أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنۡ يَّدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰـثًـا‌ ۚ وَاِنۡ يَّدۡعُوۡنَ اِلَّا شَيۡـطٰنًا مَّرِيۡدًا ۞

ترجمہ:

یہ (مشرک) اللہ کے سوا صرف عورتوں کی عبادت کرتے ہیں اور یہ صرف سرکش شیطان ہی کی عبادت کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یہ (مشرک) اللہ کے سوا صرف عورتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ (النساء : ١١٧) 

مشرکین کے بتوں کا مونث ہونا : 

اللہ تعالیٰ نے ان کے بتوں کو مونث فرمایا ہے کیونکہ یہ خود اپنے بتوں کو مونث کہتے تھے ‘ ابو مالک نے کہا کہ لات ‘ منات اور عزی سب مونث ہیں ‘ ابن زید نے کہا لات ‘ عزی ‘ سیاف اور نائلہ جن بتوں کی وہ عبادت کرتے تھے وہ مونث ہیں ‘ ضحاک نے اس کی تفسیر میں کہا وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے ‘ اور بعض نے یہ کہا کہ وہ اپنے بتوں کا نام مونث رکھتے ‘ اس لیے اللہ نے فرمایا کہ یہ اللہ کے سوا صرف عورتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ (جامع البیان ج ٤ ص ٣٧٨۔ ٣٧٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یہ صرف سرکش شیطان ہی کی عبادت کرتے ہیں ‘ بظاہر یہ حصر پہلے حصر کی مخالف ہے کیونکہ پہلے فرمایا تھا یہ صرف عورتوں کی عبادت کرتے ہیں لیکن یہ دوسرا حصر اس لیے فرمایا کہ ان بتوں کی عبادت کا حکم ان کو شیطان ہی دیتا تھا ‘ اور یہ اس کی اطاعت میں بتوں کی عبادت کرتے تھے ‘ گویا پہلا حصر حقیقت پر محمول ہے اور دوسرا مجاز پر ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ دوسرے حصر میں عبادت ‘ بمعنی اطاعت ہے اس لیے کوئی تعارض نہیں ہے ‘ امام ابن ابی حاتم نے سفیان سے روایت کیا ہے کہ ہر بت میں ایک شیطان تھا ‘ اور مقاتل سے مروی ہے کہ شیطان سے مراد ابلیس ہے ‘ کیونکہ اس کے بعد والی آیت میں جو شیطان کا قول مذکور ہے وہ ابلیس ہی کا قول ہے اور مرید کا معنی ہے جو بہت زیادہ نافرمانی کرتاہو اور اطاعت سے مکمل خارج ہو ‘ مارد اور متمرد کا بھی یہی معنی ہے۔ (رض) اجمعین

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 117