حدیث نمبر :375

عبداﷲ ابن زید ابن عاصم سے کہا گیا ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے تو آپ نے پانی منگایاپھراپنے ہاتھوں پرڈالا دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے۲؎ پھر کلی کی اور ناک جھاڑی(تین بار)پھر تین بار منہ دھویاپھرہاتھ دوبارکہنیوں تک دھوئے پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا کہ انہیں آگے پیچھے لے گئے سر کے اگلے حصے سے شروع کیا پھر انہیں گدی تک لے گئے پھر لوٹا لائے حتی کہ اسی جگہ لوٹ آئے جہاں سے شروع کیا تھا۳؎ پھر اپنے پاؤں دھوئے ۴؎(مالک و نسائی)اورابوداؤد کی روایت بھی اسی طرح ہے جیسے جامع والے نے ذکر کیا ۵؎

شرح

۱؎ آپ انصاری مازنی ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا کرتے تھے۔عبداﷲ ابن زید ابن عبداﷲ دوسرے ہیں وہ اذان والے کہلاتے ہیں۔مشہور یہ ہے کہ آپ نے حضرت وحشی کے ساتھ مل کر مسلیمہ کذاب کوقتل کیا،آپ جنگ احد میں حضور کے ساتھ رہے،جنگ حرہ میں ۷۳ھ ؁شہید ہوئے۔

۲؎ دوبار ہاتھ دھونا بیان جواز کے لئے ہے تاکہ معلوم ہو کہ اس طرح بھی وضو ہوجاتا ہے ورنہ تین بار ہاتھ دھونا سنت ہے کیونکہ دوسری روایت میں ہے کہ حضور نے تین باراعضاءدھوکرفرمایا کہ جو اس پر زیادتی کمی کرے اس نے برا کیا،حضرت عبداﷲ نے صرف اعمال وضو کا ذکر فرمایااسی لیے بسم اﷲ یا نیت کا ذکر نہ کیا نہ اعضاء کی دعاؤں کا،مسواک وضو سے خاص نہیں اورموقعوں پر بھی ہوتی ہے اس لئے اس کا ذکر بھی نہ فرمایا۔(مرقاۃ)

۳؎ ظاہر یہی ہے کہ سر شریف کا مسح ایک بار ہی کیا تین بارمسح سے سر دھلے گا اور سر کا دھونا سنت نہیں۔خیال رہے کہ چہارم سر کا مسح فرض ہے اور پورے سر کا مسح سنت ہے،یہاں مسح سنت کا ذکر ہے۔ہر ہاتھ کی تین انگلیاں کھوپڑی کے اگلے حصہ پر رکھے پھر آخر سر تک لے جائے واپسی میں یہ انگلیاں علیحدہ کرکے صرف ہتھیلیاں سر کے دونوں طرف لگائے اور آگے کو کھینچ لائے،یہ ہی یہاں مراد ہے۔کلمہ کی انگلی سے اندرون کان کا مسح کرے اور انگوٹھے سے بیرون کا،مسح سر کا طریقہ مستحب یہ ہی ہے۔

۴؎ مع ٹخنوں کے تین بار،جیسا کہ دوسری روایت میں ہے،لہذایہ حدث بعض لحاظ سے مجمل ہے۔

۵؎ یعنی ابن اثیر نے جو جامع الاصول کے مؤلف ہیں جس میں صحاح ستہ کی احادیث جمع فرمائی ہیں۔اس عبارت میں مصنف پر اعتراض ہے کہ انہوں نے پہلی فصل میں وہ روایت نقل فرمائی جومسلم وبخاری کی نہیں۔