کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 2 رکوع 2 سورہ البقرہ آیت نمبر148 تا 152

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِﳳ-اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۱۴۸)

اور ہر ایک کے لیے توجہ کی ایک سمت ہے کہ وہ اسی کی طرف منہ کرتا ہے تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں تم کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا (ف ۲۷۱) بےشک اللہ جو چاہے کرے

(ف271)

روز قیامت سب کو جمع فرمائے گا اور اعمال کی جزا دے گا۔

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ-وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَؕ-وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ(۱۴۹)

اور جہاں سے آؤ (ف۲۷۲) اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور وہ ضرور تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں

(ف272)

یعنی خواہ کسی شہر سے سفر کے لئے نکلو نماز میں اپنا منہ مسجد حرام (کعبہ) کی طرف کرو۔

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ-وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗۙ-لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌۗۙ-اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْۗ-فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْۗ-وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ(۱۵۰)

اور اے محبوب تم جہاں سے آؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو کہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے (ف۲۷۳) مگر جو ان میں ناانصافی کریں (ف۲۷۴) توان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور یہ اس لیے ہے کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ

(ف273)

اور کفار کو یہ طعن کرنے کا موقع نہ ملے کہ انہوں نے قریش کی مخالفت میں حضرت ابراہیم واسمٰعیل علیہما السلام کا قبلہ بھی چھوڑ دیا باوجود یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں ہیں اور ان کی عظمت و بزرگی مانتے بھی ہیں۔

(ف274)

اور براہ عناد بیجا اعتراض کریں۔

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ(۱۵۱)

جیسے ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں سے (ف۲۷۵) کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا (ف۲۷۶) اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے (ف۲۷۷) اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا

(ف275)

یعنی سید عالم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

(ف276)

نجاستِ شرک و ذنوب سے ۔

(ف277)

حکمت سے مفسرین نے فقہ مراد لی ہے۔

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠(۱۵۲)

تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا (ف۲۷۸) اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو

(ف278)

ذکر تین طرح کا ہوتا ہے۔ (۱) لسانی (۲) قلبی(۳) بالجوارح۔ ذکر لسانی تسبیح، تقدیس ،ثناء وغیرہ بیان کرنا ہے خطبہ توبہ استغفار دعا وغیرہ اس میں داخل ہیں۔ ذکر قلبی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا یاد کرنا اس کی عظمت و کبریائی اور اس کے دلائل قدرت میں غور کرنا علماء کا استنباط مسائل میں غور کرنا بھی اسی میں داخل ہیں۔

ذکر بالجوارح یہ ہے کہ اعضاء طاعتِ الہٰی میں مشغول ہوں جیسے حج کے لئے سفر کرنا یہ ذکر بالجوارح میں داخل ہے نماز تینوں قسم کے ذکر پر مشتمل ہے تسبیح و تکبیر ثناء و قراء ت تو ذکر لسانی ہے اور خشوع و خضوع اخلاص ذکر قلبی اور قیام، رکوع و سجود وغیرہ ذکر بالجوارح ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم طاعت بجالا کر مجھے یاد کرو میں تمہیں اپنی امداد کے ساتھ یاد کروں گا صحیحین کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر بندہ مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو ایسے ہی یاد فرماتا ہوں اور اگر وہ مجھے جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں۔قرآن و حدیث میں ذکر کے بہت فضائل وارد ہیں اور یہ ہر طرح کے ذکر کو شامل ہیں ذکر بالجہر کو بھی اور بالاخفاء کو بھی۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.