باب سنن الوضوء

باب وضوء کی سنتیں ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ سنن سنت کی جمع ہے۔سنت کے لغوی معنی ہیں طریقہ،اور روش،رب فرماتا ہے:”سُنَّۃَ مَنۡ قَدْ اَرْسَلْنَا” اور فرماتا ہے:”سُنَنَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِکُمْ”۔شریعت میں سنت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ فرمان ہیں جو کتاب اﷲ میں مذکور نہیں اور حضور کے وہ اعمال جو امت کے لیے لائق عمل ہیں۔لہذا منسوخ اور مخصوص اعمال سنت نہیں،جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عادۃً کیا وہ سنت زائدہ ہے،اور جسے عبادۃً کیا وہ سنت ھدی ٰمیں سے ہے،جسے ہمیشہ کیا وہ سنت مؤکدہ،جسے کبھی کبھی کیا ہو سنت غیرمؤکدہ،اور اگر ہمیشہ کرکے تاکیدی حکم بھی دیا تو واجب۔خیال رہے کہ وضو میں فرائض،سنتیں،مستحبات تو ہیں واجب کوئی نہیں۔

حدیث نمبر :373

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سےکوئی نیندسےجاگے تو برتن میں اپنا ہاتھ نہ ڈالے تاآنکہ تین بار دھولے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ کہاں رہا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ اہل عرب تہبند باندھتے تھے اور بارہا پیشاب کا استنجا صرف ڈھیلے سے کرکے سوجاتے تھے۔حدیث کا مطلب یہ کہ چونکہ لوگوں کا عمل یہ ہے تو ہوسکتا ہے کہ سوتے میں ہاتھ،یا مقام استنجاء کو پسینہ آیا ہو،تہبند کھل گیا ہو اور تمہارا ہاتھ و ہاں لگ گیا ہو جہاں پیشاب ڈھیلے سے خشک کیا گیا تھا،اور پسینہ کی وجہ سے ناپاک ہوگیا ہو،اب اگر تم مٹکے یا ناند میں اپنا ہاتھ ڈال دو گے تو پانی نجس ہوجائے گا۔لہذا پہلے کلائیوں تک تین بار ہاتھ دھولو۔اس حدیث کی بناء پر علماء کا بڑا اختلاف ہے،بعض نے اس دھونے کو مطلقًافرض مانا۔بعض نے صرف سونے کے بعد۔اور بعض نے اس پانی کو نجس مانا جس میں اس طرح ہا تھ ڈال دیاجائے۔احناف کے نزدیک یہ دھونا مطلقًا سنت وضو ہے۔خواہ سو کر اٹھے یا نہ،یا سونے سے پہلے ڈھیلے سے استنجاء کیا ہویا نہ،تہبند باندھا ہو یا نہ کیونکہ ہاتھ کا وہاں لگنا علتِ حکم نہیں،حکمت حکم ہے۔علت و حکمت کا فرق خوب دھیان میں رکھنا چاہیئے۔خیال رہے کہ نیند یا حدث ہے پیشاب کی طرح،یا سبب حدث ہے مباشرت کی طرح،ورنہ پیشاب کے بعد یہ ہاتھ دھونا فرض،نہ مباشرت کے بعد،تو نیند کے بعد کیوں فرض ہوگا۔