیانت کی پھر اس برائی پر مزید برائی یہ کی کہ اپنی اس خیانت کا بہتان ایک بےقصور شخص پر باندھا ‘ اور انہوں نے اصل صورتحال کو آپ پر مشتبہ بنانے کا جو منصوبہ بنایا تھا اس سے وہ آپ کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ اصل صورت واقعہ سے آپ کو مطلع فرما دیا اور غیب آپ پر منکشف کردیا۔ نیز فرمایا : 

اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور آپ کو ان تمام چیزوں کا علم عطا فرما دیا ہے جن کو آپ (پہلے) نہیں جانتے تھے اور اللہ کا آپ پر فضل عظیم ہے (النساء : ١١٣) 

ماکان ومایکون کا علم :

امام ابن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا بیان ہے ‘ ہدایت اور نصیحت ہے اور آپ پر حکمت نازل کی ہے ‘ 

حکمت سے مراد یہ ہے کہ حلال ‘ حرام ‘ حرام ‘ امر ‘ نہی ‘ دیگر احکام ‘ وعد ‘ وعید اور ماضی اور مستقبل کی خبریں ‘ ان چیزوں کا کتاب میں اجمالا ‘ ذکر کیا گیا ہے اور ان تمام چیزوں کی تفصیل ہم نے وحی خفی کے ذریعہ آپ پر نازل کی ہے اور یہی حکمت کو نازل کرنے کا معنی ہے اور جن تمام چیزوں کو آپ پہلے نہیں جانتے تھے ہم نے ان سب کا علم آپ کو عطا فرما دیا ‘ اس کا معنی ہے تمام اولین اور آخرین کی خبریں اور ماکان وما یکون پر آپ کو مطلع فرما دیا 

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

اس آیت کے دو محمل ہیں ‘ ایک محمل یہ ہے کہ : اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت کو نازل کیا اور آپ کو کتاب کے اسرار پر مطلع فرمایا اور ان کے حقائق سے واقف کیا جب کہ اس سے پہلے آپ کو ان میں سے کسی چیز کا علم نہیں تھا ‘ اسی طرح اللہ آپ کو مستقبل میں بھی علم عطا فرمائے گا اور منافقین میں سے کوئی شخص آپ کو گمراہ کرنے اور بہکانے پر قادر نہیں ہوسکے گا۔ 

اور اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام اولین کی خبروں کا علم عطا فرمایا ‘ اسی طرح اللہ آپ کو منافقین کے مکر اور ان کے حیلوں کی خبر دے گا ‘ پھر فرمایا یہ آپ پر اللہ کا فضل عظیم ہے ‘ یہاں غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو جو عطا فرمایا اس کے متعلق ارشاد فرمایا : (آیت) ” وما اوتیتم من العلم الا قلیلا “ (الاسراء : ٨٥) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو قلیل فرمایا : (آیت) ” قل متاع الدنیا قلیل “َ (النساء : ٧٧) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو کچھ دیا اس کے متعلق فرمایا : (آیت) ” وکان فضل اللہ علیک عظیما “۔ سو جس کے سامنے ساری دنیا کا علم اور خود ساری دنیا قلیل ہے تو جس کے علم کو وہ عظیم کہہ دے اس کی عظمتوں کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ١١٢‘ البحرالمحیط ج ٤ ص ٦٢‘ روح المعانی ج ٥ ص ١٤٤) 

علامہ ابوالفرج عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : 

اس آیت میں کتاب سے مراد قرآن ہے اور حکمت کے متعلق تین قول ہیں۔ 

(١) حضرت ان عباس (رض) کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وحی کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ 

(٢) مقاتل نے کہا اس سے مراد حلال اور حرام کا علم ہے۔ 

(٣) ابو سلیمان ومشقی نے کہا اس سے مراد کتاب کے معنی کا بیان اور دل میں صحیح اور نیک بات کا القا کرنا ہے۔

اور علمک مالم تکن تعلم کی تفسیر میں بھی تین قول ہیں : 

(١) حضرت ابن عباس (رض) اور مقاتل نے کہا اس سے مراد شریعت ہے۔ 

(٢) ابو سلیمان نے کہا اس سے مراد اولین اور آخرین کی خبریں ہیں۔ 

(٣) اور ماوردی نے کہا اس سے مراد کتاب اور حکمت ہے ‘۔ 

اور (آیت) ” وکان فضل اللہ علیک عظیما “ کی تفسیر میں بھی تین قول ہیں : 

(١) ایمان عطا کرنے کا احسان۔ 

(٢) نبوت عطا کرنے کا احسان ‘ یہ دونوں حضرت ابن عباس (رض) کے قول ہیں۔ 

(٣) ابو سلیمان دمشقی نے کہا اس سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام فضائل اور آپ کے تمام خصائص ہیں۔ (زادالمیسر ج ٢ ص ١٩٧‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

ماکان وما یکون “ کے علم کے متعلق احادیث : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمرو بن اخطب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہو کر ہمیں خطبہ دیا حتی کہ ظہر کا وقت آگیا ‘ پھر آپ منبر سے اترے اور ظہر کی نماز پڑھائی ‘ آپ نے پھر منبر کو زینت بخشی اور ہمیں خطبہ دیا حتی کہ سورج غروب ہوگیا ‘ پھر آپ نے ہمیں ماکان وما یکون کی خبر دی سو ہم میں جس کا حافظہ زیادہ تھا اس کا علم زیادہ تھا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٨٩٢) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج رات میرا رب تبارک وتعالیٰ میرے پاس بہت حسین صورت میں آیا ‘ یعنی خواب میں ‘ اس نے کہا یا محمد ! کیا تم جانتے ہو کہ مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کر رہے ہیں میں نے کہا نہیں ‘ آپ نے کہا پھر اللہ نے اپنا ہاتھ میرے دو کندھوں کے درمیان رکھ دیا حتی کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینہ کے درمیان محسوس کی ‘ سو میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد ! کیا تم جانتے ہو کہ مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کر رہے ہیں۔ میں نے کہا ہاں کفارات میں۔ الحدیث : (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٤٤‘ مسند احمد ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٣٤٨٤‘ مسند ابو یعلی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٠٨‘ الشریعہ الآجری ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٩٦) 

امام ترمذی نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ روایت کیا ہے اس میں یہ الفاظ ہیں : پس میں نے جان لیا جو کچھ مشرق اور مغرب کے درمیان۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٤٥) 

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز پڑھانے کے لیے آنے میں دیر کردی حتی کہ سورج نکلنے کے قریب ہوگیا ‘ پھر آپ نے جلدی جلدی نماز پڑھائی پھر سلام پھیرنے کے بعد آپ نے بہ آواز بلند فرمایا تم جس طرح بیٹھے ہو اپنی اپنی صفوں پر بیٹھے رہو ‘ پھر آپ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : میں عنقریب تم سے بیان کروں گا کہ مجھے صبح آنے میں تاخیر کیوں ہوگئی ‘ آپ نے فرمایا میں رات کو اٹھا اور میں نے وضوء کر کے اتنی نماز پڑھی جتنی میرے لیے مقدر کی گئی تھی ‘ پھر مجھے نماز میں نیند آگئی اچانک میں نے اپنے رب تبارک وتعالیٰ کو نہایت حسین صورت میں دیکھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے محمد ! میں نے کہا اے میرے رب لبیک ‘ فرمایا مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا اے میرے رب مجھے (از خود) علم نہیں ‘ یہ مکالمہ تین بار ہوا ‘ پھر میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو کندھوں کے درمیان رکھ دیا اور میں نے اس کی پورروں کی ٹھنڈک اپنے سینہ میں محسوس کی ‘ پھر ہر چیز مجھ پر منکشف ہوگئی اور میں نے جان لیا۔ الحدیث : امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے ‘ میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ‘: ٣٢٤٦‘ مسند احمد ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٧٠) 

حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی متوفی ٨٠٧ ھ بیان کرتے ہیں : 

حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ عزوجل نے دنیا کو میرے لیے اٹھا لیا میں دنیا کی طرف اور جو کچھ قیامت تک دنیا میں ہونے والا ہے ‘ اس کی طرف دیکھ رہا ہوں ‘ جس طرح میں اپنی ان دو ہتھیلیوں کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ الحدیث اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور ضعف کثیر کے باوجود اس کے راویوں کی توثیق کی گئی ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٨٧‘ حلیۃ الاولیاء : ج ٦ ص ١٠١)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 113

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.