أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَـهُ الۡهُدٰى وَ يَـتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيۡلِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصۡلِهٖ جَهَـنَّمَ‌ ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا  ۞

ترجمہ:

اور جو شخص ہدایت کے ظاہر ہونے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور (تمام) مسلمانوں کے راستہ کے خلاف چلے تو ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرا اور اس کو جہنم میں داخل کردیں گے اور وہ کیسا برا ٹھکانا ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جو شخص ہدایت کے ظاہر ہونے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور (تمام) مسلمانوں کے راستہ کے خلاف چلے تو ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرا اور اس کو جہنم میں داخل کردیں گے اور وہ کیسا برا ٹھکانا ہے۔ (النساء : ١١٥) 

طعمہ بن ابیرق (چوری کرنے والے منافق) کا انجام۔

علامہ ابوالفرج عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) ‘ قتادہ اور ابن زید وغیرہ نے کہا ہے کہ جب قرآن مجید نے طعمہ بن ابیرق کی تکذیب کردی اور اس کے ظلم کا بیان کیا ‘ تو اسے اپنی جان کا خطرہ اور رسوائی کا خوف ہوا پھر وہ بھاگ کر مکہ چلا گیا ‘ اور مشرکین سے جا ملا ‘ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ‘ مقاتل نے کہا کہ طعمہ مکہ پہنچ کر حجاج بن علاط سلمی کے ہاں ٹھیرا ‘ اس نے طعمہ کو اچھی طرح ٹھہرایا ‘ طعمہ کو یہ پتا چلا کہ حجاج کے گھر میں سونا ہے ‘ اس نے رات کو اٹھ کر گھر کی دیوار میں سوراخ کیا ‘ گھروالوں کو معلوم ہوگیا انہوں نے اس کو موقع پر پکڑ لیا ‘ انہوں نے اس کو سنگسار کرنے کا ارادہ کیا لیکن حجاج کو حیاء آئی کیونکہ وہ اس کا مہمان تھا ‘ پھر گھر والوں نے اس کو چھوڑ دیا ‘ وہ وہاں سے نکل کر بنو سلیم کے علاقہ میں چلا گیا اور وہاں ان کے بت کی پرستش کرنی شروع کردی اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ 

(آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ الآیہ “۔ 

ترجمہ : اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو اس سے کم (گناہ) ہو اسے جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا۔ 

اور بعض روایات میں ہے کہ وہ تاجروں کے ساتھ نکل گیا اور وہاں اس نے کوئی چیز چرائی ‘ انہوں نے اس کو سنگسار کیا حتی کہ قتل کردیا ‘ ایک روایت میں ہے کہ وہ ایک کشتی میں سوار ہوا وہاں اس نے کچھ مال چرایا اور پکڑا گیا پھر اس کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ (زادالمیسر ج ٢ ص ٢٠٠‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

یہ آیت طعمہ بن ابیرق کا مصداق ہے کیونکہ اس نے چوری کی تھی جس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں تھا اور جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن مجید کے ذریعہ اس کی چوری کی خبر دے دی تو اس کو شرح صدر ہوگیا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے نبی ہیں اور قرآن مجید اللہ کا کلام ہے اور تمام مسلمان جس دین پر ہیں وہ سچا دین اسلام ہے ‘ اس کے باوجود اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف کیا ‘ اور تمام مسلمانوں کے خلاف طریقہ کو اختیار کیا اور اسلام کو چھوڑ کر شرک اور بت پرستی کو اپنا لیا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ جس گمراہی میں پھرا ہے ہم اس کو اسی گمراہی میں پھیر دیں گے ‘ یعنی اس کو اسی شرک اور بت پرستی میں رہنے دیں گے اور اس کو جہنم میں داخل کردیں گے۔ 

من یشاقق الرسول “۔ الآیہ کو منسوخ قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ 

بعض علماء نے کہا ہے کہ جب مشرکین کو قتل کرنے کے متعلق سورة توبہ میں آتی نازل ہوئی اور خصوصا مرتدین کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تو اس آیت کا حکم منسوخ ہوگیا (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٣١٣) لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں کوئی حکم نہیں بیان کیا گیا بلکہ طعمہ بن ابیرق اور اس جیسے لوگوں کو ان کی اختیار کردہ گمراہی میں رکھنے کی خبر دی گئی ہے اور نسخ احکام (مثلا امر اور نہی) میں جاری ہوتا ہے اخبار میں جاری نہیں ہوتا ‘ آیت سیف سے اس آیت کو منسوخ قرار دینے کا قول تب صحیح ہوتا جب اس آیت میں ان کو قتل نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہو ‘ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ 

اجماع کا حجت ہونا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معصوم ہونا اور دیگر مسائل : 

یہ آیت اجماع کے حجت ہونے پر دلیل ہے ‘ امام شافعی (رح) سے پوچھا گیا کہ قرآن مجید کی کون سی آیت اجماع کے حجت ہونے پر دلالت کرتی ہے :؟ تو انہوں نے کہا میں نے قرآن مجید کو تین سو بار پڑھا تو میں نے اس آیت کو اجماع کے حجت ہونے دلیل پایا (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٣١٣) ان کی دلیل کا بیان یہ ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ تمام مسلمانوں کے طریقہ کو چھوڑنا حرام ہے لہذا تمام مسلمانوں کے طریقہ پر عمل کرنا واجب ہوا ‘ نیز اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام گناہوں سے معصوم ہیں صغیرہ ہوں یا کبیرہ ‘ سہوا ہوں یا عمدا ‘ صورۃ ہوں یا حقیقۃ ‘ کیونکہ گناہ کے خلاف کرنا واجب ہے اور اس آیت کی رو سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف کرنا حرام ہے ‘ نیز اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کرنا واجب ہے ‘ نیز اس آیت میں ہدایت کے واضح ہونے کے بعد اس کی مخالفت کو حرام فرمایا ہے اور ہدایت نظر اور استدلال سے واضح ہوتی ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ عقائد کی تصحیح کے لیے نظر اور استدلال سے کام لینا واجب ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 115