*…………………اور جوتا چل گیا*

📝 غلام مصطفےٰ نعیمی

مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

gmnaimi@gmail.com

کل(6 مارچ2019) کو کبیر کی نگری “سَنت کبیر نگر” میں بی جے پی ایم پی “شَرَد تِرپَاٹھی”نے اپنی ہی پارٹی کے ایم ایل اے “راکیش بگھیل”پر اچانک “جوتا اسٹرائک” کردی.اور “دَس کا دَم” دکھاتے ہوئے گنتی کے “دس کرارے جوتے” مار کر چہرے کا جغرافیہ بدل دیا.

“جوتوں سے مرمّت” کرانے کے بعد وِدَھایک جی کو جوتا نکالنے کا موقع تو نہ مل سکا مگر ہاتھ سے ہی کام لیتے ہوئے انہوں نے بھی ایک “کرار جھاپڑ” رسید کیا.دو چار اونے پونے ہاتھ بھی پڑے مگر وہ نشانے سے دور تھے. اتنے میں بیچ بچاؤ والوں نے راکیش جی کے “بدلہ ابھیان” کو بیچ راستہ میں روک دیا.

“جوتا اسٹرائک” کرنے والے مہاشے “پنڈت جی” ہیں.جنہیں “وِدوان” مانا جاتا ہے. لیکن کل پنڈت جی نے شاستروں کی تعلیم “جوتے کی نوک پر” رکھتے ہوئے ہندوستانی تہذیب کا جنازہ دھوم دھام سے نکالا. انہیں”کبیر جی” کی تعلیمات کا بھی خیال نہیں آیا,کبیر نے کہا تھا:

پَوتھی پڑھی پڑھی جَگ مُوا,پنڈت بَھیَا نہ کویے

ڈھائی آکھر پریم کا, پڑھے سو پنڈت ہویے

یعنی بڑی بڑی کتابیں پڑھ کر لوگ دنیا سے چلے گئے مگر کوئی پنڈت(عالم) نہ ہوسکا.

اگر کوئی پیار کے ڈھائی لفظ پڑھ لے وہی اصلی پنڈت(عالم)ہے.

مگر “پنڈت تِرپَاٹھی” نے “پریم درشن” کو پرے پھینک ودھایک جی کو”جوتا درشن” کراتے ہوئے یہ اعلان کر دیا:

بات میری نہ تونے گر مانی 

تجھ کو دس جوتے حقہ کا پانی

امید کی جاتی ہے کہ اپوزیشن والے بی جے پی لیڈران کی”جوتا اسٹرائک” کا ثبوت نہیں مانگیں گے. گواہان میں یوپی کے منتری “آسوتوش ٹنڈن” ڈی ایم,اور کئی اہم عہدے داران موجود تھے.

*مودی ہے تو ممکن ہے*

کسی زمانے میں “سیاست” کو انتہائی خشک اور بورنگ سمجھا جاتا تھا.لیکن مودی جی کی آمد نے ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے. اب مودی جی کے ورکرز نیوز چینلز سے میٹنگس تک گالیوں کے ساتھ ساتھ لات گھونسوں اور جوتم پیزاری سے عوام کو اچھی تفریح مہیا کرا ہیں. کیا اب سے پہلے یہ ممکن تھا؟

*مگر اب مودی ہے تو ممکن ہے.*

“جوتیوں میں دال بنٹنے” کے اس یادگاری موقع پر ہم اتنا اکبر الہ آبادی کی زبان میں اتنا ہی کہہ سکتے ہیں:

بُوٹ ڈاسن نے بنایا،میں نے ایک مضموں لکھا

ملک میں مضموں نہ پھیلا اور جوتا چل گیا

📝 غلام مصطفیٰ نعیمی

جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام دہلی

29 جمادی الثانی 1440ھ

7 مارچ 2019 بروز جمعرات

*جوتیکل اسٹرائک لنک*👇