أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقًّا‌ ؕ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ہم ان کو عنقریب ان جنتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں ‘ وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ کا وعدہ حق ہے اور اللہ سے زیادہ سچا کس کا قول ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ہم ان کو عنقریب ان جنتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں ‘ وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ کا وعدہ حق ہے اور اللہ سے زیادہ سچا کس کا قول ہے۔ (النساء : ١٢٢) 

اللہ تعالیٰ کا اسلوب ہے کہ وعید کے بعد وعد کا ذکر فرماتا ہے اور کافروں کے بعد مومنوں کا ‘ اور بدکاروں کے بعد نیکوکاروں کا اور شیطان کے جھوٹے وعدہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے وعدہ کا ذکر فرمایا :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 122