أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ‌ ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡـطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

وہ (شیطان) ان سے وعدے کرتا ہے اور ان کے دلوں میں آرزوئیں ڈالتا ہے اور شیطان ان سے جو وعدے کرتا ہے وہ صرف دھوکہ ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : شیطان ان سے وعدے کرتا ہے اور ان کے دلوں میں آرزوئیں ڈالتا ہے اور شیطان ان سے جو وعدے کرتا ہے وہ صرف دھوکہ ہیں۔ (النساء : ١٢٠) 

شیطان کے کیے ہوئے وعدہ کے غرور ہونے کا بیان : 

غرور (دھوکا) کا معنی ہے انسان کسی چیز کو لذیذ اور نافع گمان کرے اور وہ درحقیقت اس کے لیے بہت مضر اور تکلیف دہ ہو ‘ اس کی مثال یہ ہے کہ شیطان انسان کے دل میں یہ ڈالتا ہے کہ اس کی عمر لمبی ہوگی ‘ اور دنیا میں اس کا مطلوب اور مقصود حاصل ہوجائے گا اور وہ اپنے دشمنوں کو مغلوب کرے گا ‘ کیونکہ بعض اوقات اس کی عمر لمبی نہیں ہوتی ‘ اور بعض دفعہ اس کی عمر لمبی ہوتی ہے لیکن اس کا مقصود حاصل نہیں ہوتا اور کبھی اس کا مقصود حاصل ہوجاتا ہے لیکن اچانک اس کو کوئی سخت بیماری آلیتی ہے اور وہ اپنے مقصود سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا ‘ اور یا اچانک وہ مرجاتا ہے ‘ اور کبھی شیطان اس کے دل میں یہ آرزوئیں ڈالتا ہے کہ جو کچھ ہے یہی دنیا ہے نہ قیامت آنی ہے نہ حساب ہوگا نہ جنت اور دوزخ ہوگی اس لیے وہ انسان کو دنیا کی رنگینیوں اور عیش و عشرت میں منہمک کردیتا ہے اور جب قیامت آیت ہے تو وہ ایمان اور نیک اعمال سے تہی دامن ہوتا ہے اور کبھی شیطان انسان سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ اس کے راستوں پر چلتا رہے وہ اس کو آخرت میں اللہ کے عذاب سے بچا لے گا اور جب آخرت میں جزاء اور سزاء کا فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا : ” اور فیصلہ ہو چکنے کے بعد شیطان کہے گا اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ حق تھا اور میں نے جو تم سے وعدہ کیا سو میں نے اس کے خلاف کیا ‘ اور میرا تم پر اس کے سوا اور کوئی زور نہ تھا کہ میں نے تم کو دعود دی اور تم نے میری دعوت قبول کرلی سو تم مجھ کو ملامت نہ کرو اور اپنے آپ کو ملامت کرو ‘ نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچنے والا ہوں اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے ہو ‘ تم نے اس سے پہلے جو مجھے (اللہ کا) شریک بنایا تھا میں نے اس سے انکار کیا ‘ بیشک ظالموں ہی کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 120