*ہندوستانی سیاست اور مسلمان*

غلام مصطفےٰ نعیمی

مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

gmnaimi@gmail.com

کھیل کے میدان میں فٹبال پر سارے کھیل کا دارومدار ہوتا ہے.مگر!کتنی عجیب بات ہے کہ جس کی وجہ سے ہار جیت طے ہوتی ہے. اسی کو سب سے زیادہ ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں. جو ٹیم ہارتی ہے وہ بھی فٹبال کو ٹھوکر لگاتی ہے اور جیتنے والی ٹیم ہارنے والوں سے زیادہ ٹھوکریں مارتی ہیں. ہار ہو یا جیت!!! فٹبال کے نصیب میں ٹھوکریں ہی لکھی ہیں.

کھیل کے میدان پر جو حال فٹبال کا ہوتا ہے میدان سیاست میں وہی حال مسلمان کا بھی ہے. اسی مسلمان کے دَم سے “سیاسی کھیل” کی بہاریں ہیں. مگر پھر بھی یہ قوم ٹھوکروں میں چلی آرہی ہے. فاتح پارٹی ہو یا مفتوح!

مسلم کو ہر طرف سے ٹھوکریں ہی ملتی ہیں.

ستر سال گزر جانے کے باوجود قوم مسلسل میدان سیاست کی فٹبال بنی ہوئی ہے اور لگاتار ٹھوکریں کھا رہی ہے.

*ہندوستان کا سیاسی منظرنامہ*

1947ء میں آزادی تو ملی مگر تقسیم وطن نے مسلمانان ہند کی قوت بھی تقسیم کردی.مسلم لیڈر شپ کا ایک بہت بڑا حصہ پاکستان منتقل ہوگیا ایسے وقت میں ضرورت تھی کہ باقی ماندہ مسلمانوں کی مضبوط سیاسی قوت ہو تاکہ اغیار سے اپنے دین ومذہب کی حفاظت کی جاسکے !!!

مگر افسوس کہ اکابرین اہل سنت نے اپنے مدارس وخانقاہ کو زیادہ ضروری سمجھا اور اپنی کنج خمولیوں میں گوشہ نشین ہوگئے !!

دیوبندی جماعت نے کانگریس کے حکم پر لکھنؤ میں(1948ء)میں یہ اعلان کیا:

“جو ہونا تھا سو ہوگیا, لیکن اب ہندوستانی مسلمانوں کو سیاسی پارٹی کی کوئی ضرورت نہیں ہے.جو حضرات الیکشن لڑنا چاہتے ہیں وہ انفرادی یا کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں. “

یہ وہ اعلان تھا جس نے مسلمانوں کو سیاسی یتیم بنا دیا.اس حادثہ فاجعہ کے بعد کانگریس سے “بیعت غلامی”مسلمانوں کی مجبوری بن گئی کیوں کہ کانگریس کے علاوہ اس وقت صرف ایک ہی پارٹی “ہندو مہاسبھا” موجود تھی جس کو بی جے پی کی”مدر پارٹی” کہا جاسکتا ہے.

اس کے بعد ملکی منظر نامہ پر قریب پچاس سال کانگریس لیڈر شپ کا بلا شرکت غیرے راج رہا.اس عرصے میں

💡مسلم اکثریتی شہروں میں منصوبہ بند فسادات ہوئے.

💡مضبوط مسلم اقتصادی شہروں علی گڑھ، مرادآباد، فیروزآباد وغیرہ میں سازشاً کاروبارختم کئے گئے.

💡منصوبہ بند سازش کے تحت شہر کے اچھے علاقوں سے نکل کر نالوں اور کوڑا گھروں کے آس پاس بسنے پر مجبور کردیا گیا. ہر گزرتے دن کے ساتھ تعلیم روزگار اور عزت ختم ہوتی گئی مگر “کانگریس پرستی” کا جو ٹیکا مسلم کانگریسی لیڈران نے لگا دیا تھا اس کا اثر کسی نہ کسی صورت باقی رہا اور مسلمان کانگریسی گاڑی کے بیل بنے رہے.

1980ء کے بعد علاقائی سطح پر پس ماندہ قوموں کو اپنے حقوق کا خیال آیا اور انہوں نے لیڈران بنائے اور عزت دارانہ مقام حاصل کیا !!!

مگر مسلمان سیاسی پارٹیوں کے نعرے لگانے اور دری بچھانے جیسے بڑے کاموں میں ہی مصروف رہے.

*مسلم لیڈرشپ پر ایک نظر*

ملکی سطح پر مسلمانوں کی سیاسی قیادت کے نام پر کیرل کی مسلم لیگ, آسام کی یو ڈی ایف اور تلنگانہ کی ایم آئی ایم کے علاوہ کیا ہے ؟؟

جبکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد والے صوبوں یوپی,بہار,بنگال دہلی,راجستھان,ایم پی, مہاراشٹر,وغیرہ میں قیادت کا خانہ صفر ہے.

ایسا نہیں ہے کہ ان صوبوں مسلم لیڈرشپ نہیں ہے؟

لیڈرشپ تو ہے مگر وہ سیاسی اعتبار سے دوسروں کی ذہنی غلام اور انہیں کے پیچھے ہے.

💠 یوپی میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد(قریب چار کروڑ) ہے لیکن اس صوبے میں مسلم لیڈرشپ کا مکمل فقدان ہے.یہاں 8 فیصد والے یادو لیڈر اور 20 فیصد مسلم قوم ان پیچھے ہے.

💠 سیاسی یتیمی کا عالم یہ یے کہ 16 ویں پارلیمانی انتخاب میں چار کروڑ مسلمان ایک مسلم ایم پی تک نہیں بنا پائے لیکن 8 فیصد یادووں نے اپنے خاندان سے ہی پانچ لوگوں کو ایم پی بنالیا.

💠 3.5فیصد آبادی والی کُرمی برادری(اپنا دَل) نے اپنے بینر پر 9 ایم ایل اے بنا لئے مگر مسلم پارٹی ایک ایم ایل اے تک نہیں جتا سکیں.

💠 بہار میں 18 فیصد مسلمان دوسروں کے پیچھے چلتا ہے جبکہ 2.5 فیصد والی کُرمی نیتا نیتیش کمار 15 سال سے وزیر اعلی چلے آرہے ہیں.

💠 بنگال میں برہمن محض 3فیصد ہیں مگر صوبے کی تینوں پارٹیوں(ٹی ایم سی, کمیونسٹ, کانگریس) کی ٹاپ لیڈرشپ پر انہیں کا قبضہ ہے جبکہ 30 فیصد مسلمان ان کے لئے زندہ باد کے نعرے لگاتا ہے.

💠 راجستھان میں 11 فیصد مسلم ہیں مگر 5 فیصد مالی اور راجپوت قوم کے افراد وزیر اعلیٰ بنتے ہیں.

💠 ایم پی میں 9 فیصد مسلم ہیں مگر مسلم قیادت صفر ہے ہاں کانگریس کے دو مسلم ایم ایل اے ہیں.

ملک کی ہر چھوٹی بڑی قوم نے اپنی قیادت اور مضبوط سیاسی حیثیت بنا کر اپنے حقوق حاصل کئے مگرمگر مسلمان سیاسی پارٹیوں کے نعرے لگانے اور دری بچھانے جیسے بڑے کاموں میں ہی مصروف رہے اور ابھی تک اس مصروفیت سے فارغ نہیں ہوسکے ہیں. اللہ تعالیٰ انہیں فراغت عطا فرمائے.

📝 غلام مصطفیٰ نعیمی

جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام دہلی

مؤرخہ 28 جمادی الثانی 1440ھ

6 مارچ 2019 بروز بدھ