صلوۃ الاحتجاج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

کتب فقہ میں فرض نماز، واجب نماز جیسے وتر اسی طرح نفل نمازیں صلوۃ التوبہ صلوۃ الاستخارہ، تحیۃ المسجد تحیۃ الوضو، بارش کے لئے پڑھی جانے والی نماز صلوۃ الاستسقاء اور خوشی کے موقع پر پڑھی جانے والی صلوۃ الشکر اسی طرح صلوۃ الحاجات کی تفصیلات تو مل جائیں گی لیکن کل اسمبلی میں بطور احتجاج پڑھی جانے والی قابل فخر ” صلوۃ الاحتجاج” جیسی کسی نماز کا ہمارے فقہاء نے ذکر نہیں کیا، یعنی دوران بحث آپ قانونی جنگ اور اسمبلی کی کاروائی چھوڑ کر اسمبلی ہال سے متصل مسجد کو نظر انداز کرکے وہی ہال میں بطور احتجاج نماز شروع کردیں ایسی محیر العقول نماز کے جواز و عدم جواز کا ذکر رہنے دیتے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوئی قابل فخر کارنامہ ہے؟ اسمبلی قانونی جنگ لڑنے کی جگہ ہے، دوران بحث نماز شروع کردینا کچھ عجیب محسوس ہوا، اگر اسمبلی میں نماز پڑھنا کوئی کارنامہ ہوتا تو ضرور ماضی کے پارلیمنٹیرینز علماء یہ فریضہ ادا کرتے، نماز ایک مھتم بالشان عبادت ہے، یہ افراتفری میں بطور احتجاج کی جانے والی کوئی رسم نہیں، اور ایک اھم بات یہ بھی یاد رکھنے کی ہے کہ سیاسی اکھاڑے میں آپ بے موقع نماز شروع کردیں تو عین ممکن ہے سیاسی مخالفت کی وجہ سے لوگ نماز کے خلاف جملے کہہ کر کفرمیں مبتلا ہوجائیں العیاذباللہ، علماء کے ہر کام میں سنجیدگی اور متانت ہونی چاہیے، اسمبلی ھال میں نماز پڑھنے نہ پڑھنے کی بحث سے قطع نظر یہ فعل قابل فخر قرار نہیں دیا جاسکتا ، یاں اسے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور لوگوں کو متوجہ کرنے کی ایک کوشش کہا جاسکتا ہے، گزارش ہے کہ آپ قانونی جنگ قانونی طریقے اور قانونی رواج کے مطابق لڑیں نماز کو بطور احتجاج سیاسی مقاصد میں استعمال نہ کریں۔ بڑی مہربانی ہوگی۔

منقول۔