أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَّـعَنَهُ اللّٰهُ‌ ۘ وَقَالَ لَاَ تَّخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِكَ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا ۞

ترجمہ:

اللہ نے اس پر لعنت کی ‘ اور (شیطان نے) کہا میں تیرے بندوں میں سے ضرور مقرر حصہ لوں گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اللہ نے اس پر لعنت کی ‘ اور (شیطان نے) کہا میں تیرے بندوں میں سے ضرور مقرر حصہ لوں گا۔ (النساء : ١١٨) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ شیطان لعنہ اللہ نے کہا میں ضرور تیرے بندوں میں سے ایک مقدار معین کو اپنا لوں گا اور یہ وہ لوگ ہیں جو شیطان کے وسوسوں کو قبول کریں گے ‘ اور اس کی اتباع کریں گے اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کے متبعین کم لوگ ہوں گے کیونکہ ” من “ تبعیض کے لیے آتا ہے حالانکہ شیطان کے متبعین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بہت کم ہیں ‘ کیونکہ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لاتبعتم الشیطان الا قلیلا “۔ (النساء : ٨٣) 

ترجمہ : اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم (سب) شیطان کی پیروی کرلیتے سوا قلیل لوگوں کے۔ 

نیز اللہ تعالیٰ نے شیطان سے حکایت کرتے ہوئے فرمایا : 

(آیت) ” قال ارء یتک ھذا الذی کر مت علی لئن اخرتن الی یوم القیامۃ لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا “۔ (بنواسرائیل : ٦٢) 

ترجمہ : اور (شیطان نے) کہا بھلا دیکھو تو ! جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے ‘ اگر تو مجھے قیامت تک کی مہلت دے دے تو میں اس (آدم) کی اولاد کو ضرور جڑ سے اکھاڑ دوں گا سوا قلیل لوگوں کے “۔ 

ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ قلیل انسانوں کے سوا سب شیطان کے پیروکار ہیں ‘ اور زیر تفسیر آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیروکار بعض ہیں ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ لاتعداد فرشتے اللہ کے عباد مخلصین ہیں اور ان کے اعتبار سے شیطان کے متبعین بعض ہی ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 118