*درس 035: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مَطْلَبٌ فِي السِّوَاكِ

(وَمِنْهَا) السِّوَاكُ لِمَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ»، وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ كُلِّ وُضُوءٍ

مسواک کا بیان

وضو کی دوسری سنت مسواک کرنا ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: اگر میں اپنی امت پر مشقت محسوس نہ کرتا تو انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ہر وضو کے وقت مسواک کا حکم دیتا۔

وَلِأَنَّهُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ عَلَى مَا نَطَقَ بِهِ الْحَدِيثُ «السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، وَمَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ» عَزَّ وَجَلَّ.

مزید یہ کہ مسواک منہ کی پاکیزگی کاذریعہ ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے: مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب عزوجل کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہے۔

وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالسِّوَاكِ، حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُدْرِدَنِيَ».

اور نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: جبریل نے مجھے مسواک کی تاکید کی حتی کہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں اپنے دانت شہید نہ کردوں۔

وَرُوِيَ أَنَّهُ قَالَ «طَهِّرُوا مَسَالِكَ الْقُرْآنِ بِالسِّوَاكِ»

اور حضور ﷺ سے ہی یہ ارشاد منقول ہےکہ فرمایا: قرآن کے راستوں(جن سے قرآن پڑھاجاتا ہے) کو مسواک کے ذریعہ پاک کرو۔

وَلَهُ أَنْ يَسْتَاكَ بِأَيِّ سِوَاكٍ كَانَ رَطْبًا أَوْ يَابِسًا، مَبْلُولًا أَوْ غَيْرَ مَبْلُولٍ، صَائِمًا كَانَ أَوْ غَيْرَ صَائِمٍ، قَبْلَ الزَّوَالِ أَوْ بَعْدَهُ؛ لِأَنَّ نُصُوصَ السِّوَاكِ مُطْلَقَةٌ.

اور وضو کرنے والے کی مرضی ہے کہ وہ جس مسواک سے چاہے دانت صاف کرے، چاہے وہ تازہ ہو یا سوکھی ہوئی ہو، گیلی ہو یا نہ ہو، روزہ دارہو یا غیر روزہ دار، زوال سے پہلے ہو یا زوال کے بعد، اس لئے کہ مسواک کے حکم پر مشتمل نصوص (احادیث) مطلق (بغیر قید کے) ہیں۔

وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ يُكْرَهُ السِّوَاكُ بَعْدَ الزَّوَالِ لِلصَّائِمِ لِمَا يُذْكَرُ فِي كِتَابِ الصَّوْمِ.

اور امام شافعی کے نزدیک روزہ دار کے لئے مکروہ ہے کہ زوال کے بعد مسواک کرے، اسے کتاب الصوم میں تفصیل سے ذکر کیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

*سِواک اور مِسواک میں کیا فرق ہے۔۔؟*

سِواک کبھی تو *فعل* کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یعنی دانتوں کو رگڑ کر یا مَل کر صاف کرنے کا عمل۔

اور کبھی *اسم* کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، یعنی وہ لکڑی جس کے ذریعے دانتوں کو مَلا یا رگڑا جاتا ہے۔

اس معنی کے لحاظ سے سِواک اور مسواک دونوں اس لکڑی کو کہتے ہیں جس کے ذریعے دانتوں کو رگڑ کر صاف کیا جاتا ہے۔

مسواک کا حکم اس لئے دیا گیا ہے تاکہ منہ کی صفائی ہوسکے اور یہ بہت ضروری ہے جیسا کہ علامہ کاسانی نے صحیح بخاری شریف کی حدیث نقل فرمائی کہ مسواک منہ کی صفائی کے لئے ہے نیز اسکے جسمانی اور روحانی فوائد بھی کثیر ہیں۔

*مسواک کسے کہتے ہیں۔۔؟*

مسواک درخت کی لکڑی ہوتی ہے جس کے ذریعے دانتوں کو رگڑ کر صاف کیا جاتا ہے تاکہ منہ کی صفائی ہوسکے۔

اور مسواک کسی کڑوی لکڑی کی ہونی چاہئے جیسے پیلو، زیتون یا نیم وغیرہ اس لئے کہ اس سے بلغم دور اورسینہ صاف ہوجاتا ہے۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح)

یہاں سوال قائم ہوتا ہے کہ کیا ٹوتھ برش، منجن وغیرہ مسواک کے قائم مقام ہے اور کیا اس سے بھی مسواک کی سنت ادا ہوجاتی ہے۔۔؟

اس کا جواب یہ ہے کہ مسواک کا استعمال سنت ہے لیکن دو صورتوں میں ٹوتھ برش، انگلی وغیرہ مسواک کے قائم مقام بن سکتی ہیں۔

(1) مسواک موجود نہ ہو (2) مسواک کے استعمال سے دانتوں کو نقصان پہنچتا ہو. (رد المحتار، فتاوی رضویہ وغیرہ)

لیکن مسواک کی موجودگی میں مذکورہ چیزیں قائم مقام نہیں بنیں گی، منہ کی صفائی تو ہوجائے گی مگر سنتِ مسواک ادا نہیں ہوگی۔

*مسواک وضو کی سنت ہے یا عام سنت ہے۔۔؟*

اس حوالے سے علماءکرام کے تین موقف ہیں؛

1- مسواک وضو کی سنت ہے

2- مسواک نماز کی سنت ہے

3- مسواک عام سنت ہے

ہماری کتبِ فقہ میں اسے وضو کی سنتوں میں بیان کیا جاتا ہے اور عام طور پر فقہاء احناف نے اسے وضو کی سنت شمار کیا ہے حتی کہ *متون* (یعنی فقہ حنفی کو بیان کرنے والی اصل کتابوں) میں بھی اسے وضو کی سنت میں بیان کیا ہے اور امام شافعی کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کیا جومسواک کو نماز کی سنت شمار کرتے ہیں۔۔۔مگریاد رکھیں،

“کسی سنت کو کسی شے کے ساتھ ذکر کردینے سے لازم نہیں آتا کہ وہ سنت اسی شے کے ساتھ خاص ہو بلکہ ممکن ہے کہ وہ دوسری شے کے ساتھ بھی سنت ہو۔”

آسان الفاظ میں یوں سمجھئے۔۔ روزہ دار اور معتکف کو فضول گوئی سے بچنا سنت ہے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ فضول گوئی سے بچنا ان دونوں کے ساتھ ہی سنت ہے بلکہ یہ عام حالات میں بھی سنت ہے ہاں روزہ دار اور معتکف کے لئے اس کی تاکید زیادہ ہوجاتی ہے۔

اسی طرح مسواک کرنا عام حالات میں بھی سنت ہے لیکن اسکے باوجود وضو کی بھی سنت ہے۔

اس پر تفصیلی گفتگو فتاوی رضویہ، کتاب الطہارۃ میں موجود ہے۔

*مسواک وضو سے پہلے کی جائے یا کلی کرتے وقت۔۔؟*

اس میں فقہاء احناف کے دو موقف ہیں:

(1) وضو شروع کرنے سے پہلے کی جائے۔۔ جیسا کہ علامہ کاسانی نے اس کو آغاز میں ذکر کیا ہے۔

(2) کلی کرتے وقت کی جائے۔۔ یہ امام ابن ہمام صاحبِ فتح القدیر وغیرہ کا موقف ہے۔

بعض فقہاء نے پہلے موقف کو ترجیح دی ہے کہ مسواک وضو سے پہلے کی سنت ہے اور بعض نے کلی کرتے وقت بتایا ہے۔

امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر بھی تفصیلی گفتگو کی ہے اور دلائل سے ثابت کیا ہے پہلا موقف ہی درست ہے اور دوسرے موقف پر پیش کئے جانے والے دلائل کمزور ہیں۔۔

لہذا مسواک *سنتِ قبلیہ* یعنی وضو سے پہلے کی سنت ہے اور علامہ کاسانی نے اسی لئے استنجا کے بعد مسواک کا ذکر فرمایا اور وضو کے آغاز میں اس سنت کو بیان فرمایا۔

*مسواک سنت ہے یا مستحب۔۔!*

اس میں بھی علماء کے دو موقف ہیں اور دونوں موقف کو صحیح قرار دیا جاتا ہے، لیکن اکثر فقہاء اسے سنت کہتے ہیں اور فقہ حنفی کے *متون* (یعنی فقہ حنفی کو بیان کرنے والی اصل کتابوں) میں بھی مسواک کو سنت بیان کیا گیا ہےاور قاعدہ یہ ہےکہ۔۔۔

“جب کسی مسئلہ میں دو موقف ہوں اور فقہاء کرام کا اختلاف ہو کہ کون سا قول صحیح ہے تو ایسی صورت میں *مُتُون* میں لکھے ہوئے موقف پر عمل کرنا لازم ہوتا ہے”

لہذا وضو سے پہلے مسواک کرنا سنت ہے۔۔

لیکن موکدہ اسی وقت بنے گی جب کہ منہ میں بدبو موجود ہو، اس لئے کہ منہ کی بدبو کا زائل کرنا لازم ہے اس سے فرشتوں کو ایذا ہوتی ہے۔

اور مختلف مواقع پر مسواک مستحب ہے جیسے دانت پیلے ہوں، لوگوں سے ملاقات ہو، عید کے دن وغیرہ ۔

احناف اور شوافع میں اختلاف ہے کہ روزہ دار زوال کے بعد مسواک کرسکتا ہے یا نہیں ہے، ہم احناف کا موقف ہے کہ کرسکتا ہے اس لئے کہ مسواک کے حکم پر جو احادیث ہیں وہ مطلق ہیں یعنی بغیر کسی قید کے ہیں لہذا ہر حالت میں مسواک کی جاسکتی ہے۔ اسکی تفصیل کتاب الصوم میں آئے گی۔

*ابو محمد عارفین القادری*