امام یحیی بن معین

امام یحیی بن معین

فن رجال کے امام الائمہ یحی بن معین کے والد معین عظیم سرمایہ کے مالک تھے ۔انتقال کے وقت انہوں نے دس لاکھ پچاس ہزار درہم صاحبزادے کیلئے چھوڑے ۔اس زمانے کے لحاظ سے اتنی کثیر رقم کا اندازہ آپ خود کیجئے ،لیکن آپ نے اس سرمایہ کو اپنے عیش وآرام میں خرچ نہ کیا ،کسی شہر کا رئیس بنکر مرجانا انکو پسند نہیں تھا بلکہ یہ ساری دولت اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث کے حصول اور موضوع روایات کوچھانٹ چھانٹ کرعلیحدہ کرنے میں خرچ کرڈالی ۔ نوبت بایں جارسید کہ

خطیب بغدادی لکھتے ہیں :۔

فانفقہ کلہ علی الحدیث حتی لم یبق لہ نعل یلبسہ۔ (تاریخ بغداد للخطیب، ۱۴/۱۷۸)

ساڑھے دس لاکھ درہم آپ نے علم حدیث کے حصول میں خرچ کردئیے ،آخر میں چپل تک باقی نہ رہی ۔

امام حاکم نے آپ کے علم حدیث کونکھار نے کے تعلق سے ایک واقعہ لکھا ہے کہ

امام احمد بن حنبل نے بیان فرمایا: ہم جس زمانہ میں صنعاء یمن میں حدیث پڑھنے کیلئے مشغول تھے اورمیرے ساتھیوں میں یحی بن معین بھی تھے ۔ایک دن میں نے دیکھا کہ آپ ایک گوشہ میں بیٹھے ہوئے کچھ لکھ رہے ہیں ۔کوئی شخص اگر سامنے آتا ہے تو اسکو چھپا لیتے ہیں ، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت انس بن مالک کی طرف منسوب ’ابان ‘ کی روایت سے جو جعلی مجموعہ پایا جاتاہے اسکو نقل کررہے ہیں ۔ میں نے کہا: تم ان غلط اورجھوٹی روایات کونقل کرنے میں لگے ہو، اس وقت آپ نے جواب میں کہا:۔

میں اسی لئے تولکھ رہاہوں کہ انکو زبانی یاد کرلوں ،مجھے معلوم ہے کہ یہ سب موضوع روایات ہیں ،میری غرض اس سے یہ ہے کہ آئندہ کوئی روایات میں ’ابان ‘ کی جگہ کسی ثقہ راوی کانام لیکر غلط فہمی پھیلانا چاہے گا تومیں اس راز کوفاش کردونگا ۔پھر فرماتے ہیں: ۔

میں نے دروغ گو راویوں سے ایک بڑا ذخیرہ جمع کیا ،اسکے بعدمیں نے اپنا تنور گرم کیا اورنہایت عمدہ پکی ہوئی روٹیاں اس سے تیار ہوئیں ۔(معرفۃ علوم الحدیث للحاکم، ۶۰)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.