حدیث نمبر :372

روایت ہے ابو سلمہ سے ۱؎ وہ زید ابن خالد جہنی سے ۲؎ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اگر میں اپنی امت پر بھاری نہ جانتا تو انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا اورنمازعشاءکو تہائی رات تک پیچھے ہٹا دیتا ۳؎ فرماتے ہیں کہ زید ابن خالد مسجد میں نماز کے لیئے یوں آتے تھے کہ ان کی مسواک ان کے کان پر ہوتی۔جیسے منشی کے کان میں قلم جب بھی نماز کو کھڑے ہوتے تو مسواک کرلیتے پھر وہاں ہی مسواک رکھ لیتے۴؎ اسے ترمذی و ابوداؤد نے روایت کیا مگر ابوداؤد نے لَاَخَّرْتُ کا ذکر نہ کیا ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

شرح

۱؎ آپ کا نام عبداﷲ ابن عبدالرحمن بن عوف ہے،قرشی زہری ہیں،مدینۂ منورہ کے سات مشہور فقہاء میں سے ہیں،عظیم الشان تابعی ہیں،۷۲ سال عمر پائی، ۹۷ھ ؁میں وفات ہوئی۔

۲؎ مشہور صحابی ہیں،عبدالملک ابن مر وان کے زمانہ میں ۷۸ھ؁ مقام کوفہ میں فوت ہوئے۔(مرقاۃ واشعہ)

۳؎ یعنی یہ دونوں چیزیں فرض کردیتا کہ بغیر مسواک نماز ہی نہ ہوتی اور تہائی رات سے پہلے نماز عشاءناجائز ہوتی۔معلوم ہوا کہ اﷲ تعالٰی نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مالک احکام بنایا ہے کہ چاہیں فرض کریں چاہیں نہ کریں۔

۴؎ یہ حضرت زید ابن خالد کا اپنا اجتہاد تھا۔ان کے سوا کسی صحابی نے بلکہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کبھی نہ کیا۔حضرت زید”کُلِّ صَلوٰۃٍ”سے ہر نماز سمجھے حالانکہ وہاں نماز کا وضو مراد ہے،جیسا کہ ہم شروع میں تحقیقًا عرض کرچکے ہیں۔یہ عمل ایسا ہی ہے جیسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ زیور کی حدیث سن کر وضو میں بغل تک ہاتھ دھوتے تھے۔لہذا یہ عمل قابلِ تقلید نہیں۔میں نے کویت میں بعض شوافع کو دیکھا کہ ان کے گلے میں مسواک پڑی رہتی ہے،ہر نماز کی نیت پر مسواک کرتے جاتے تھے،حالانکہ مسواک کا کھڑا کرکے رکھنا سنت ہے۔غالب یہ ہے کہ حضرت زید نے”کُلِّ صَلوٰۃٍ”سے ہروقت کی نمازسمجھا نہ کہ ہر نماز،لہذا آپ ایک وقت کی ساری نماز کے لئے ایک دفعہ مسواک کرلیتے تھے۔مگر کویت کے وہ حضرات اور آگے بڑھ گئے کہ ہر نماز کے لیے کئی کئی بار مسواک کرنے لگے۔اﷲ تعالٰی حدیث کی صحیح سمجھ نصیب فرمائے۔آمین !