أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًاۢ بَعِيۡدًا ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ اس کو نہیں معاف کرے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو گناہ اس سے کم ہوگا اس کو جس کے لیے چاہیے گا بخش دے گا اور جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنایا تو بلاشبہ وہ گمراہی میں مبتلا ہو کو بہت دور جاپڑا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک اللہ اس کو نہیں معاف کرے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو گناہ اس سے کم ہوگا اس کو جس کے لیے چاہیے گا بخش دے گا۔ (النساء : ١١٦) 

یہ آیت اس سے پہلے النساء : ٤٨ میں بھی گزر چکی ہے ‘ یہاں اس آیت کو اللہ تعالیٰ نے دوبارہ ذکر فرمایا ہے ‘ کیونکہ قرآن مجید میں عمومات وعد اور عمومات وعید کا بار بار ذکر کیا گیا ہے ‘ اس سے پہلی آیات میں زرہ چوری کرنے والے منافق کے متعلق آیات وعید ذکر فرمائی تھیں ‘ اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اگر وہ شرک نہ کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 116